مغرب میں اسلاموفوبیا اور مشرق میں انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ہو؟
اگرچہ خاکسار نے ہمیشہ مذہبی شدت پسندی کی مخالفت کی لیکن ایسی آزادی کا بھی کبھی پرچار نہیں کیا جس سے نفرت، فاشزم اور بغض کی بو آتی ہو، لبرل یا مذہبی ہونا جرم نہیں بلکہ لبرل فاشسٹ اور مذہبی انتہاء پسند ہونا ناصرف شطانیت بلکہ فساد کی جڑ ہے اور معاشرے ہمیشہ اصولوں اور ایک ضابطہ حیات پر قائم ہوتے ہیں پر جب کبھی بھی ایک کی آزادی دوسرے کی دل آزاری بننا شروع ہوجائے تو پھر الیاس جیسے نوجوان دوسرے گروہ کے لئے غازی بن جاتے ہیں۔ یہاں سے عدم برداشت کی ہوائیں جنم لیتی ہیں جو آہستہ آہستہ طوفان کی شکل اختیار کر جاتی ہیں۔ اور پھر یہ کالی آندھی بن کر سب کچھ تہس نہس کردیتی ہیں۔
6نومبر 2019 کو ناروے کے شہر کرسٹیانسند ( Kristiansand ) میں ایک تنظیم سیان کی طرف سے اسلام مخالف ریلی نکالی گئی۔ جس میں سیان کے ایک رہنماء لارس تھورسن نے قرآن مجید کو نذر آتش کردیا، اس دوران موقع پر موجود الیاس نامی نوجوان ان پر حملہ آور ہوا تو پولیس نے مداخلت کرکے دونوں کو گرفتار کرلیا۔ سیان (SIAN) دراصل نارویجین زبان کے الفاظ (Stopp Islamiseringen Av Norge) کا مخفف ہے، اس تنظیم کی بنیاد 2008 ء میں رکھی گئی لیکن اگر ہم اس کے پس منظر میں جائیں تو اس کی اصل بنیاد 2000 ء سے شروع ہوتی ہے۔
اور اس وقت اس تنظیم کے قیام کا ہدف پانچ وقت کی اذان کو روکنا تھا تاہم بعدازاں آہستہ آہستہ یہ لوگ مختلف اسلامی ثقافتوں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کرنے لگے۔ لیکن سوال یہاں پر یہ پیدا ہوتا ہے کہ ”کیا مغرب میں اسلاموفوبیا بڑھ رہا ہے؟ اور بڑھ رہا ہے تو اس کے مستبقل میں نتائج بہت خطرناک حد تک جا سکتے۔ میری رائے میں ایسی چیزوں کی روک تھام کسی فرد واحد پر نہیں بلکہ حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔ حکومتوں سے ہی معاشرے چلتے ہیں اور ریاستی ناقص پالیسیوں کے سبب ہی معاشرے روبہ زوال ہوتے ہیں۔
1929 ء کو ایک مسلمان نوجوان غازی علم دین نے قابل مذمت کتاب ”رنگیلا رسول“ کے ناشر راج پال کو اس لئے قتل کردیا تھا کیوں کہ ان کو لاہور ہائی کورٹ کے جج کنور دلیپ سنگھ نے اس بنا پر چھوڑ دیا کہ اس وقت ایسی قانون سازی نہیں تھی جس کے تحت اسے سزا دی جاسکتی تھی اور جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا: اس کی کتاب مروجہ قانون کی کسی دفعہ کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتی۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب کسی معاملے میں قانون سازی واضح نہ ہوگی تو پھر نتیجہ الٹ ہوتا ہے۔ اور یقینا ناصرف مغرب میں اسلاموفوبیا کے خاتمے، مشرق میں بھی انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے قوانین کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بھارت اور پاکستان میں بھی مذہبی انتہا پسندی زور پکڑ رہی ہے۔
لیکن کیا ہمیں اپنے گریبان جھانکنے کی اشد ضرورت نہیں۔ کیا پاکستان میں قادیانی عبادت گاہوں پر حملے نہیں ہوئے یا پھر یہ توہین کے زمرے میں نہیں آتا تھا؟ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں مسلمان اقلیتیں محفوظ ہوں اور ان کو مکمل حقوق حاصل ہوں تو پھر ہمیں بھی اپنے اندر کی منافقت اور ایسی مذہبی انتہا پسندی ختم کرنی ہوگی جس سے پاکستان میں موجود اقلیتوں کو خطرہ لاحق ہے۔ جس طرح ہمارے نزدیک ہماری اسلامی کتب اور مساجد مقدس ہیں اسی طرح غیر مسلموں کے مذہب میں بھی ان کی کتب اور عبادت گاہیں اتنی ہی مقدس ہیں۔ جب ہم اپنی اقلیتوں کو مکمل طور پر ان کے حقوق فراہم کر دیں گے تو تب جاکر ہم اس قابل ہوں گے کہ غیر مسلم ممالک میں اپنے مسلمان بھائیوں کے حقوق کی بات کریں یا پھر انہیں وہ حق حاصل کروائیں جو وہ چاہتے ہیں۔
کسی مذہب میں بھی دوسرے کی ہتک، مقدس چیزوں کی بے حرمتی جائز نہیں بلکہ یہ جہالت ہے اور ایسا کرنے والوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جیسے دہشت گردوں یا مذہبی انتہا پسندوں کا اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ ہمیں بجائے سوشل میڈیا پر دوسروں کو گالیاں دینے کے اپنی حکومت سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ عملی طور ایسے معاملات روک تھام کے لئے بین الاقوامی سطح پر کیا کرسکتی ہے۔ آخر میں میرے ہم وطن مسلمان بھائی ایسے لوگوں کو گالیاں نکال کر اپنا ایمان مضبوط کرتے ہیں جو حقیقی اسلام بارے لاعلم ہیں اور وہ ایسے مسلمان روایوں کے سبب سمجھتے ہیں کہ ان کا اسلام بھی ایسا ہی ہوگا جیسے یہ خود ہیں۔
مگر ناچیز ایسے لوگوں کے لئے ہدایت کی دعا کرتا ہے کیونکہ اسلام میں تشدد، اور گالی حرام ہے بلکہ یہ خلاف فطرت بھی ہے مگر ہم نے زبردستی فطرت بنا دیا۔ اور آخر میں ایسے لوگوں پر رشک آتا ہے جو نیوزی لینڈ کی غیر مسلم خاتون وزیراعظم جیسنڈرا آرڈرن کو مسلمانوں سے یکجہتی پر تو شاباش دیتے مگر خود کے مسلمان مرد وزیر اعظم عمران خان کو میاں عاطف کو اقتصادی مشاورتی کونسل کی رکنیت دینے پر برا بھلا اور یہودیوں کا ایجنٹ کہتے ہیں۔ اگر وہاں اسلاموفوبیا تو یہاں مذہبی انتہا پسندی اور یہ دونوں کسی بھی معاشرے کے لئے زہر قاتل ہیں۔


