بوڑھا نہ ہوگا سورج!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب تلاش میں لکھا ہے کہ تہذیب کو جاننے کے لئے انسان کے تصور کو وقت اور مقام کی لامحدود وستعوں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ رابیندر ناتھ ٹیگور نے ایک جگہ لکھا تھا کہ میری وطن کو جاننے کے لے زمانے کی طرف دیکھنا چاہیے، جب انسان نے جسمانی اور مادی قیدیں سے آزاد ہوکر روحانی بلندی حاصل کی تھی۔ یہ بات ہر زی روح نہیں سمجھ سکتی اور جس نے یہ بات سمجھ لی وہی دھرتی کی محبت میں مکمل طور پر سینچا گیا ِ صحرائے تھر کا فرزند، ایک خاموش سپاہی نور احمد جنجھی صاحب ہے جو اپنی صدیوں پرانی تہذیب کے پنوں پر سے ریت ہٹانے میں مشغولِ عمل ہے۔

جنجھی صاحب کی نئی کتاب ”بوڑھا نہ ہوگا سورج“ کو پڑھنے کا موقعا ملا جنجھی صاحب کی ہر کتاب میں کوئی ایک گوشہ ایسا ضرور ہوتا ہے جو میرے دل کو ہر بار چُھو جاتا ہے۔ اس کتاب کو میں پڑھ کر پریشان ہو گئی یہ کتاب نہیں بلکہ ایک ذخیرہ ہے علم کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس میں سندھ کی تہذیب سے لے کر تاریخ و تحقیق، سندھ کے لیجنڈ کرداروں سے لے کر پوری سندھ کی سرزمیں پرمبنی ایک دستاویز ہے اس دستاویز پر خلاصہ 900 الفاظ کی قید میں رہ کر کرنا خاصہ مشکل کام لگا۔

بِیتا ہوا وقت ماضی نہیں تاریخ ہوتی ہے جوایک فرد کو اپنی صدیوں کی تہذیب اور ورثے سے جوڑے رکھتی ہے۔ لیکن اس کام کو کرنے کے لئے ایک ایسے ہی جذبے کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنی مٹی سے جڑا ہوا ہو۔

مولانا رومی نے کہا ہے کہ، عقل قبر سے آگے نہیں دیکھ سکتی۔ قبر سے آگے عشق کا قدم اٹھتا ہے اورعشق ایک جست میں زمان ومکان والی کائنات سے آگے نکل جاتا ہے۔ جو لوگ اس پیغام کی اصل روح تک رسائی پالے وہی ایسی کاوش کرپاتے ہیں۔ مصنف اس کتاب کو لکھتے وقت اپنے صدیوں پرانے دستاویزات ویدوں کو کھوجتا ہوا دکھائی دیتا ہے یجر وید سے سام وید اور اتھر وید کا گھرا مطالعہ مصنف کے اندر لطیف کے تنبورے کی طرح تاریں چھیڑجاتا ہے اور پھر ایک وجدانی کیفیت ان کے قلم پر طاری ہوتی نظر آتی ہے، جو انہں موہن جو دڑو کی سنسان وادیوں میں لے جاتی ہے جہاں پھر تاریخ کے ورق پلٹے جاتے ہیں۔

وہ اپنی ہی عالیشان تہذیب سے مخاطب ہوتے ہوے لکھتے ہیں کہ سندھ جس کی تہذیب موہن جو دڑو سے شروع ہوتی ہے لیکن یہ ایک اُجاگرشدہ تاریخ ہے سندھ ہوسکتا ہے اس سے بھی پہلے موجود ہو مصنف اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ موہن جو دڑو کی کھدائی تو کی گئی پر اِس کو اُس کی قدامت سے آگے تک نہیں لے جایا گیا ہو سکتا ہے اس سے بھی آگے کوئی پرانا آثار دھرتی کی گود میں موجود ہو، اس وقت تک 2500 سندھو تہذیب کی قدیم جگہوں کی نشاندھی ہوئی ہے اتنی وسیع اور قدیم تہذیب کا سماج جس ماحول میں پلتا ہے وہ ایک بہت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

مصنف دیومالائی داستان کی تاریکی کے پردوں کو چاک کرکے تاریخ کو حقیقت کے آئینے میں لاتا ہے آریا نسل کے حوالے سے دیے گئے تفصیلات اس کتاب میں موجود ہیں تاریخ میں بہت ساری تفصیلات کے ساتھ دیومالائی قصہ بھی موجود ہیں پر اس کتاب نے اس حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم ضرور دیا ہے۔

مصنف صرف یہاں نہیں رکتا وہ اپنے قلم کی مسافت کو اور آگے بڑھتے ہوے سندھ کے عظیم اور موجودہ تباہ کن انڈس ڈیلٹا تک پہچتاہے، بہت سارے لوگ اس حقیقت سے ناآشنا ہیں کہ انڈس ڈیلٹا کی اہمیت کیا ہے، اک پیاسی ندی جس کا نام ویدوں میں سندھو ندی تھا اور آج بھی سندھو ندی ہی ہے۔ یہ ندی لداخ سے 2000 میل کا سفرطے کرکے سندھی سمندر کی کوکھ میں سما جاتی تھی اور یہی سنگم ایک بھرپور زندگی کو جنم دیتا تھا۔ تمرکے وسیع تر جنگلات اور آبی حیات کا مسکن بنا پھر وہی ہنستا کھیلتا ڈیلٹا برباد ہوتا گیا، ندی قیدوبند کی شکار ہوگئی نتیجتاً یہ نگری ویران ہوگئی۔

سندھیوں کے لئے انڈس ڈیلٹا ایک درد کی کتھا ہے اور رہے گا۔ مصنف بھی سمندر اور سندھو کی غیرفطری جدائی کے درد سے خود کو بچا نہیں سکے اور اس درد کو کئی پہلوں سے جانچتے ہوے، بہت ساری تحقیقی اور مختلف زاوئیے سے بیان کرتا ہے۔ تھر جس نے جنم دیا اس کی تپش کو اپنی طاقت بناکر وہ سرگردان روح بن کر اپنی ہی مٹی کی تہوں سے اپنا آپ ڈھونڈھ کر قلم بند کرتا ہے جس میں سوز سے بھرے سؑر اور آوازیں بھی شامل ہیں، تو سندھ کے نڈڑ شخصیات جن کی خدمات کو اور خوبصورت شعراء کو اچھے انداز سے اس کتاب میں سراہا گیا ہے۔

اس کتاب میں بہت سی کتابوں اور تحقیقات کے ذریعے بہت سارے موضوعات اور شعبہ زندگی کو اؑجاگر کیا گیا ہے۔ مصنف اپنی والدہ کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے اپنے آپ کو اپنی ماں کے عکس میں جانچتا ہے۔ ماں اور دھرتی دونوں ایک ہی تو ہوتی ہیں اپنی مٹی سے جنم دیتی ہے اور پھر اپنی ہی گود میں سُلادیتی ہے ماں سب سے پہلے اپنے وجود کے اندر ایک دوسری تبدیلی کو محسوس کرتی ہے کیوں کہ قدرت زمیں پر اس کا روپ دھار کرخود آتی ہے اور اس وجود کو اپنے خون سے سینچ کر ایک تخلیق کا روپ دیتی ہے۔ کوئی ماں قلم دیتی ہے تو کوئی سرخ جھنڈا کوئی ماں اپنی تخلیق کو حقیقت دینے سے پہلے ہی کھو دیتی ہے لیکن ماں کا درد تو ایک سا ہوتا ہے۔ جنجھی صاحب کی یہ کتاب نئی نسل کے لئے تاریخ اور تہذیب کو کھوجنے کے لیے راہِ مشعل اور سندھی ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •