امریکہ ”سی پیک“ کی مخالفت کیوں کر رہا ہے؟
جولائی 2013 ء میں جس وقت چین اور پاکستان نے اقتصادی راھداری (سی پیک) کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، اسی دن سے امریکہ نے سی پیک کی مخالفت کرنا شروع کر دی تھی۔ لیکن گزشتہ دنوں امریکہ نے پاکستان سے بڑی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بتایا کہ سی پیک پاکستان کو فائدہ دینے کی بجائے نقصان دے گا۔ ان خیالات کا اظہار جنوب و وسط ایشیا کے لیے امریکہ کی خاص نمائندہ ایلس ویلز نے کیا۔ مزید ان کا یہ کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس پاکستان کے لیے سی پیک سے اچھا اقتصادی ماﮈل موجود ہے۔
یعنی کہ گزشتہ 72 سالوں میں امریکہ کے پاس پہلی مرتبہ پاکستان کے لیے کوئی ”اقتصادی ماﮈل“ موجود ہے جو سی پیک سے بھی بہتر ہے۔ چنانچہ اب دیر اس بات کی ہے کہ پاکستان سی پیک سے دستبردار ہو اور امریکہ کا ”سی پیک سے بھی اچھا اقتصادی ماﮈل“ قبول کر لے۔ جس کے بعد عام پاکستانیوں کی زندگی میں صرف خوشیاں ہی خوشیاں آ جائیں گی اور تمام درد اور تکلیفیں راتوں رات ختم ہو جائیں گی۔ محترمہ ایلس ویلز نے ہمارے ”معصوم حکمرانوں“ اور عوام کو خبردار کیا کہ ”چین دنیا بھر کے مختلف ممالک کو ایسے معاہدوں پر مجبور کر رہا ہے، جو ان ممالک کے مفاد میں نہیں ہوتے“۔
مطلب یہ کہ امریکہ نے پاکستان سے ماضی میں جتنے معاہدے کیے تھے، وہ سارے پاکستان کے مفاد میں تھے، البتہ چین کے ساتھ پاکستان کا حالیہ معاہدہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ امریکی خاص نمائندے نے پاکستان میں بیروزگاری کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ہے کہا کہ ”پاکستان میں سی پیک کے لیے چین اپنے مزدور لاتا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان میں بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔ “ ہم عوام کی حیثیت سے چین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ چینی مزدور پاکستان نہ بھیجے، البتہ امریکہ کی طرح وزیرِ خزانہ، اقتصادی مشیر اور ماہرین بھیج سکتا ہے جو پاکستان کے اقتصادی نظام کو وہ والا ”عروج“ واپس دلائیں جو پاکستان کو امریکی کیمپ کا حصہ ہوتے ہوئے حاصل تھا، ورنہ ہمارے پاس مزدور بہت ہیں، کمی صرف ماہروں کی ہے، چین پوری کوشش کرے کہ وہ ”ماہر“ پاکستان بھیجے، جو کم از کم اتنے ”ماہر“ ضرور ہوں، جتنے امریکہ کے ہوتے تھے، جن کی وجہ سے پاکستان کی معیشت تباہی کے کنارے پہنچنے کے باوجود نہ صرف زندہ ہے بلکہ آخری سانسوں تک بھی خود کفیل بننے کی کوشش میں مصروف ہے۔ امریکہ کی خاص نمائندہ نے پاکستان کو سی پیک کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ”پاکستان کی معیشت کو سی پیک کے باعث نقصان ہوگا“۔ آخر وہ کون سے ایسے اسباب ہیں، جن کی وجہ سے امریکہ نہ صرف شروعات سے سی پیک کی مخالفت کر رہا ہے بلکہ جہاں جہاں پر چین پاؤں دھرتا ہے، امریکہ اس کی مخالفت ہی کیے جاتا ہے؟ اس سوال پر بعد میں بات کرتے ہیں، پہلے اس بات کا سرسری جائزہ لیں کہ سی پیک سے پاکستان اور چین کو کیا کیا فائدے مل سکتے ہیں۔
اس وقت چین ہر روز 60 لاکھ بیرل تیل دنیا کے مختلف ممالک سے درآمد کر رہا ہے۔ وہ تیل 12000 کلومیٹر کی لمبی مسافت اور بہت زیادہ اخراجات کے بعد چین پہنچتا ہے۔ جبکہ گوادر بندرگاہ اور سی پیک کی تعمیر کی تکمیل کے بعد وہ سفر صرف 2000 کلومیٹر رہ جائے گا۔ یہاں پڑھنے والوں کو ایک بات بتلاتا چلوں کہ مصر کی سوئز نہر سے یورپ کے لیے ہر روز 40 لاکھ بیرل تیل جاتا ہے، جبکہ گوادر بندرگاہ مکمل ہونے کے بعد اسی راستے سے فقط چین کو 60 لاکھ بیرل تیل جائے گا۔
جس سے چین کے ہر سال 20 ارب ﮈالر بچیں گے، جبکہ پاکستان کو صرف اسی راہداری سے 5 ارب ﮈالر سالانہ ملیں گے۔ تیل اور گیس کی پائپ لائین، ریل گاڑی کے ﺫریعے ہونے والا کاروبار، فائبر آپٹیکل، 8 معاشی زون، گوادر میں 5 فائیو اسٹار ہوٹلز کے ساتھ 2200 ایکڑ پر قائم فری معاشی زون الگ سے بنائے جائیں گے، جن سے پاکستان کو اربوں ﮈالر کی آمدنی ہوگی۔ اسی راہداری کے مکمل ہونے کے بعد چین ایک ہی وقت میں، ایران، افغانستان، میانمار اور بنگلادیش کے ساتھ زمین اور سمندر کے راستے آسانی سے کاروبار کر سکے گا اور چین کی معیشت زیادہ مضبوط ہوگی۔
