دسمبر واقعی آ رہا ہے!
ہمارا دیس کرہ ارض کے جس گوشے میں واقع ہے وہاں دسمبر میں سرد و خشک ہواؤں، طویل و خنک راتوں اور گہری دھند کا بسیرا ہوتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کیا وجہ ہے مگر ایسا ہوتا دیکھا ہے جب گرمی کا اختتام ہوتا ہے ماحول پر ٹھنڈ چھانے لگتی ہے تو ان دنوں جذبات و احساسات میں بھی پہلے جیسی گرمجوشیاں برقرار نہیں رہتی۔ تمام شوخیاں اور سر مستیاں ماند پڑنے لگتی ہیں۔ تعلقات میں چھوٹی موٹی تلخیاں پیدا ہونا عام بات ہے اور اکثر معمولی گلے شکوے سے باہمی شکایات رفع ہو جاتی ہیں۔
تاہم دسمبر میں پرانی رنجشیں اور بد گمانیاں بھی بعض اوقات شدت اختیار کر کے محبت، تعلق اور دوستی کے خاتمے کا سبب بن جاتی ہیں۔ اچانک قائم ہونے والے بہت سے جذباتی تعلق ان دنوں اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے شاعر حضرات ماہ دسمبر کو ہجر کے استعارے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں سارا الزام دسمبر اور بدلتے موسم کے سر ڈالنا زیادتی ہے۔ جذبات کے بجائے عقل سے کام لے کر سوچا جائے تو یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ محبت یا تعلق ٹوٹنے کا بڑا سبب دل لبھانے کی خاطر کیے جانے والے جھوٹے وعدے ہیں۔
جب دماغ پر عشق کا بھوت سوار ہو تو عقل کام نہیں کرتی اور چکنی چپڑی باتوں پر ایمان لا کر بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں۔ اب تو تحقیق بھی ثابت کر چکی کہ محبت کا شکار ذہن نشے جیسے سرور سے مبتلا ہوتا ہے اور اس کیفیت میں زمینی حقائق کسی کو نظر نہیں آتے۔ اسی کیفیت کے زیر اثر تارے توڑ لانے کے دعووں اور ساتھ جینے مرنے کے وعدوں میں سچائی نظر آتی ہے۔ لیکن جذباتی کیفیت سدا رہنے والی نہیں کبھی نہ کبھی عشق کا بھوت اترنا اور عقل ٹھکانے آنا لازم ہے۔
عقل ٹھکانے آنے کے بعد جونہی آٹے دال کے بھاؤ کی خبر ہوتی ہے تو یہ احساس شدت سے سر ابھارتا ہے کہ زمانے میں اور بھی غم ہیں محبت کے سوا۔ پھر آپس میں شکوے شروع ہوتے ہیں اور پرانے وعدے یاد دلائے جاتے ہیں۔ جو تعلق پہلے ہی غیر فطری ہو اور اس سے وابستہ توقعات بھی پوری نہ ہو رہی ہوں تو وہاں بد اعتمادی کی دراڑ پیدا ہوتے دیر نہیں لگتی۔ ایسے قصوں کا نتیجہ بالآخر جدائی کی صورت نکلتا ہے۔
حکمراں جماعت نے بھی انتخابات سے قبل سہانے خواب دکھا کر چاہنے والوں کے جذبات ابھارے تھے اور توقعات کا لیول آسمان تک پہنچا دیا تھا۔ کیا کیا سبز باغ دکھائے کہ انہیں اقتدار دیا گیا تو ایک کروڑ نوکریاں بانٹیں گے۔ پچاس لاکھ گھر غریبوں کے لیے تعمیر ہوں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت میں کوئی شخص بے گھر نہیں رہے گا۔ صحت اولین ترجیح ہو گی۔ غریب کو دوا مفت فراہم کی جائے گی۔ تعلیم کا معیار یکساں ہو گا اور امیر و غریب ہر بچے کو برابر مواقع دستیاب ہوں گے۔
ریاست محاورتا ہی نہیں حقیقتاً ماں جیسی بنا دی جائے گی۔ انصاف سب کو دہلیز پر میسر ہوگا۔ دیس میں کوئی جرم بیگناہی کی سزا نہیں کاٹے گا۔ جس غریب کا کوئی پرسان حال نہیں ہو گا، ریاست اس کا مقدمہ خود لڑے گی۔ گزشتہ حکمرانوں نے قوم کو بھکاری بنا دیا تحریک انصاف کی حکومت کشکول اٹھائے گی، نہ قومی وقار گروی رکھے گی۔ یہی ملک ہوگا یہی معیشیت، نہ صرف قرض کے بغیر چلائیں گے بلکہ ترقی کی شاہراہ پر دوڑائیں گے۔ بتایا گیا تھا ملکی معیشیت کی جڑیں کھوکھلی ہونے کی اصل وجہ کرپشن کا ناسور ہے۔
اقتدار کے اولین دنوں میں ہی کرپشن کا خاتمہ کر لیں گے۔ کرپٹ آدمی کا خواہ کتنا ہی طاقتور ہو اس کا محاسبہ کیا جائے گا۔ قانون سب کے لیے برابر ہو گا اس کی علمداری پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔ حکومت رہتی ہے یا نہیں۔ لوٹا ہوا پیسہ قوم کی امانت ہے، لٹیروں سے یہ امانت ضرور واگزار کرائی جائے گی۔ سوئس بینکوں میں لوٹ کر جمع کرائے گئے دو سو ارب ڈالر واپس لا کر آئی ایم ایف جیسے اداروں کے منہ پر مار کر جان چھڑا لیں گے۔ زرعی میدان میں انقلاب آ جائے گا۔ پولیس سیاسی مداخلت سے پاک کر دی جائے گی۔ بیورو کریسی کو فری ہینڈ ملے گا۔ یعنی قائد اعظم کے فرمان کے مطابق وہ حکومت کے بجائے ریاست کی وفادار ہو گی۔
اقتدار ملنے کے بعد مگر کوئی ایک بات پوری نہیں کی۔ ایک ایک کر کے تمام وعدے فراموش کر دیے۔ وزیروں نے علی الاعلان یہاں تک کہہ دیا عوام نوکریوں کے لیے حکومت کی طرف نہ دیکھیں۔ پچاس لاکھ گھروں میں سے پچاس بھی اب تک تعمیر نہیں ہوئے۔ گھروں کے حصول کے لیے جو شرائط مقرر کی گئیں وہ ایسی ہیں کہ گھر کسی کو مل ہی نہیں سکتا۔ غریب کے مفت ٹیسٹ کی سہولت تک اس حکومت نے سرکاری ہسپتالوں سے ختم کر دی۔ تعلیم تو ترجیحات میں دور دور تک شامل نظر نہیں آ رہی۔
سانحہ ساہیوال اور سنگین غداری کیس دیکھنے کے بعد غریب کی نظام انصاف سے امید بالکل ختم ہو چکی ہے۔ ذہنی معذور صلاح الدین قتل کے بعد یہ علم بھی ہو چکا کہ جس کا کوئی نہیں ریاست کو بھی اس سے سروکار نہیں۔ کرپشن کا خاتمہ کیا ہونا تھا سب سے بڑے صوبے میں تھانیدار تک وزیراعلی کی جیب گرم کیے بغیر اب نہیں لگتے۔ پچھلے تو صرف قرض لیتے تھے اب تو ملکی خودمختاری بھی ساتھ گروی رکھی جا چکی ہے۔ قرضوں کے سود کی ادائیگی کے بہانے لگائے ٹیکسز کی بھرمار سے عوام کی زندگی اجیرن ہے۔ بجلی گیس کے بل دیکھنا سوہان روح ہے۔ آج لوگوں کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں۔ غریب کے لیے فیصلہ کرنا ممکن نہیں کہ وہ اپنے اور بچوں کے پیٹ کا دوزخ بھرے یا دوا دارو کرے۔
یہ حالات صرف سولہ ماہ کی پیداوار ہیں۔ سر دست اس بحث میں نہیں پڑتے حکومت بنانے میں عوامی رائے کو کتنا دخل تھا۔ بہرحال جن لوگوں نے ووٹ دیا ان کا اعتماد بھی حکومت سے اٹھ چکا ہے۔ اب صرف مایوسی ہے اور دلوں میں غیظ و غضب کا لاوہ ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ یہ پھٹا تو بہت کچھ بہا لے جائے گا۔ حکومت سنگینی کا احساس کرنے کے بجائے اداروں کے ساتھ ایک پیج کی موجودگی پر مطمئن و شاداں ہے اور یہ فراموش کر چکی ہے کہ ایوب خان اور پرویز مشرف تو اس پیج کے تنہا ہی مالک تھے۔
ان کا اقتدار بھی بدلتے عوامی مزاج کے سامنے ٹھہر نہیں سکا تھا۔ آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے معاملے پر کی گئی تازہ نالائقی سے پیدا ہونے والی بد اعتمادی کے بعد کہنا مشکل ہے کہ یہ سہولت بھی مزید کب تک دستیاب رہے گی۔ سرگوشیاں تو ہو رہی ہیں جی کا جانا کب سے ٹھہر چکا اب تو صبح گیا یا شام والا معاملہ ہے۔ کچھ لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ اگر گورننس بہتر بنا لی جائے، انا کو پرے دھکیل کر بوجھ بننے والے افراد سے جان چھڑا لی جائے اور سیاسی انتقام بند کر دیا جائے تو بہتری کی صورت نکل سکتی ہے۔
ویسے دسمبر کے بعد نئے سال کا آغاز بھی ہوتا ہے۔ نئے سال میں نئے انداز اور عزم کے ساتھ نئے سفر کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ ماضی سے سبق سیکھا جائے اور اپنی کوتاہیوں کے مداوے کی کوشش کی جائے تو تعلقات ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں اور زندگی گل و گلزار نہ سہی بہتر ضرور بنائی جا سکتی ہے۔ جگ ہنسائی سے بچنے کی خاطر تعلق برقرار رکھنا ہر کسی کی پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ لیکن دوسرا فریق اگر ڈھٹائی پر اڑا رہے اور اپنا چلن بدلنے پر آمادہ نہ ہو تو زندگی مستقل جہنم ہونے سے بچانے کے لیے علیحدگی کے سوا دوسرا راستہ نہیں بچتا۔


