میڈیا کو چھوڑیں، کوئی اور شعبہ آزمائیں


پاکستانی میڈیا کے حالات اور میڈیا ورکر بلخصوص اس دور حکومت اور پاکستان کے معاشی مسائل سمیت میڈیا مالکان اور حکومت کے میڈیا مخالف رویے کی وجہ سے شدید مالی بحران کے ساتھ نوکریوں کے مسائل سے بھی دوچار ہیں چودہ ماہ سے زائد عرصے سے قائم ہونے والی تبدیلی سرکار نے اقتدار میں اتے ہی سب سے پہلے اسے ڈسا جس کا احسان لیا تھا چونکہ تحریک انصاف کے نظریہ کا سب سے زیادہ پرچار پاکستان کے میڈیا اور صحافیوں نے ہی کیا تھا اور قوم میں ایک بہتر پاکستان کی امیدیں اور نظام کو تبدیل کرنے کی امیدوں کی وابستگی تحریک انصاف سے منسوب کی تھی۔

اس وقت کئی ہزار افراد بیروزگار ہیں اور شدید مالی بحران کا شکار ہیں مگر حکومتی سطح پر کسی قسم کی کوئی شنوائی یہ معملات کو بہتر کرنے کے لئے حکمت عملی موجود نہیں ہے تمہید باندھنے کا مقصد صرف اتنا ہے۔ تاکہ بتایا جاسکے کے اس وقت میڈیا انڈسٹری کے حالات شدید ناصرف خراب ہیں بلکے مایوس کن ہیں اور عنقریب بہتری کی کوئی امید نہیں ہے

میڈیا میں موجود نوجوان جوکہ کم عمر ہیں اور سوشل سائنسس پڑھ کر میڈیا اور صحافت کرنے کے شوق میں اس شعبے سے وابستہ ہوئے تھے اب ان کی ترقی کے امکانات انتہائی ماند پڑچکے ہیں لیکن انڈسٹری میں 10 سے 40 ہزار تک کام کرنے والے نوجوان طبقے کی نوکریاں پھر بھی محفوظ ہیں بانسبت ایک ایسے شخص کے جنہوں نے ایک طویل عرصہ صحافت اور میڈیا انڈسٹری کو دے دیا ہے کسی سے نے دس سال کسی نے پندرہ سال اور کئی افراد بیس سالوں سے بھی زیادہ عرصے سے اس انڈسٹری سے وابستہ ہیں کچھ ایسے ہیں جو اخبار کے دور سے صحافت کرتے ہوئے الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ ہوئے مگر اب انڈسٹری کے حالات اور بڑھتی عمر کے باعث پریشانی سے دوچار ہیں چونکہ میڈیا انڈسٹری میں عمومی طور پر ان نوجوانوں کی نوکریاں قدرے محفوظ ہیں جو بھاگ دوڑ کرکے اٹھ سے بارہ گھنٹے نوکری کررہا ہے کچرا سیاست اور ہر منجن شوق سے بیچ رہا ہے مگر ترقی پھر بھی ان کے لیِے محدود ہی ہوچکی ہے تو بہتر ہے زندگی اور مستقبل بہتر کرنے کے لیِے بہتر موقع تلاش کریں اور کسی اچھی فیلڈ کا انتخاب کریں

دوسری جانب ایک بڑا طبقہ اس انڈسٹری میں وہ موجود ہے جس کی تنخواہیں زیادہ ہیں مگر اب میڈیا مالکان ان قابل لوگوں کے بجائے سستے لوگوں کو ترجیح دے رہے ہیں اس لئے یہ تو تنخواہوں میں کٹوتی کرکے کام کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے یہ پھر نوکریوں سے برطرف کیا جارہا ہے خبر کی دوڑ صرف واٹس اپ تک محدود ہے بڑی سے بڑی خبر چند منٹوں میں سوشل میڈیا اور واٹس اپ گروپ پر ہر رپورٹر اور عام شہری تک پہنچ جاتی ہے اس لئے مہنگے اور قابل لوگوں کے معاملات کو خراب کرکے انہیں ایک ذہنی پریشانی میں مبتلا کردیا گیا ہے جو نوکریوں پر ہیں اللہ ان کے روزگار سلامت رکھے مگر آپ کو مستقبل کے بارے میں سوچنا ضرور چاہیے چونکہ ناممکن کچھ نہیں

امریکن انسٹیٹیوٹ اف اکنامک ریسرچ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق وہ افراد جنہوں نے چالیس سال کے بعد اپنے شعبے تبدیل کیے یعنی کریئر شفٹ کیا وہ کامیاب ہوئے ہیں رپورٹ کے مطابق بیاسی فیصد افراد جن کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہے انہوں نے کریئر شفٹ کیا اور وہ کامیاب ہوئے ان کا یہی کہنا ہے کہ ان کا دیر سے لیکن درست فیصلہ ان کے لئے ناصرف بہتر ثابت ہوا بلکے انہیں ذہنی سکون بھی حاصل ہوا ہے جبکہ اٹھارہ فیصد افراد کریئر شفٹ کے تجربے میں ناکام بھی ہوئے ہیں لیکن رسک لے کر کاروبار کرنا یہ اپنے مستقبل کو بہتر کرنے کے لئے کسی بہتر شعبے کے انتخاب کے لئے رسک لینا ممکنہ طور پر آپ کے لئے بہتر ثابت ہوسکتا ہے مگر اِس کے لئے کچھ بہتر سوچ اور اقدام آپ کو کرنا ہوں گے

مثلاً

آپ کو سب سے پہلے خود سے سوال کرنا ہوگا کہ کیوں میں یہ کریئر شفٹ کرنا چاہتا ہوں؟

آپ کو خود کی صلاحیتیوں کو پہچاننا ہوگا اور خود کے ساتھ مخلص لوگوں کی رائے کے تناظر میں اپنی صلاحیتوں کو ابھارنا ہوگا

آپ کو سوشل پلیٹ فارم کو بہتر انداز میں استعمال کرتے ہوئے اپنی ایک نئی پروفائل بھی بنانی ہوگی جوکہ ایک ایسے شخص کو سامنے لائے جو نیا کریئر شروع کرنا چاہتا ہو

شعبے کا انتخاب کرنا ہوگا اور اس حساب سے خود کی صلاحیتوں کو جاننا ہوگا ذہنی طور پر بھی خود کو تیار اور مضبوط بنانا ہوگا

رسک لینا ضروری ہے اسی لئے بہتر یہ ہوگا کہ اپ کچھ سیونگز کرلیں مگر کریئر تبدیل نئی فیلڈ کا انتخاب کرنے کے ساتھ نہیں بلکے اس میں جانے کے بعد شفٹ کریں مگر سیونگز ناکامی کی صورت میں اپکے لئے کارگر ثابت ہوسکتی ہے

منفی باتیں اور مشورہ دینے والوں سے کریئر شفٹ کے بارے میں گفتگو کرنے سے پرہیز کریں

پاکستان بالخصوص کراچی میں کاروبار کے بہترین مواقع مجود ہیں جبکہ میڈیا انڈسٹری سے منسلک افراد کانٹینٹ رائٹنگ، ای کامرس اسٹور، پی ار ایجنسیز، کامیونیکیشن ڈیپارٹمنٹس کی جاب میں شفٹ ہوسکتے ہیں کوشش ضرور کریں چونکہ ترقی نہ ہونے اور ذہنی دباؤ میں کام کرنا خود پر ظلم کے سوائے کچھ نہیں ہے اپ قابل ہیں اور اپنی صلاحتیوں کا لوہا منوا سکتے ہیں چونکہ صحافی اور میڈیا انڈسٹری سے وابستہ افراد عام افراد سے زیادہ چیزوں کو بہتر سمجھنے اور معاملات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

(میری اس تحریر سے اپکا متفق ہونا ضروری نہیں۔ میری تحریر کچھ ریسرچ پر مبنی ہے مگر شاید یہ اپ کو سوچنے پر ضرور امادہ کرسکے گی )

Facebook Comments HS