اس وقت پاکستان میں 9 ہزار 5 سو 81 چینی کام کر رہے ہیں۔ جن میں ٹیکنیشنز، انجنیئرز اور ماہر شامل ہیں۔ سی پیک 61 ارب 96 کروڑ ﮈالر کا ایک بڑا منصوبہ ہے، جس میں توانائی کے 15 منصوبوں کے ساتھ 22 ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں۔ ان منصوبوں میں چینی کمپنیوں نے 36 ارب ﮈالر کی انویسٹمنٹ کی ہوئی ہے، جن میں سے 34 ارب ﮈالر توانائی کے لیے مختص کیے گئے ہیں، 4 ارب ﮈالر ٹرانسپورٹ اور انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں کے لیے ہیں، جو صرف قرضہ کی صورت میں ہیں۔
جبکہ 8 ارب ﮈالر قرضہ اور ریلوے نیٹ ورک کے لیے ہیں۔ 7 کروڑ 80 لاکھ ﮈالر گوادر بندرگاہ اور 4 کروڑ 80 لاکھ ﮈالر گوادر کے ماسٹر منصوبے کے لیے ہیں۔ جبکہ اس کے ساتھ کچھ گرانٹ بھی ہیں۔ جس میں گوادر ہوائی اڈہ اور کچھ ہسپتالیں ہیں، سی پیک کا سب سے بڑا اور اہم حصہ اب آنے والا ہے، جس میں زراعت، سیاحت، آئی ٹی اور خاص معاشی زون شامل ہیں۔ گزشتہ ماہ پاکستان میں چین کے سفیر نے اعلان کیا تھا کہ چین آنے والے چند سالوں میں 19 فیکٹریاں صرف گوادر میں لگائے گا۔
امریکہ کو نہ صرف سی پیک پر اعتراض ہے، بلکہ جہاں پر بھی چین پہنچتا ہے، امریکہ وہاں اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیاں اقتصادی میدان میں گزشتہ کافی برسوں سے سرد جنگ کی سی کیفیت چل رہی ہے۔ امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ وہ چین کو اقتصادی، دفاعی، ثقافتی اور ٹیکنالاجی کے میدان میں آگے بڑھنے سے روکے، جس میں اسے بہرحال کامیابی نہیں مل رہی ہے۔
امریکہ نے اس سلسلے میں پہلی کوشش یکم جنوری 1995ء میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائیزیشن جس کو عرف عام میں WTO کہا جاتا ہے، کو بناتے وقت کی تھی، جس میں چین بھی مشروط طور پر شامل ہوا تھا، لیکن حقیقت میں چین اس میں صرف اس لیے شامل ہوا تھا تاکہ وہ سمجھ سکے کہ کس طرح بڑے اتحاد عالمی تجارت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ چین نے WTO میں شامل ہو کر جو کچھ سیکھا، وہی تربیت امریکہ کے خلاف استعمال کی، جس کے نتیجے میں خود امریکہ میں بہت سے کارخانے بند ہو گئے اور بیروزگاری بڑھ گئی، وہ کارخانے بند ہونا اور بیروزگاری انہی علاقوں میں بڑھی، جن علاقوں کے لوگوں نے 2016 ء کے انتخابات میں ٹرمپ کو ووٹ دیے تھے۔
چین میں اجرت سستی ہونے کی وجہ سے امریکہ کے بہت سے سرمایہ داروں نے اپنی فیکٹریاں چین منتقل کر دیں لیکن قلیل عرصے میں چین نے ان کمپنیوں کے معیار کے مطابق اپنی کمپنیاں بنا لیں، جس سے امریکی سرمایہ داروں کو فائدہ پنہچنے کی بجائے نقصان اٹھانا پڑا۔ امریکی اقتصادی، سیاسی، اور عسکری ماہر سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے وجود کے لیے نازی جرمنی کے بعد ( 75 سالوں کے بعد) چین دوسرا بڑا خطرہ ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو ایسا خطرہ تو سوویت روس سے بھی نہیں تھا، کیوں کہ چین دنیا کا دوسرا بڑا اقتصادی ملک ہے، جس کے مغربی یورپ کی بہت سی حکومتوں اور اداروں سے اچھے اور مضبوط تعلقات ہیں، جو سوویت روس کے نہیں تھے۔ اس کے علاوہ چین اپنے جنوبی حصے میں موجود جزیروں کو بھی بند کروا رہا ہے، جس سے امریکہ کو اقتصادی طور پر بہت نقصان ہوگا۔ یاد رہے اسی راستے سے ہر سال امریکہ کا ساڑھے 5 کھرب ﮈالرز کا تجارتی و دیگر ضروریات کا سامان گزرتا ہے۔
چین روبوٹ بنانے اور مصنوعی ﺫہانت والی ٹیکنالاجی میں دن بہ دن ترقی کر رہا ہے، اس بات کا امکان ہے کہ آنے والے چند سالوں میں وہ امریکہ کو اس میدان میں پیچھے دھکیل دے گا اور خود پہلے نمبر پر پہنچ جائے گا۔ گزشتہ کچھ سالوں سے مجموعی طرح چین پوری دنیا میں سفارتی، سیاسی و معاشی، عسکری اور ٹیکنالاجی کے میدان میں امریکہ کو پیچھے دھکیل رہا ہے، جس سے امریکہ دن بہ دن نئے مسائل و مشکلات میں گھرتا چلا جا رہا ہے، اس لیے امریکہ کی جانب سے سی پیک کی مخالفت کو چین کے خلاف بنائی گئی اس کی وسیع عالمی پالیسی کے تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔



