برِ صغیر کے نامور گیت نگار فیاض ہاشمیؔ پر ایک تحریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’ یہ راتیں یہ موسم یہ ہنسنا ہنسانا، مجھے بھول جانا انہیں نہ بھلانا‘

’ تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی‘

’ چلو اچھا ہوا تم بھول گئے، اک بھول ہی تھا میرا پیار او ساجنا‘

جیسے گیت لکھنے والے

طلعت محمود کو طلعت محمود بنانے والے

نگار ایوارڈ یافتہ اور فنکاروں کو تراشنے والے

فیاضؔ ہاشمی

( 18 اگست 1920 سے 29 نومبر 2011 )

فیاضؔ ہاشمی 18 اگت 1920 کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کلکتہ میں حاصل کی۔ آگے چل کر باقاعدہ ہومیو پیتھک ڈاکٹر بنے لیکن مطب نہیں کیا کیوں کہ میلان شاعری کی جانب تھا۔ بھارتی نامور موسیقار اُوم کَر پرَا ساد نیّر المعروف ’اؤ پی نیر‘ بھی مستند ہومیو ڈاکٹر تھے۔ اِن کی پریکٹس بہت ٹھیک ٹھاک تھی۔ فیاضؔ ہاشمی کے والد سید محمد حسین ہاشمی المتخلص دلگیرؔ، اچھے شاعر اور مدن تھیٹر لمیٹڈ کے ڈائریکٹر تھے۔ یہ لوگ کلکتہ میں حیات خان لین میں مشہورِ زمانہ ’ہندوستانی شیکسپئر‘ آغا حشرؔ کاشمیری کے پڑوسی تھے۔ ننھے فیاضؔ نے اپنے والد اور آغا حشرؔ کی ادبی بیٹھکوں سے بہت خوشگوار اثر لیا۔ ساتویں جماعت میں ہی 13 سال کی عمر میں یہ غزل کہی:

چمن میں غنچہ و گل کا تبسّم دیکھنے والو

کبھی تم نے حسیں کلیوں کا مُرجھانا بھی دیکھا ہے

اُسی زمانے میں مانے ہوئے گائک ماسٹر فدا حسین نے اِن کی لکھی ہوئی غزل ریکارڈ کرائی: ”قدر کسی کی ہم نے نہ جانی، ہائے محبت ہائے جوانی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “، اس غزل نے برِ صغیر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ پھر انہوں نے باقاعدہ مشاعروں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ 1935 میں فلموں سے وابستہ ہو گئے۔ ابتدا ہی سے ہندی اور اُردو زبان کے امتزاج سے ایک نیا انداز اپنایا جس کی وجہ سے ان کے گیتوں کو زبردست پذیرائی ملی۔

فیاض ؔہاشمی شاعری کے ساتھ ساتھ موسیقی میں بھی خاصی شُدبُد رکھتے تھے۔ اسی خصوصیت کی وجہ سے انہیں کم عمری میں ہی ڈَم ڈَم روڈ، جو اب جیسور روڈ ہے، پر واقع گراموفون کمپنی، ایچ ایم وی HMV کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ یہاں یہ 1943 سے 1948 تک رہے۔ یہاں ان کی ملاقات ایک بہت بڑے موسیقار، کمال گُپتا داس سے ہوئی اور جلد ہی ان دونوں کی جوڑی نے بہت سے لازوال نغمات تخلیق کیے۔ اس جوڑی نے جگ موہن، طلعت محمود، جوتھیکا رائے، پنکھج ملک اور ہیمنت کمار جیسے لوگوں کو موسیقی کی دنیا میں متعارف کروا کر بے پناہ شہرت کا حامل بنایا۔ جوتھیکا رائے ان ہی کی وجہ سے بھجن کی دیوی کہلائیں۔ 1941 میں فیاض ؔ ہاشمی ابھی بمشکل 21 برس کے تھے جب طلعت محمود کا پہلا گیت ریکارڈ ہوا:

