علم بغیر عمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ علم جس سے انسان کا سکون برباد ہو جا تا ہے وہ ہے بغیر عمل کے علم بناتے رہنا انسان بہت سی کتابیں تو پڑھتا ہے اور شاید اصولوں اور قواعد کی زندہ جاوید مثال بھی ہے، لیکن عمل زیرو ہے، ایسا علم جو نیت نہ بنے اور وہ نیت عزم نہ بنے، اور عزم بننے کے بعد کوئی نتیجہ نہ لائے اور نتیجہ لانے کے بعد انسان کی اصلاح نہ کر سکے تو ایسا علم انسان کو گمراہ کر دیتا ہے اس میں اس کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں بہت زیادہ علم اور علم بغیر عمل انسان کے لئے فتنہ بن جاتا ہے۔ انسان علم حاصل کر کے سمجھتا ہے میں نے سب کچھ پا لیا مگر جب تک علم عمل نہیں بنتا تب تک ایسا علم بے کار ہے، بے فائدہ ہے۔ علم بغیر عمل ایسا ہے جیسے انسانی جسم بغیر روح کے ہوتا ہے، جس طرح روح کے بغیر جسم بے کار ہوتا ہے اسی طرح علم اور عمل کا جوڑ ہے۔

ہر علم کا ایک مقام ہوتا ہے، کچھ لوگ بے سکون اس لئے ہوتے ہیں کہ علم تو ہے مگر کوششیں اور کاوشیں نہیں ہیں، اور اگر کاوشیں ہیں تو یقین نہیں ہے، یقین ہے تو حق الیقین نہیں ہے جس کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انسان شکست سے گھبرا کر یہی سوچتا ہے کہ وہ ہار گیا ہے۔ وہ انسان جسے ہار نہ ہو وہ مضبوط کیسے بنے گا، تو ڈر مت، تو گھبرا نہیں، انسان کو اکیلا ہی لڑنا ہوتا ہے، یقین رکھ تیری محنت اور تیری نیت سے تیری قسمت میں کامیابی لکھ دی جائے گی، انسان کو خود پہ بھروسا ہونا چاہیے۔

اگر اک چڑیا درخت پر بیٹھتی ہے تو اسے درخت کی شاخ ٹوٹنے کا ڈر نہیں ہوتا کیوں کہ اسے اپنے پروں پہ بھروسا ہوتا ہے اس لئے کسی اور پہ بھروسا کرنے سے بہتر ہے خود کی اصلاح کی جائے۔ اور وہ اصلاح تب ممکن ہے جب اپنے علم کو عمل میں لے کر آئے گا، کیوں کہ اس دنیا اور آخرت میں ہر کوئی اپنے عمل کی کتاب چھوڑ کے جائے گا۔

”علم بغیر عمل کے وبال ہے اور عمل بغیر علم کے گمراہی ہے“

آخرت میں یہ عمل کی کتاب اسے اپنے رب کے سامنے سرخرو کر دے گی یا رسوا کر دے گی۔ یہ نہ ہو اس کی کتاب میں سوائے بد تہزیب اور بے ڈھنگی زندگی کے سوا کچھ نہ ہو۔

علم بغیر عمل ایک آزار ہے

اور عمل بغیر اخلاق بے کار ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مدیحہ رحمان کی دیگر تحریریں
مدیحہ رحمان کی دیگر تحریریں