سیکولر ریاست میں شہریوں کا تحفظ
جب کوئی ریاست، آئینی حساب سے اپنے تمام تر ریاستی معاملات میں سیکولرزم کو فعال کرتی ہے تو اسے سیکولر ریاست کہا جاتا ہے۔ ایسی ریاست مکمل طور غیرمذہبی ( یا مذہب مخالف) نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس کا واسطہ کسی مذہب سے نہیں ہوتا ہے۔ تمام تر مذاہب سے غیرجانبداری اس کی بنیادی خصوصیت ہوتی ہے۔ ایسی ریاست شہریوں سے کسی بھی مذہب، عقیدے یا فرقے کی بنا تفریق، مساوات کا برتاؤ نہیں کرتی ہے۔ سیکولر ریاست ہر شہری کو کسی بھی مذہب، عقیدے یا فرقے کو ماننے کی آزادی دیتی ہے اور جو شخص مذہب، عقیدے یا فرقے کو نہیں مانتا ہے، اس کے اس انتخاب کو اس کا ذاتی معاملا قرار دیتی ہے اور عقیدے سے باہر ہونے کی وجہ سے کسی بھی شہری والی حیثیت کو کم نہیں کرتی۔ نہ ہی اسے اقلیتوں میں شمار کیا جاتا ہے اور سیکولر ریاست اس عقیدے کے باہر رہنے والے انسان کو کسی بھی طور اس لیے مجبور نہیں کرتی کہ وہ کوئی مذہب اختیار کرے۔ ایک سیکولر ریاست اپنے شہریوں پر مذہبی رواج یا عقائد نافذ نہیں کرتی اور نہ ہی اس بات پر زور دیتی ہے کو وہ (عورت مرد) فلاں مذہب کی وکالت یا مخالفت کریں۔
لہٰذا ایک سیکولر ریاست کی یہ معنی بھی یہ ہے کہ اس میں کسی بھی مذہب، عقیدے یا فرقے کی بنا پت زبردستی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ جس طرح ہمارے مشرقی معاشروں میں پروپگینڈا کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک سیکولر ریاست مذہب، عقیدے یا فرقے کو انسان کا ذاتی مسئلا قرار دیتے ہوئے اس میں دخل اندازی نہیں کرتی۔ دوسری معنوں میں یہ مذہب اور مذہبی عقائد اور فرقوں کے معاملات میں خود کوئی فریق نہیں بنتی۔ سیکولرزم کو اپنائے ہوئی ریاست عقیدے کے اندر اور اس سے باہر تمام لوگوں کو، شہری کی حیثیت سے دیکھتی ہے اور اس سے اسی حیثیت کے مطابق برتاؤ کرتی ہے۔ ایسی ریاست اپنے آئین، قانون اور ریاستی انتظام سے مذہب کو الگ رکھتی ہے۔ سیکولر ریاست جب جمہوری بنیادوں پر اپنے اقتدار کا انتظام کرتی ہے تو اس میں شریک ہونے والے انسانوں کے مذہب سے تعلق ہونے یا نہ ہونے والی حالت کو کسی خاطر میں نہیں لاتی ہے۔
ایسی ریاست کی اقتدار کے لیے جب بھی عام انتخابات کا اہتمام کیا جاتا ہے تو اس میں عقیدے اندر اور عقیدے کے باہر لوگ، کسی بھی تفریق کے بغیر، سیکولر اور جمہوری اقدار کے سائے تلے شرکت کر سکتے ہیں۔ ایک سیکولر ریاست ہر انسان کو ووٹ کا حق دیتی ہے، اور بیک وقت ہر انسان کو انتخابات کے ذریعے ریاستی پارلیامینٹری نظام تک رسائی کا مکمل موقع فراہم کرتی ہے۔ وہ اس عمل میں سے کسی کو بے دخل نہیں کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اہم ریاستی عہدوں پر فائز ہونے، افسر شاہی اور افواج میں شامل ہونے کے لیے کسی مذہب، عقیدے یا فرقے کا شرط نہیں رکھتی۔ ان کی ریاست سے وفاداری یا سچائی پر کوئی بھی شک ظاہر نہیں کیا جاتا۔ ایسی ریاستوں میں قانونی طور مذہبی اقلیتوں کا کوئی بھی تصور نہیں ہوتا ہے، اور نہ ہی لوگوں کی آبادی کی تقسیم مذہبی بنیاد پر کر کے اکثریت اور اقلیت کے لیے الگ الگ قانون وضع کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ، سیکولر ریاست، عقیدے کے اندر اور باہر رہنے والے انسانوں کو کاروبار اور تجارت کرنے کے یکساں مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہی ممالک دنیا کی معیشت اور کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں، جو سیکولر ہیں۔ اسی طرح، ایک سیکولر ریاست، عقیدے کے اندر اور اس کے باہر ہر انسان کو جائیداد رکھنے کا یکساں حق فراہم کرتی ہے۔ اس حد تک کہ سیکولر معاشروں میں جو کوئی مذہبی گروہ اپنی مذہبی مشق کو جاری رکھنے میں کافی پریشانیوں میں مبتلا ہوتا ہے تو ایسے خاص حالات میں سیکولر ریاست اس مذہبی گروہ کو اپنے عقیدے پر برقرار رکھنے کے لیے سرکاری امداد بھی دیتی ہے۔
موجودہ دنیا میں سیکولر ریاستیں اس دھرتی پہ موجود ریاستوں کا نصف ہیں، جوکہ ایک حوصلہ افزا بات ہے۔ لہٰذا سیکولر ریاستیں اپنے شہریوں کو آزادی سے جینے، گھومنے پھرنے، گفتگو کرنے، لکھنے، احتساب اور ترقی کرنے کے یکساں اور مساوی مواقع فراہم کرتی ہیں۔ جہاں جہاں بھی سیکولر ریاستیں اب بھی قائم نہیں ہوئی ہیں، وہاں مذہبی بنیاد پہ فرق عام ہے۔ مثلا جہاں بھی مذہبی ریاست موجود ہے، وہ اکثریتی مذہبی آبادی کے ہر حکومتی اور انتظامی سطح پہ زیادہ ترجیح اور مراعات دیتی ہے، جب بھی اقلیتی مذہبی فرقے یا عقیدے سے باہر لوگ، اس تفریق اور تذلیل کی تکلیف کی بھینٹ چڑھے ہوتے ہیں، آئینی طرح انہیں شہری کے برابر حقوق نہیں ملے ہوتے۔ ریاستی اقتدار میں انہیں شریک نہیں کیا جاتا، یعنی اقلیتی مذہبی گروہ میں سے کوئی بھی شخص اس ریاست کا سربراہ، صدر یا وزیر اعظم نہیں ہوسکتا ہے بلکہ ملکی افواج میں بھی اقلیتوں کی بھرتی کو بہتر نہیں سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست اپنی طاقت مذہبی اقلیتوں اور عقیدے سے باہر لوگوں کو ستانے، انہیں مارنے، کچلنے، ان کی آواز کو دبانے اور انتہائی حالات میں اقلیتوں کو بے دردی سے ذبح کرنے یا قتل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔
اقلیتوں کے مساوی حقوق نہیں ہوتے، ان کی سماجی آزادی اور انسانی مرتبے کو قبول نہیں کیا جاتا، اس طرح سے ایسے فرقوں کی وجہ سے ایک غیر سیکولر ریاست، ہمیشہ اپنے اندرونی بحران کے ہتھے چڑھی ہوتی ہے اور ترقی کرکے دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں میں شامل ہونے سے رہ جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ جدید زمانے میں ریاست کے لیے سیکولرزم کی نظام کے طور طلب کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے اور مذہب کو عوام کا ذاتی مسئلا قرار دے کر، اسے ریاستی معاملات سے الگ کرنے پہ زور دیا جاتا ہے۔
کیونکہ ایک جانب یہ نظام مذہبی اداروں کو ریاست سے الگ کرتا ہے تو دوسری جانب یہ مختلف مذاہب اور عقائد کے لوگوں کو قانوں کے آگے برابر حیثیت فراہم کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیکولر ریاست ہی ایک ایسی جگہ ہے، جہاں عقیدے کے اندر اور اس کے باہر رہنے والا انسان نہ صرف امن سے اکھٹے رہتے ہیں اور دونوں کو برابر تحفظ ملا ہوا ہے، بلکہ ایک دوسرے سے شہری ہونے کی بنیاد پر میل جول کرتے ہیں، اپنی ریاست کے کاموں کو سرانجام دینے اور ان کی ترقی میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔
ورلڈ ویلیور سروے (ڈبلیو وی ایس) ایک عالمی تحقیقی پروجیکٹ ہے، جوکہ لوگوں کے اقدار اور عقائد کی پرکھ کرتا ہے کہ وہ وقت کے ساتھ کتنے ابھرے یا تبدیل ہوئے ہیں اور کہاں کہاں کون سی سیاسی سماجی تبدیلیاں آئی ہیں۔ یہ پروجیکٹ 1981 سے کام کر رہا ہے۔ ڈبلیو وی ایس جن خاص مظہروں پہ کام کرتی ہے، ان میں جمہوریت کے لیے حمایت، غیرملکیوں کے لیے برداشت، نسلی اقلیتیں، صنفی مساوات کے لیے حمایت، مذہب کا کردار، مذہبیت کی تبدیل ہوتی ہوئی سطحیں، عالمگیریت کا اثر، ماحول، کام، خاندان، سیاست، قومی تشخص، ثقافت، کثیرالجہتی، عدم تحفظ اور موضوعی فلاح کی جانب رویہ شامل ہیں۔
اس پروجیکٹ کی ذمے داری سماجی سائنسدانوں کو دی گئی ہے۔ چند برس قبل دو سماجی سائنسدانوں رونالڈ انگلیہرٹ اور کرسٹین ویلزیل نے ایک سروے ”ثقافتی تبدیلی کا اہتمام“ کیا تھا۔ جس میں دو پہلو ابھر کر سامنے آئے، اول: روایتی اقدار بمقابلہ سیکولر عقلیت پسند اقدار، اور دوئم: روایتی اقدار بمقابلہ انفرادی اظہار کی اقدار۔ ان دونوں میں سے اپنے کام کا پہلا والا ہے۔ یعنی روایتی بمقابلہ سیکولر عقلیت پسند اقدار۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ سیکولر اور عقلیت پسند اقدار فلسفیوں کے خیالات اور فرنچ انقلاب کی سیاست سے ابھرے۔ ایسی اقدار ان ممالک میں زیادہ مضبوط ہوئی جن کی فلسفے اور سائنس میں دلچسپی رہی۔
اس سروے کے مطابق وہ معاشرے جوکہ سیکولر اور عقلیت پسند اقدار کے ساتھ اپنی حیات کے اقدار میں سب سے اعلیٰ رہے ہیں۔ جن میں بلغاریہ، یوکرین، اور اسٹونیا شامل ہیں۔ جبکہ سیکولر اور عقلیت پسند اقدار کے ساتھ خود اظہارنے والی اقدار کے سلسلے میں سب سے اعلیٰ جپان، نارڈک ممالک، ڈینمارک، ناروے، سئیڈن، آئسلینڈ، فن لینڈ، بینیلکس، بئلجم، نیدھرلینڈ، لکسمبرگ، سئیٹرزلینڈ، چیک ری پبلک، سلووینیا اور فرانس شامل ہیں۔
اس سروے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسکینڈی نیوین ممالک سیکولر اقدار کو اپنانے میں دیگر ممالک سے آگے ہیں، اسی طریقے سے رونالڈ انگلیہریٹ اور کرسٹین ویلزیل کے بنائے ہوئے نقشے کو دیکھا جائے تو نارڈک ممالک میں سے سوئیڈن سیکولر اقدار کے حساب سے اپنے حلیف ممالک سے آگے ہے۔ پروٹسٹنٹ فرقے والے یورپی ممالک میں سے وہ ممالک بھی سیکولر اقدار کے حساب سے کافی نیچے ہیں۔ جن کی زبان انگریزی ہے۔ اس کے علاوہ کنفیوشس کے عقیدے والے ممالک مثلا جاپان، ہانگ کانگ، چین، ویٹنام، پولینڈ، ہنگری کی طرح روس سیکولر ملک ہوتے ہوئے بھی روایتی اقدار میں آگے نظر آئیں گے۔ جبکہ بالٹک ملک، نارڈک ممالک کے قریب نظر آئیں گے۔ اور آمریکا سیکولر اقدار میں آگے ہونے کی بجائے خود طفیلی والے دائرے میں ملے گا۔
ایسے سروے ایک خاص قسم کی ادراک پیدا کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ اس طریقے سے برطانوی معروف آن لائین اخبار ”ٹیلیگراف“ میں مذاہب کے عالمی دن کے حوالے سے، دنیا کے سب سے زیادہ اور ہم مذہبی ممالک کے حوالے سے جو آن لائین سروے کیا گیا، اس میں سب سے زیادہ مذہبی ممالک ایتھوپیا، ملاوی، نائجر، سری لنکا اور یمن ہیں۔ ان کے علاوہ افغانستان، مصر، میانمار، اردن، قطر، لاؤس وغیرہ۔ کی عوام کے پچاس فیصد لوگوں نے یہ جواب دیا ہے کہ وہ مذہبی ہیں۔
سروے کے مطابق آفریکا، مشرق وسطیٰ اور مشرقی ایشیا، لاطینی آمریکا کے خطوں کے ممالک زیادہ مذہبی ہیں۔ جبکہ پولینڈ کے لوگ تمام یورپ میں مذہب کو ماننے والوں سے آگے ہیں۔ ایسے ہی جاپان، اسٹونیا، سوئیڈن، ناروے، چیک ریپبلک کے ممالک بہت ہی کم مذہبی ہیں۔ جبکہ اسی شرح میں چین سب سے سبقت لے گیا ہے۔ جہاں کے صرف سات فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ وہ مذہبی ہیں۔ جبکہ دیگر کم مذہبی ممالک میں ہانگ کانگ، نیدرلینڈ، برطانیہ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، آزر بائی جان، بیلارس، کیوبا، جرمنی، ویتنام، اسپین، اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔
مندرجہ بالا پیش کیا گیا سروے بھی ایک تاثر پیش کرتا ہے، آخر میں یہی بیان کرنا ہے کہ اس وقت دنیا میں عقائد والے لوگ بھی موجود ہیں، اور عقائد سے باہر رہنے والے بھی ہیں۔ جن کو ساتھ لے کر چلانے کے لیے بہتر نظام یا نظریہ سیکولرزم ہی ہے۔ جوکہ کسی بھی ملک کے شہریوں کو شہریوں کی حیثیت سے مساوات فراہم کرتا ہے اور ان کے عقیدے کے اندر یا باہر رہنے کو ان کا ذاتی معاملا قرار دیتا ہے۔ اگر کوئی مذہبی انسان اپنا مذہب ترک کرتا ہے یا کوئی غیرمذہبی انسان کوئی بھی مذہب اپناتا ہے، تو اس سے سیکولرزم کا کوئی سروکار نہیں ہے۔
یہی ایسا نظام ہے، جوکہ حقیقی اور پراثر جمہوریت، حقیقی انسانی مساوات اور برابری، سب کے لیے ایک اور یکساں قانون کے اصول، آزادیء اظہار، مذہب کی آزادی یا مذہب سے آزادی، کاروبار اور روزگار میں سب کے لیے برابری بلکہ حکومت، فیصلا سازی اور قانونسازی میں رنگ، نسل فرقے کو بالائے تاک رکھنے کو یقینی بناتا ہے۔ یہ ایسا ہی نظام ہے، جوکہ انسان کو انسان سے محبت کو بڑھا کر سماجی توازن کی ایک مثالی فضا تیار کرتا ہے اور مذہب کے معاملے کے حوالے سے خود کو ہر لحاظ سے غیر جانبدار رکھتا ہے۔