سب دن ایک سا مان نہیں تھا

بن جاؤں گا کیا سے کیا میں

اس کا تو کچھ دھیان نہیں تھا

اس گیت کی دھن کمال گپتا داس کے بھائی سُبل داس گپتا نے بنائی۔ یہ بات کمال داس نے خود اپنے قریبی ساتھیوں کو پاکستان آنے پر بتائی کہ طلعت محمود کے شروع کے 2 گیتوں کی دھنیں ان کے بھائی سبل داس نے بنائیں۔ پھر اسی سال کمال داس گپتا کی موسیقی میں فیاضؔ ہاشمی کا گیت طلعت کی آواز میں ریکارڈ ہوا : ”تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “۔ یہ پورے برِ صغیر پر چھا گیا اور طلعت محمود کوبا ضابطہ گلو کار کی سند مل گئی۔ انہیں پہلے محض شوقیہ گلوکار سمجھا جاتا تھا۔ فلموں کے کرتے دھرتے ان کی آواز کو پلے بیک سنگنگ کے لئے قطعی غیر موزوں سمجھتے تھے۔ اس گیت کی بدولت وہ آسمانِ شہرت پر تو پہنچے سو پہنچے اب تو اُن پر قسمت او ر ’لکشمی‘ دونوں دیویاں مہربان ہو گئیں۔ اس طرح وہ کلکتہ فلمی صنعت میں بڑے کرو فر سے داخل ہو گئے۔

غیر منقسم ہندوستان کے تمام ریڈیو اسٹیشنوں سے گیت و غزل نشر ہوتے ہی رہتے تھے لیکن شاعر، موسیقار اور گلوکار کا نام نہیں لیا جاتا تھا۔ جب فیاضؔ ہاشمی کی مذکورہ غزل ریڈیو اسٹیشنوں سے دن میں کئی کئی بار نشر ہونے لگی تو لوگوں نے ریڈیو پر خطوط بھیجنے شروع کیے کہ یہ غزل کس نے لکھی ہے؟ ریڈیو حکام روزانہ ہزاروں خطوط دیکھ کر پریشان ہو گئے۔ پھر انہیں فیصلہ کرنا پڑا کہ شاعر کا نام بتایا جائے۔ اس طرح پورے غیر منقسم ہندوستان کے ریڈیو اسٹیشنوں سے فیاضؔ ہاشمی کی غزل کے ساتھ اُن کا نام بھی لیا جانے لگا اور ایک خوش گوار روایت قائم ہوئی پھر رفتہ رفتہ موسیقار اور گلوکار کے نام بھی گیتوں اور غزلوں کے ساتھ لئے جانے کی داغ بیل پڑ گئی۔ یہ ایک بہت اچھا کام ہوا۔ یوں موسیقاروں، شاعروں اور گلوکاروں پر بھی شہرت نے دروازے کھول دیے۔ فیاضؔ ہاشمی کی اس غزل کے گراموفون ریکارڈ نے فروخت کے بھی نئے ریکارڈ قائم کر دیے جس کی بنا پر انہیں ’گولڈن ڈِسک‘ سے نوازا گیا۔

فیاضؔ ہاشمی نے منتخب بنگالی لوک گیتوں کو اپنے گیتوں میں استعمال کیا اور برج بھاشا اور پوربی میں بھی گیت لکھے۔ کلکتہ میں گراموفون کمپنی میں اپنی ملازمت کے دوران نوخیز فیاضؔ ہاشمی کی شاعری میں سادگی اور بے ساختہ پن کی قاضی نذر الاسلام ( 1889 سے 1976 ) نے اِن الفاظ میں تعریف کی : ”تم مَن میں ڈوب کر مَن کا بھید نکالتے ہو۔ آسان شَبدھوں میں مشکل بات کہنابہت مشکل ہے“۔ قاضی نذر الاسلام بنگلہ دیش کے قومی شاعر ہیں۔

طلعت محمود کا گیت ”تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ بے انتہا مقبول ہوا جوطلعت محمود کی پہچان بن گیا۔ زندگی بھر یہ جب بھی کسی موسیقی کی محفل میں گئے اس گیت کی لازماً فرمائش کی گئی۔ طلعت محمود نے کئی مرتبہ اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ اگر فیاضؔ ہاشمی نہ ہوتے تو وہ کبھی ’طلعت محمو د‘ نہیں بن سکتے تھے۔ آج بھی کئی ایک شوقیہ گلوکار موسیقی کی محافل میں یہ گیت ضرورسناتے ہیں۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح آنجہانی آنند بخشی اور موسیقارلکشمی کانت نے 80 کی دہائی میں خود اِس خاکسار کو موسیقار نثاربزمی صاحب کے گھر، بمبئی سے ٹیلی فون پر بتایا : ”اگر سید نثار، یعنی نثار بزمی نہ ہوتے تو ہم کبھی بھی وہ نہیں بن سکتے تھے جو ہم آج ہیں ’‘ ۔

کلکتہ کی گراموفون کمپنی ایچ ایم وی کے یہاں ماہانہ 16 ریکارڈ بنا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ یہ 16 کے 16 ریکارڈ فیاض ؔہاشمی نے ہی لکھے جو بجائے خود ایک ریکارڈ ہے۔ کلکتہ ایچ ایم وی میں فیاضؔ ہاشمی کے لکھے اور کمال گپتا داس کی موسیقی میں بہت سے سدا بہار گیت آج بھی مقبول ہیں اور آل انڈیا ریڈیو سے اب بھی نشر ہو تے ہیں :

یہ گیت پنکھج ملک کی پہچان بنا:

یہ راتیں یہ موسم یہ ہنسنا ہنسانا

مجھے بھول جانا انہیں نہ بھلانا

یہ گیت ہیمنت کمار کے مقبو ل ترین گیتوں میں شمار ہوتا ہے :

بھلا تھا کتنا اپنا بچپن

دن بھر تو پیڑوں کے تلے رہتی تھی پسارے آنچل

اور میں ڈالوں سے پھینکا کرتا تھا توڑ کے پھل

مالی تھا بس ہمارا دشمن

جگ موہن کی آواز میں 1945 میں ریکارڈ ہونے والا مقبولِ زمانہ گیت:

دل دے کر درد لیا میں نے

تیرے نام کی خاطرسجنی

اپنے کو بدنام کیا میں نے

فیاضؔ ہاشمی کو 948 میں گراموفون کمپنی ڈھاکہ مرکز میں ریکارڈنگ منیجر بنا کر بھیج دیا گیا اور پھر 1951 میں لاہور مرکز میں تبادلہ ہو گیا۔ پاکستان میں فیاض ؔہاشمی نے کئی فنکاروں کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ جیسے گلوکارہ فریدہ خانم، انیقہ بانو، سائیں مرنا: یہ ”اِک تارہ“ بجانے کے فن میں یکتا تھے۔ واضح ہو کہ اِک تارہ میں ایک ہی تار ہوتی ہے اور اُس پر کوئی دھن بجانا آسان نہیں! پھر ربابی گھرانہ کے سائیں اختر حسین ہیں جنہوں نے فلم ”عشق پر زور نہیں“ ( 1963 ( میں قتیلؔ شفائی کا گیت ”دل دیتا ہے رو رو دہائی، کسی سے کوئی پیار نہ کرے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ”میں موسیقار ماسٹر عنایت حسین کی موسیقی میں مالا کے ساتھ المیہ تان لگا کر اس گیت کو امر کر دیا۔ فیاض ؔ ہاشمی نے منور سلطانہ، زینت بیگم، اُستاد حبیب خان بین کار، استاد فتح علی خان، استاد بڑے غلام علی خان، ا ستاد مبارک علی خان، ماسٹر عنایت حسین اور ستار نواز استاد شریف خان پونچھ والے کو بھی گراموفون کمپنی میں ملازمت دلوائی۔ شاعر حزیں ؔقادری اور مشیرؔ کاظمی بھی ان کے و سیلے، کمپنی سے منسلک ہو ئے۔ ریاض شاہد کو بھی دبنگ مکالمہ نگار بنانے میں فیاضؔ ہاشمی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

فیاضؔ ہاشمی پاکستانی فلموں میں گیت لکھنے کی طرف 1956 میں آئے۔ فلمساز نجم نقوی سے اِن کی پرانی دوستی تھی۔ جب نقوی صاحب نے فلم ”کنواری بیوہ“ بنانے کا سوچا تو گیت نگار کے لئے فیاضؔ ہاشمی کا ہی انتخاب کیا۔ پاکستان میں فیاضؔ ہاشمی کی یہ پہلی فلم ہے۔ دل چسپ اتفاق ہے کہ یہ شمیم آراء کی بھی بحیثیت ہیروئین پہلی فلم تھی۔ گو کہ فلم ناکام رہی لیکن عام روایات کے برخلاف شمیم آراء کی قسمت کا ستارہ اوج پر پہنچ گیا۔

فیاضؔ ہاشمی کے لئے بھی مذکورہ فلم نیک شگون ثابت ہوئی اور اس طرح اُن کے لئے لاہور کی فلمی صنعت میں داخلے کا راستہ مل گیا۔ فیا ضؔ ہاشمی جس طرح غیر منقسم ہندوستان میں مشہور ہوئے ویسی ہی مقبولیت و پذیرائی یہاں بھی حاصل ہوئی۔ اِن کی دوسری فلم ”انوکھی“ ( 1956 ) میں زبیدہ خانم کی آواز میں ایک گیت بہت مقبول رہا:

گاڑی کو چلانا بابو

ذرا ہلکے ہلکے ہلکے

کہیں دل کا جام نہ چھلکے

اس فلم کے 2 موسیقارتھے۔ ایک بھارت کے بابائے ’سِنفنی آرکِسٹرا‘ symphony orchestra تِمر بَرَن Timir Baran ( 1904 سے 1987 ) اور دوسرے حسن لطیف لالِک۔ عوام کی اکثریت اسی گیت کو ریڈیو پاکستان سے سُن کر یہ فلم دیکھنے گئی۔ فلم ”انوکھی“ کے اس گیت نے فیاضؔ ہاشمی سے فیصلہ کروا لیا کہ اب وہ اپنا تمام وقت صرف فلمی دنیا کو ہی دیں گے اور یوں انہوں نے گراموفون کمپنی کی رفاقت سے استعفیٰ دے دیا۔

فلمساز شیخ لطیف اور ہدایتکار رفیق رضوی کی فلم ”بیداری“ ( 1957 ) میں فتح علی خان کی موسیقی میں فیاضؔ ہاشمی کے یہ گیت قومی نغمات کا درجہ پا گئے :

آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی

جس کی خاطر ہم نے دی قربانی لاکھوں جان کی

آواز سلیم رضا اور ساتھی۔

یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران

اے قائدِ اعظمؒ تیرا احسان ہے احسان

آواز منور سلطانہ اور ساتھی۔

ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے

اِس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

آواز سلیم رضا۔

فیاض ؔہاشمی نے کم و بیش 2000 فلمی اور غیر فلمی گیت و غزل لکھیں۔ انہوں نے کئی سُپر ہٹ فلموں کی کہانیاں، مکالمے، اسکرین پلے اور گیت بھی لکھے جیسے گولڈن جوبلی فلم ’‘ اولاد ” ( 1962 ) : اس فلم کے گیت اور کہانی بھی انہوں نے لکھی۔ سلور جوبلی فلم“ زمانہ کیا کہے گا ” ( 1961 ) کی کہانی ان کی تھی۔ فلم“ نہلے پہ دہلا ” ( 1964 ) کے وہ کہانی نگار تھے۔ گولڈن جوبلی فلم“ انتخاب ” ( 1978 ) کے مکالمے انہوں نے لکھے۔ ڈائمنڈ جوبلی فلم ’ُپہچان“ ( 1975 ) کے مکالمے لکھے۔ سلور جوبلی فلم ”خدا اور محبت“ ( 1978 ) کی کہانی، سکرین پلے، مکالمے اور گیت لکھے۔ سلور جوبلی فلم ”غریبوں کا بادشا ہ“

( 1988 ) کے مکالمے لکھے۔ حب الوطنی کے موضوع پر بننے والی فلم ”ہم ایک ہیں“ ( 1961 ) کے ہدایتکار اور گیت نگار تھے۔ اِن کے تذکرے کے مطابق اس فلم کے 5 گیتوں کی رنگین عکس بندی کی گئی تھی جو پاکستان میں پہلی مرتبہ ہوا۔

پاکستانی فلموں میں فیاضؔ ہاشمی کے چند مشہور گیت:

” سویرا“ ( 1959 ) موسیقی منظور حسین شاہ عالمی والے : ’تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے، یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے‘ ، آواز ایس بی جون۔ یہ ماشاء اللہ ابھی حیات ہیں اور مجھ سے بہت ہی زیادہ شفقت کرتے ہیں۔ اللہ ان کو صحت و عافیت والی زندگی دے۔ گولڈن جوبلی فلم ”سہیلی“ ( 1960 ) موسیقی اے حمید: ’ہم بھول گئے رے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے، کیا کیا ہوا دل کے ساتھ مگر تیرا پیار نہیں بھولے‘ ، آواز نسیم بیگم۔

اسی فلم کا ایک اور گیت : ’کہیں دو دل جو مل جاتے بگڑتا کیا زمانے کا، خبر کیا تھی کہ یہ انجام ہو گا دل لگانے کا‘ ، آوازیں سلیم رضا اور نسیم بیگم، اور ’ہم نے جو پھول چنے دل میں چبھے جاتے ہیں، کتنے پیارے ہیں جو غم ہنس کے سہے جاتے ہیں‘ ، آواز نسیم بیگم۔ اس فلم کی خاص بات اس کا یہ گیت ”مکھڑے پہ سہرا ڈالے آ جاؤ آنے والے، چاند سی بنّو میری تیرے حوالے“ ہے، آوازیں نسیم بیگم اور ساتھیوں کی۔ جس طرح سیف الدین سیفؔ کی سلور جوبلی فلم ”کرتار سنگھ“ ( 1959 ) میں وارثؔ لدھیانوی کا پنجابی گیت ’دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ”شادی بیاہ میں اب بھی لازم ہے بالکل اسی طرح فلم ’‘ سہیلی“ کا یہ اردو گیت بھی مہندی، مایوں، شادی بیاہ میں لڑکیاں بالیاں لازمی گاتی ہیں۔ گولڈن جوبلی فلم ”اولاد“ ( 1960 ) موسیقی اے حمید: ’نام لے لے کے تیرا ہم تو جیے جائیں گے، لوگ یونہی ہمیں بدنام کیے جائیں گے‘ ، آواز نسیم بیگم، ’تم قوم کی ماں ہو سوچو ذرا عورت سے ہمیں یہ کہنا ہے، اولاد تمہاری دولت ہے تعلیم تمہارا گہنا ہے‘ ، آواز نسیم بیگم، ’تم ملے پیار ملا اب کوئی ارمان نہیں، شکریہ آپ کا یہ پیار ہے احسان نہیں، آوازیں منیر حسین اور نسیم بیگم، قوالی کے انداز میں یہ :‘ حق لا الہ الا اللہ فرما دیا کملی والے نے، ہے اُس کا سہارا سب سے بڑا فرما دیا کملی والے نے ’، آوازیں سلیم رضا منیر حسین اور ساتھی۔

سلور جوبلی فلم ”زمانہ کیا کہے گا“ ( 1961 ) موسیقی مصلح الدین: ’رات سلونی آئی بات انوکھی لائی، جو ہم کسی سے نہ کہیں گے، چُپ رہیں گے ہم‘ ، آوازیں ناہید نیازی اور احمد رشدی۔ گولڈن جوبلی فلم ”توبہ“ ( 1964 ) :مو سیقی اے حمید: قوالی کے انداز میں : ’نہ ملتا گر یہ توبہ کا سہارا ہم کہاں جاتے، سہارا ہی نہ تھا کوئی ہمارا ہم کہاں جاتے‘ ، آوازیں منیر حسین سلیم رضا اور ساتھیوں کی اور یہ گیت: ’اؤ رے صنم دل یہ کیسے بتائے، پیار میں بیری ہو گئے اپنے پرائے‘ ، آواز نور جہاں۔

سلور جوبلی فلم ”آشیانہ“ ( 1964 ) موسیقی اے حمید: ’بڑے سنگ دل ہو بڑے نا سمجھ ہو، تمہیں پیار کرنا سکھانا پڑے گا‘ آواز احمد رشدی، ’جا رے بیدردی تو نے کہیں کا ہمیں نہ چھوڑا، جس دل میں تو ہی تو تھا اس دل کو تو نے توڑا‘ ، آواز مالا، ’جی دیکھا جو انہیں دل نے، چپکے سے کہا ہائے، اس بات کا ڈر ہے یارو کہیں پیار نہ ہو جائے‘ آوازیں احمد رشدی اور مالا۔ سلور جوبلی فلم ”عید مبارک“ ( 1965 ) موسیقی اے حمید : ’رحم کرو یا شاہِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم، نظرِ کرم یا

نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم ’آوازیں مالا نذیر بیگم اور ساتھی۔ سلور جوبلی فلم ”ہزار داستان“ ( 1965 ) موسیقی رشید عطرے :‘ اللہ اللہ ہم کہاں اور آپ کی محفل کہاں، آپ کی نظرِ کرم ہے ورنہ ا س قابل کہاں ’آوازیں آئرین پروین اور مالا، ‘ بے سہاروں کے سہارے یا محمد آپ ہیں ’، آواز نسیم بیگم۔ فلم ”سوال“ ( 1966 ) موسیقی رشید عطرے :‘ ارے او بے مروت ارے او بے وفا، بتا دے کیا یہی ہے وفاؤں کا صلہ ’، آواز نور جہاں، ‘ لٹ الجھی سلجھا جا رے با لم میں نہ لگاؤں گی ہاتھ ر ے، چاند سے مکھڑے کو ناگن زلفیں چاہے ڈسیں ساری رات رے ’، آواز نورجہاں، ‘ رات کی بے سکوں خاموشی میں رو رہا ہوں کہ سو نہیں سکتا، راحتوں کے محل بناتا ہے دل جو آباد ہو نہیں سکتا ’آواز مہدی حسن۔

فلم ”شب بخیر“ ( 1967 ) ایک ناکام فلم ثابت ہوئی۔ لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ اس کے کچھ گیت سُپر ہِٹ ہوئے۔

موسیقار صفدر حسین تھے : ’ہمیں کوئی غم نہیں تھا غمِ عاشقی سے پہلے، نہ تھی دشمنی کسی سے تیری دوستی سے پہلے‘ ۔ سلور جوبلی فلم ”سہاگن“ ( 1967 ) موسیقی اے حمید: ’اے دنیا کیا تجھ سے کہیں جا چھیڑ نہ ہم دیوانوں کو، پگھلی ہوئی اس آگ میں جل کر مرنے دے پروانوں کو‘ ، آواز مہدی حسن۔ سُپر ہِٹ فلم ”لاکھوں میں ایک“ ( 1967 ) موسیقی نثار بزمی:

’ چلو اچھا ہوا تم بھول گئے، اک بھول ہی تھا میرا پیار او ساجنا‘ آواز نورجہاں۔ گولڈن جوبلی فلم ”دیور بھابھی“

( 1967 ) موسیقی ماسٹر عنایت حسین: ’یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی کا، انہیں کوئی کاش یہ بتا دے مقام اونچا ہے سادگی کا‘ ۔ آواز مہدی حسن۔ فلم ”داستان“ ( 1967 ) فلمساز اور ہدایتکار نذیر علی المعروف رتن کُمار کی

بہ حیثیت اداکار / ہیر و آخری فلم ہے۔ موسیقی خلیل احمد کی تھی : ’قصہء غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے، ہم تیرے پیار پہ الزام نہ آنے دیں گے‘ ۔ آواز مہدی حسن۔ فلم ”شریکِ حیات“ ( 1968 ) موسیقی اے حمید: ’کسے آواز دوں تیرے سوا، ڈھونڈ رہا ہے تجھے پیار میرا‘ ، آواز مالا، ’تیرے لئے او جانِ جان لاکھوں ستم اٹھائیں گے، یوں ہی سہیں گے دردو غم زخمِ جگر چھپائیں گے‘ ، آواز نورجہاں۔ فلم ”جاسوس“ ( 1977 ) موسیقی طافو: ’ساتھی مجھے مل گیا مل گیا مل گیا، رسموں کو توڑیں گے دنیا کو چھوڑیں گے دل نے کیا فیصلہ‘ آوازیں اے نیر اور ناہید اختر۔ یہ اپنے وقت کا انتہائی مقبول گیت تھا۔ سلور جوبلی فلم ”دیوانے تیرے پیار کے“ ( 1997 ) موسیقی امجد بوبی: یہ فیاضؔ ہاشمی کی آ خری فلم تھی۔

فلم ”دیا اور طوفان“ ( 1969 ) اور فلم ”الزام“ ( 1972 ) میں فیاضؔ ہاشمی کے علاوہ اور گیت نگاروں نے بھی گیت لکھے۔ بہت کوشش کے بعد بھی ان کے لکھے ہوئے گیتوں کی نشاندہی نہیں ہو سکی۔

فیاضؔ ہاشمی کی شاعری کا مجموعہ 1944 میں ”راگ رَنگ“ کے نام سے شائع ہوا۔ البتہ ان کے گیت و غزلیں مختلف ادبی، فلمی اور دیگر رسائل میں شائع ہوا کرتی تھیں جیسے : ’ادبی دنیا‘ ، ’ادبِ لطیف‘ ، ’عالمگیر‘ ، ’بیسویں صدی‘ ، ’شمع (دہلی) ‘ ، ’چترالی (ڈھاکہ) ‘ ، نگار ویکلی کراچی اور کلکتہ کے مختلف رسائل وغیرہ۔

نمونہ ء کلام

نہ تم میرے نہ دل میرا نہ جانِ ناتواں میری

تصور میں بھی آ سکتیں نہیں مجبوریاں میری

نہ تم آئے نہ چین آیا نہ موت آئی شبِ وعدہ

دلِ مضطر تھا میں تھا اور تھیں بے تابیاں میری

عبث نادانیوں پر آپ اپنی ناز کرتے ہیں

ابھی دیکھی کہاں ہیں آپ نے نادانیاں میری

یہ منزل یہ حسیں منزل جوانی نام ہے جس کا

یہاں سے اور آگے بڑھنا یہ عمرِ رواں میری

فیاضؔ ہاشمی کو 3 مرتبہ گریجوئیٹ ایوارڈ اور 2 عد د نگار ایوارڈ حاصل ہوئے۔ پہلا نگار ایوارڈ 1967 میں

فلم ”لاکھوں میں ایک“ کے بہترین نغمہ نگارکا ملا۔ اِس کے موسیقار نثار بزمی اور آواز نورجہاں کی تھی : ’‘ چلو اچھا ہوا تم بھول گئے، اک بھول ہی تھا میرا پیار او ساجنا ”۔ 1988 میں دوسرا نگار ایوارڈ فلم“ غریبوں کا بادشاہ ”میں بہترین اسکرین پلے لکھنے پر حاصل ہوا۔

یوں تو فیاضؔ ہاشمی نے ہمارے ملک کے کئی نامور موسیقاروں کے ساتھ کام کیا لیکن میری تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ فلمیں موسیقار اے حمید کے ساتھ کیں۔ خود میری کبھی فیاضؔ ہاشمی صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن ان کے چھوٹے بھائی معراج جامیؔ صاحب سے کراچی کے ایک محقق، پروفیسر ڈاکٹر خورشید خاور امروہوی حیدر صدیقی صاحب کے ہاں 80 کی دہائی میں دو مرتبہ تفصیلی نشست ہوئی۔ میں نے معراج جامیؔ سے خوب جی بھر کے فیاضؔ صاحب سے متعلق سوال جواب کیے۔ کاش میرے اختیار میں ہوتا تو میں ایک طویل نشست فیاضؔ صاحب سے بھی کرتا لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فیاضؔ ہاشمی 91 سال کی عمر میں اپنے نام کی مناسبت سے آس پاس کے لوگوں کو فیض پہنچا کر اگلے جہاں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •