چینی مہنگی اور گنا سستا کیوں؟


کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ دیہات میں رہنے والے لوگ زمینوں کے مالک ہونے کے باوجود بھی زیادہ مالدار کیوں نہیں ہوتے؟ کہنے کو ان کے پاس کافی ایکڑ زمین ہوتی ہے، گاؤں کے محنت کشوں کے سامنے ان کی واہ، واہ ہوتی ہے لیکن زیادہ تر زمینوں کے مالک کسان خوشحال نہیں ہوتے۔ ٹی وی سکرین پر کھاد، زرعی ادویات اور سرکاری منصوبوں میں ایک پگڑی والا کسان دکھایا جاتا ہے جو بظاہر سفید کپڑوں میں ملبوس چہرے پر مسکراہٹیں بکھیرتا دکھایا جاتاہے، اس کمرشل کو دیکھ کر شہر میں رہنے والے عوام کو یوں لگتا ہے کہ گاؤں والے بڑے خوشحال ہوتے ہیں۔

ان کی خوشحالی کا اندازہ کبھی ان کے قریب جا کر لگا سکتے ہیں اوران کی اس خواہش سے بھی ان کی خوشحالی کی حقیقت کھل جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو شہروں میں سیٹ ہونے پر زور دیتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے ساری زندگی مٹی میں مٹی ہو کر دیکھ لیا، سوائے خالص خوراک کے انہیں کچھ ایسا حاصل نہیں ہوا کہ وہ بیماری کی حالت میں اپنی جیب سے کسی اچھے ہسپتال سے علاج ہی کراسکیں۔ انہیں کتا کاٹ جائے، سانپ ڈس جائے یا پھر کچھ اور، وہ خالی جیب ہونے کی وجہ سے منتوں اور دم درود پر ہی اکتفا کرلیتے ہیں (پھربھلا ہو پیروں کا جو جتنا مل جائے، اتنے میں پھونک ماردیتے ہیں) بچ جائیں تو خوش قسمتی اور مر جائیں تو لواحقین امر ربی پر صبرکر لیتے ہیں۔

کسانوں کے نزدیک خوشحالی شہرمیں ہوتی ہے، شہروالوں کی طرح گاؤں والے بھی یہ نہیں جانتے کہ خوشحالی کا تعلق گاؤں یا شہرسے نہیں۔ زراعت ہو یا پھر کاروبار، خوشحالی تبھی آئے گی جب آپ کو آپ کے مال پر مناسب منافع بھی ملے گا اور اگر آپ کی محنت پر کمائی کوئی اورکرے گا تو پھرآپ وہی کے وہی رہیں گے اور آپ کی محنت پر امیر کوئی اور ہوتاجائے گا۔

چاول کی فصل تو منڈیوں میں پہنچ چکی ہے اورجنہوں نے منافع کمانا ہے وہ کما چکے ہیں اور کچھ کمانے کی تیاری میں ہیں، اب اگلی فصل گنے کی ہے جس پر کسانوں کی محنت کے دن شروع ہونے والے، سرمایہ کاروں اورشوگرملز مالکان کی مرضی شروع ہونے والی ہے، گنے کی فصل پرکھیت سے لے کر شوگرملز تک پہنچنے کے دوران کہاں کہاں کسان کی کھال اتاری جاتی ہے وہ ایک الگ کہانی ہے کبھی اس کاذکر کروں گا لیکن آج ہم صرف قیمت پر بات کریں گے۔

گاؤں کے لوگ تو بخوبی جانتے ہیں کیوں کہ یہ ظلم ان کے ساتھ ہرسال ہوتاہے مگر شہرمیں رہنے والے عوام کو شاید یہ معلوم نہ ہو کہ شوگرملز مالکان کس طرح کسانوں کا استحصال کرتے ہیں۔ گزشتہ سال چینی کی قیمت تقریبا 45 روپے فی کلو تھی اور کسانوں سے گناتقریبا 180 روپے فی من خریدا گیا، آپ لمحہ بھر کے لیے سوچیں کہ چینی کا ریٹ فی کلو 45 روپے اور گنے کا ریٹ فی من 180 روپے تھا، کہیں بھی دونوں قیمتوں میں مطابقت پائی جاتی ہے؟ اس وقت چینی کم وبیش 75 روپے فی کلو مل رہی ہے اور ابھی تک گنے کا جو ریٹ ظاہر کیاگیا ہے کہ وہی پرانا ریٹ یعنی 180 روپے فی من ہے۔ قیمتیں اندازہ لکھی گئی ہیں، ان میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے، البتہ اندازہ یہی ہے۔

ملزمالکان یا تویہ وضاحت کردیں کہ ایک من گنے سے چینی ہی بہت کم نکلتی ہے اس لیے وہ چینی کا ریٹ بھی اسی حساب سے طے کرتے ہیں یاپھر کسانوں پر واضح کریں کہ چینی کی قیمت کے مطابق وہ گنے کا ریٹ کیوں نہیں مقررکرتے؟ کیا کسان کا استحصال اس لیے ہو رہا ہے کہ اس کی سننے والاکوئی نہیں؟ یا پھر انہیں بھیڑبکریاں سمجھ کر جومرضی ہی کرتے پھریں، وہ بولیں گے نہیں، اس خاموشی سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے؟

میڈیارپورٹس کے مطابق جب کسی دکاندار سے قیمت زیادہ لینے پرسوال ہوتا ہے تو وہ یہی کہتاہے کہ انہیں مال مہنگاملتا ہے اس لیے مہنگا بیچنا بھی اس کی مجبوری ہے، مان لیا کہ ایسا ہی ہے مگر جو کسان کسی فصل کی کئی مہینے دیکھ بھال کرتا ہے اس سے تو اشیا برائے نام قیمت پرخریدی جاتی ہیں، پھر کہاں کہاں قیمتیں بڑھتی جاتی ہیں، کیا انتظامیہ اس بات سے بے خبر ہے؟ ایساممکن نہیں۔ کہاں پرگرانفروشی ہورہی ہے اور کون کون وہ ہے جو ایک طرف سے کسان کا استحصال کر رہا ہے اوردوسری طرف عام عوام پرمہنگائی مسلط کرنے میں ملوث ہے۔

عام عوام کی طرح کسان فاقوں کے قریب پہنچ چکا ہے، کسان سے مراد جاگیردار، بڑازمیندارنہ لیں، بلکہ چھوٹا کسان مراد لیں، جو بے بس، مجبوراورلاچار ہے، اس کی سننے والا کوئی نہیں۔ میں ذاتی طور پر چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعظم سے گزارش کروں گا کہ جناب یہ الفاظ ایک لکھاری کے نہیں، بلکہ زراعت سے وابستہ لاکھوں کسانوں کی آوازہیں، انہیں غورسے سنیں، دیہات میں جاکر اصل کسانوں سے ان کے مسائل پوچھیں، اصل وجوہات جاننے کے لیے فوری کمیٹی تشکیل دیں اورذمہ داروں کو کٹہرے میں لاکرنہ صرف کسان کوخوشحال کریں، یقین کریں یہ ثواب دارین ہے۔

کرشنگ سیزن شروع ہونے سے قبل صرف متعلقہ افسران سے ایک ہی سوال کریں کہ چینی مہنگی اور گنا اتنا سستا کیوں ہے؟ گنا مہنگا ہونے سے عوام پر اثرنہیں پڑے گا بلکہ کئی گنا منافع لینے والے ملز مالکان اورمڈل مین کی بے حساب دیہاڑی ہی کم ہوگی جس سے اس کی جیب پر کوئی اثرنہیں پڑے گاکیوں کہ وہ طبقہ اتنا زیادہ مالدار ہے کہ انہیں اس سے فرق نہیں پڑے گا۔ کسان چیخ چیخ کرکہہ رہے ہیں کہ گنے کا اتنا ریٹ مقررکردیں کہ جس سے انہیں اپنے اخراجات نکال کرسارے سال کی محنت کادرست صلہ مل سکے۔

Facebook Comments HS