لالی پاپ چھوڑیں: جہالت کے دھماکے کی طرف توجہ کریں
پاکستان بنے ابھی بمشکل ساڑھے تین ماہ ہی ہوئے تھے کہ آزادی کے بعد ملک کی پہلی تعلیمی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں قائد ِ اعظم نے اس بات کا اظہار کیا برطانیہ کی محکومیت کے دور میں تعلیم پر بھرپور توجہ نہیں دی گئی اور آزادی کے بعد ہمیں تعلیمی معیار بہتر بنانے پر بھرپور توجہ دینی پڑے گی۔ اس پیغام میں تعلیم کے علاوہ کردار کی تعمیرپر زور دیا گیا تھا۔ اور ملک کی اقتصادی ترقی کے لئے لوگوں کوسائنسی اور ٹیکنیکل تعلیم دینے پر زور دیا۔ آزادی کے چار سال بعد جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں شرح ِ خواندگی 17.9 %تھی یعنی 17.9 %لوگ لکھنے پڑھنے کی کم از کم صلاحیت رکھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ شرح بہت کم تھی اور ہم دنیا سے بہت پیچھے تھے۔
آج آزادی کو ستر سے زائد سال گزر چکے ہیں۔ اب برطانوی حکمرانوں سے شکوے کا کیا فائدہ؟ اب تو ہمیں اپنی کارکردگی پر سر دھننا چاہیے۔ ہم آج بھی دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ اس حوالے سے دنیا میں ایک انقلاب برپا ہوا۔ پسماندہ ممالک میں بھی شرح خواندگی اس تیزی سے بڑھی ہے کہ ان پڑھ آبادی کم سے مزید کم ہوتی گئی۔ ہمیں ہر اچھی چیز میں پیچھے رہنے کی عادت ہے سو اس میدا ن میں بھی پیچھے رہ گئے۔ اب پاکستان میں شرح خواندگی 62.3 فیصد ہے۔
بظاہر آزادی کی نسبت اب یہ شرح بہت بہتر لگتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے بہت کم ممالک اس میدان میں پاکستان سے پیچھے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے ممالک میں اب صرف افغانستان کی شرح ِ خواندگی پاکستان سے نیچے ہے۔ بھارت میں یہ شرح 71 فیصد، بنگلہ دیش میں تقریبا ِِ 73 فیصد، سری لنکا میں 91 فیصد اور نیپال میں 67 فیصد ہے۔
ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ پاکستان میں شرح ِ خواندگی بہت کم ہے اور دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عورتوں میں یہ شرح اور بھی کم ہے۔ پاکستان کے آخری اکنامک سروے کے مطابق پاکستان کے مردوں میں سے 72.5 % لکھ پڑھ سکتے ہیں اور عورتوں میں سے صرف 53.3 %لکھنے پڑھنے کی کم از کم صلاحیت رکھتی ہیں۔ اور یہ شرح تشویشناک حد تک گری ہوئی ہے اور عورتوں اور مردوں کا اتنا زیادہ فرق پاکستان کے لئے شرمناک ہے۔ اقوام ِ متحدہ کے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایشیا کے بھی کئی ملک ہیں جن میں پندرہ سے چوبیس سال کے درمیان لڑکیوں میں شرح ِ خواندگی لڑکوں سے بھی بہتر ہے۔
مثلاً ترکی، چین، بھارت اور بھوٹان میں اس عمر کی لڑکیوں میں شرح خواندگی لڑکوں کی شرح ِ خواندگی سے بہتر ہے۔ ان ممالک نے مستقبل کے لئے یہ سرمایہ کاری کی ہے لیکن پاکستان میں اس عمر کے افراد میں بھی یہ فرق پندرہ فیصد کے قریب ہے۔ اسی طرح پاکستان کے دیہی علاقے شہری علاقوں کی نسبت زیادہ متاثر ہیں۔ شہری علاقے میں شرح خواندگی 76.6 %اور دیہات میں یہ شرح صرف 53.3 %ہے۔ اسی اکنامک سروے کے مطابق صوبوں میں سے خیبر پختونخواہ کی شرح ِ خواندگی سب سے خراب اور پنجاب کی سب سے بہتر ہے۔
لیکن سندھ کے حوالے سے یہ تشویشناک خبر سامنے آئی کہ کہ وہاں ایک سال میں شرح ِ خواندگی بڑھنے کی بجائے، تھوڑی سے نیچے آ گئی۔ حکومت ِ سندھ کو کچھ روز سیاسی غل غپاڑے سے وقت نکال کر اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ اور تحریک ِ انصاف کو اگر نیا پاکستان بنانا ہے تو سب سے پہلے خیبر پختونخواہ کی شرح ِ خواندگی بہتر کر کے دکھائیں۔
ان پڑھ ہونے کا صرف یہ نقصان نہیں کہ مائیں صحیح طریق پر بچوں کو پال نہیں سکتیں۔ باپ اپنے گھرانوں کی پرورش نہیں کر سکتے۔ جب گھر کا خرچ کمانے والا ان پڑھ ہو تو پھر وہ اپنے گھر کے حالات بہتر کس طرح کرے گا۔ اپنے حقوق کا علم نہیں ہوتا اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ کم ہوتی ہے۔ اتنی زیادہ آبادی کے ان پڑھ ہونے کا لازمی نتیجہ ملک کی اقتصادی بد حالی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اور یہ نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں۔ اس دور میں جو حکومت اپنے افراد کو ان پڑھ رہنے دیتی ہے وہ خود ایسی آبادی میں اضافہ کرتی ہے جو کہ ملک پر ایک بوجھ بن جاتے ہیں اور اقتصادی اور معاشی طور پر زیادہ کردار ادا نہیں کر سکتے۔
یونیسکو نے 2012 میں پاکستان میں بنیادی تعلیم کے اس فقدان کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس میں پاکستان کی اس صورت ِ حال کے بارے میں illiteracy explosion یعنی ”ناخواندگی کے دھماکے“ کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی۔ اگر اس کا تلخ ترجمہ کرنا ہے تو ہم اسے ”جہالت کا دھماکہ“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ویسے تو ہماری قومی غیرت موقع بے موقع جوش میں آتی رہتی ہے لیکن ایسے مواقع پر ہم اپنی قومی غیرت کو نیند کی دوائی پلا کر سلا دیتے ہیں۔
اس رپورٹ میں اس اصطلاح کی وجہ یہ بیان کی گئی تھی کہ جب پاکستان آزاد ہوا تھا اُس وقت ملک میں ایک کروڑ اسی لاکھ کے قریب ان پڑھ افراد موجود تھے اور 2010 میں یہ تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھ کر پانچ کروڑ پچاس لاکھ ان پڑھ افراد تک پہنچ کی تھی۔ یہ ہے وہ حقیقی خود کش دھماکہ جس سے پاکستان کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب اس مسئلے کو کس طرح حل کرنا چاہیے۔ جب تک ہم کسی مسئلے کو مسئلہ نہیں سمجھتے، وہ حل نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم سارا دن یہی باتیں کرتے رہیں کہ کس سیاستدان کاکیا سکینڈل سامنے آ رہا ہے؟ یا کسی بڑے سیاستدان کے پلیٹ لیٹس اوپر جا رہے ہیں کہ نیچے آ رہے ہیں۔ کس کی ملازمت میں توسیع ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی۔ تو ہم یہی لالی پاپ چوستے رہیں گے۔ ان حقیقی مسائل کی طرف توجہ نہیں کر سکیں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ جن طبقوں میں سب سے کم شرح ِ خواندگی ہے ان کے لئے زیادہ وسائل کے ساتھ نئے منصوبے بنا کر اُن پر عمل کیا جائے۔ مثال کے طور پر خواتین، قبائلی علاقے اور دیہی علاقوں کو ٹارگٹ کرنا پڑے گا۔ اب تک تعلیم پر جو خرچ کیا جا رہا ہے، اس سے بھی صحیح فائدہ نہیں اُٹھایا جا رہا۔ کسی حکومت نے ایسا منصوبہ سامنے نہیں رکھا کہ اس نقص کو کس طرح دور کیا جائے۔ اقوام ِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے 189 ممالک کے اعداد و شمار اس اعتبار سے شائع کیے ہیں کہ کون سا ملک تعلیم پر کتنا خرچ کرتا ہے۔
پاکستان کی حکومت اپنی مجموعی داخلی پیداوار یعنی جی ڈی پی کا صرف 2.8 فیصدتعلیم پر خرچ کرتی ہے۔ اس فہرست کے مطابق 189 میں سے صرف آٹھ ملک ایسے ہیں جن کی حکومتیں اپنی پیداوار کے لحاظ سے تعلیم پر اتنا کم خرچ کرتی ہیں اور ان میں سے ایک ملک بنگلہ دیش بھی ہے۔ اس سے ہماری بے نیازی کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ بھارت کی حکومت اپنی جی ڈی پی کا 3.8 فیصد تعلیم پر خرچ کرتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہمیں باقی اللّے تللے چھوڑ کر اب تعلیم پر زیادہ خرچ کرنا چاہیے۔
تین سال قبل چین اور پاکستان کی دویونیورسٹیوں نے ایک مشترکہ مقالہ شائع کیا تھا۔ اس کے مطابق پرائمری سکول کے 34 فیصد بچے پرائیویٹ سکولوں میں جاتے ہیں۔ یہ تعداد بہت زیادہ ہے۔ اور اس کی وجہ سرکاری سکولوں کی کم تعداد اور خراب معیار ہے۔ اعلیٰ تعلیم پر پرائمریری تعلیم کی نسبت زیادہ خرچ کیا جاتا ہے۔ اور 2004 کے بعد شرح ِ خواندگی میں بہت آہستہ اضافہ ہوا ہے۔ بہر حال اب یہ مسائل بھی ہماری توجہ کا تقاضا کر رہے ہیں۔ سیاسی بحثوں سے کچھ وقت نکال کر ان پر بھی گفتگو کرنا ضروری ہے۔


