چیئرمین صاحب! پی آئی اے میں آیات کی بے ادبی کا امکان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسافر جہازوں میں دوران پرواز مسافروں تک معلومات اور اطلاعات پہنچانے کے لیے جہاز کے مختلف حصوں میں چھوٹے سپیکر نصب ہوتے ہیں جن کے ذریعے مسافر پائلٹ یا فضائی میزبانوں کی آواز میں یا ریکارڈنگ کی صورت میں پیغامات وصول کرتے ہیں۔ پیغامات یا اطلاعات مکمل ہوجانے کے بعد عموماً مسافروں کی دلربائی کے لیے انہی سپیکروں کے ذریعے ہلکی پھلکی موسیقی کی آواز بھی جہاز کے اندر کے ماحول کو مترنم رکھتی ہے۔ مسافر جہاز کے اندر کی فضا کو خوشگوار اور ابلاغی رکھنے کا یہ ایک انٹرنیشنل سٹینڈرڈ طریقہ ہے۔

پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے بھی انہی مروجہ اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے اپنے مسافروں کے لیے جہاز کے اندر نصب چھوٹے سپیکروں کے ذریعے مختلف اناؤنسمنٹس کا بندوبست کرتی ہے یا سریلے میوزک سے مہمانوں کا دل لبھانے کی بھرپور کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہوائی سفر کے دوران سپیکروں اور اناؤنسمنٹ کے استعمال کی بات کو فی الحال یہیں روک کر چند ذیلی سطروں میں ایک عقلی اور منطقی بات پر ذرا سا غور کرتے ہیں اور پھر دوبارہ ہوائی سفر کے مندرجہ بالا نکتے پر آتے ہیں۔

غور کرنے کی عقلی بات یہ ہے کہ بعض اوقات یہ مسئلہ مشاہدے یا تجربے میں آتا ہے کہ اگر کوئی شے کسی فائدے کے لیے ایجاد کی جائے تو بغیر سوچے سمجھے اسے ہرجگہ فٹ کرکے اس کے استعمال سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا یا کسی بھی سٹینڈرڈ کو ہرجگہ یا ہروقت من و عن لاگو کرکے اسے سٹینڈرڈ پر نہیں رکھا جاسکتا۔ اس طرح کے حالات میں ضروری ہوتا ہے کہ فٹ کی جانے والی شے کو مقامی جگہ کے مطابق تھوڑا بہت تبدیل کرلیا جائے یا پہلے سے قائم سٹینڈرڈ کو ہرجگہ ہروقت من و عن لاگو کرنے کی بجائے تھوڑی بہت ترمیم کرکے اسے مقامی ماحول کے لیے سٹینڈرڈ بنایا جاسکتا ہے۔

مندرجہ بالا عقلی بات کی تشریح کے بعد کالم کو پی آئی اے کی دوران پرواز اناؤنسمنٹ کے اوپر چھوڑے گئے نکتے سے دوبارہ جوڑتے ہیں اور مسافروں کی ایک شدید ذہنی کوفت کو سامنے لاتے ہیں۔ پی آئی اے کے قیام سے لے کر اب تک اِس ایئرلائن کی بہتری کے لیے لاتعداد تجاویز پیش کی گئیں، ان گنت مشورے حاصل کیے گئے، بیشمار اقدامات اٹھائے گئے لیکن پی آئی اے کے مسافروں کی درج ذیل ذہنی پریشانی کے بارے میں اس سے پہلے شاید کبھی کسی نے نہ سوچا ہوگا۔

معاملہ یہ ہے کہ پی آئی اے کے جہاز جب ٹیک آف کرکے اپنا سفر شروع کرتے ہیں تو اسلامی ملک کی قومی ایئرلائن کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے فضائی میزبان اپنی آواز میں یا ریکارڈنگ کے ذریعے سفر کی دعا پڑھتے ہیں یا قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں۔ اِن متبرک آیات کی آواز جہاز کے ہرکونے میں جاتی ہے۔ یہ بات ایک عام سے مسلمان کے ایمان کا بھی حصہ ہے کہ وہ قرآن پاک کی تلاوت کو احترام اور خاموشی کے ساتھ سنے تاکہ کسی قسم کی کوئی بے ادبی سرزد نہ ہو۔

دوران پرواز مسافروں کی سہولت کے لیے جہاز کے اندر ٹوائلٹ موجود ہوتا ہے۔ اگر کوئی مسافر اُس وقت ٹوائلٹ استعمال کررہا ہو تو اس کے کانوں میں اِن آیات کریمہ کی آواز پوری طرح پہنچتی ہے۔ ایسی صورت میں ایک عام سے مسلمان مسافر کے لیے یہ لمحہ کتنی ذہنی اذیت اور کوفت کا باعث ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ پاکستان اور فرانس کی نامور سماجی اور کاروباری شخصیت چوہدری محمد سلیم صاحب جو پاکستانی نژاد فرانسیسی ہیں کو اللہ تعالیٰ نے بہت توفیق دے رکھی ہے کہ وہ سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوتے رہیں۔

رب العزت گاہے بگاہے انہیں حج یا عمرے کی صورت میں مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ حاضری کی سعادت بھی عطا کرتا رہتا ہے۔ اسی عطا کردہ توفیق کے باعث چوہدری محمد سلیم صاحب ہروقت رب الکائنات کا شکر بجا لانے کی ہرممکن کوشش کرتے رہتے ہیں۔ کچھ دن پہلے وہ پی آئی اے کی ایک پرواز کے ذریعے پیرس سے پاکستان آئے۔ ان کے چہرے پر سفر کی تکان سے زیادہ بے حد ذہنی اذیت کے آثار تھے۔ معلوم کرنے پر انہوں نے جہاز میں سفر کی دعا اور آیات کی تلاوت کی آواز اور مسافروں کے ٹوائلٹ استعمال کرنے کے ایک ہی وقت کے بارے میں جس دکھ اور غم کا اظہار کیا انہیں یہاں الفاظ میں تحریر کرنا مشکل ہے۔

قرآن پاک کے احترام اور ممکنہ بے ادبی کے احساس سے ان کے دل اور آنکھوں سے جو آنسو بہہ رہے تھے وہ ایک سچے مسلمان کی ہی میراث ہوسکتی ہے۔ چوہدری محمد سلیم صاحب کا قرآن پاک کے احترام کے لیے یہ جذبہ دراصل ہر مسلمان کا جذبہ ہے۔ ہوسکتا ہے پی آئی اے کے پاس اس حوالے سے جواز موجود ہوکہ مسافروں کو اطلاعات پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہرجگہ اناؤنسمنٹ کی آواز جائے تاکہ دوران پرواز مسافر کی جانے والی اناؤنسمنٹس سے باخبر رہیں۔

خواہ وہ اپنی نشستوں پر موجود ہوں یا ٹوائلٹ استعمال کررہے ہوں یا کسی اور جگہ پر ہوں۔ اس لیے جہاز کے مختلف حصوں میں چھوٹے سپیکر نصب کیے جاتے ہیں اور انہی سپیکروں سے آیات کی تلاوت بھی نشر کی جاتی ہے۔ پی آئی اے کی یہ بات درست ہے لیکن وہی غور طلب منطقی بات جو چند سطور میں اوپر زیربحث لائی گئی تھی اُسے پی آئی اے یہاں بھی لاگو کرسکتی ہے کہ تھوڑی سی تبدیلی اور ترمیم کے ساتھ آیات کریمہ کے احترام اور جہاز میں کہیں بھی موجود مسافروں کو اناؤنسمنٹ سے باخبر رکھنے کا معاملہ حل ہوسکتا ہے۔

مثلاً وہ اس طرح کہ جہاز کے ٹوائلٹ کے سپیکر کا کنٹرول علیحدہ کردیا جائے اور جب سفر کی دعا یا آیات کی تلاوت ہورہی ہوتو ٹوائلٹ کے سپیکر کو بند کردیا جائے تاکہ یہ بابرکت آوازیں ٹوائلٹ استعمال کرنے والے بے لباس مسافر کو سنائی نہ دیں اور بے ادبی کا امکان ختم ہو جائے۔ اس کے بعد دیگر ضروری اناؤنسمنٹس کے لیے ٹوائلٹ کے سپیکر کو دوبارہ آن کردیا جائے۔ ٹوائلٹ کے سپیکر کا کنٹرول علیحدہ کرنا اس لیے بھی اہم ہوگا کہ پی آئی اے کے مطابق مستقبل میں کچھ پروازوں کے آغاز میں میوزک کی جگہ قصیدہ بردہ شریف کی ریکارڈنگ جہاز کے اندرونی سپیکروں سے نشر کی جائے گی۔

پی آئی اے کے موجودہ چیئرمین ایئر مارشل ارشد ملک دن رات انتھک محنت کرکے ایئرلائن کا امیج اور سٹینڈرڈ بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جو لوگ ایئر مارشل ارشد ملک کو جانتے ہیں وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ایئر مارشل ارشد ملک جب کسی ٹاسک کو شروع کرتے ہیں تو ان پر جنون طاری ہو جاتا ہے۔ وہ اٹھتے بیٹھتے اور سوتے جاگتے صرف اُسی ٹاسک کو مکمل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اب پی آئی اے کی بہتری ان کا ٹاسک ہے اور وہ اپنے اندر موجود خداداد صلاحیت کی بناء پر پی آئی اے کو عزت وقار اور کاروبار میں نمبر وَن ایئرلائن بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اسی لیے اُن سے توقع ہے کہ وہ اوپر زیربحث لائے گئے معاملے کا سدباب کرکے دوران پرواز متبرک آیات اور دعاؤں کی بے ادبی کے امکان کو ختم کرنے کا اقدام کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •