دو ٹکے کی عورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو ٹکے کی عورت۔ آج کل یہ فقرہ ہر جگہ زیر بحث ہے۔ جس ڈرامہ میں یہ استعمال ہوا اس کے ہیرو اور ہیروئن سے زیادہ بلکہ پورے ڈرامہ سے زیادہ یہ ایک لائن مشہور ہوئی۔ مگر اس کو خصوصی طور پر صرف بے وفا عورت کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ میرے خیال میں اگر ہم اس کو ایک محاورے کے طور پر لئے یا اس کو تھوڑی دیر کے لیے ایک ٹیگ بنائے اور اپنے اردگرد نظر دوڑائے تو ہمیں بہت سے دو دو ٹکے کے لوگ بغیر کسی جنسی تقسیم کے نظر آئے گئے اور بہت سی سوچئے بھی یا پھر یہ بھی غلط نہ ہوگا کہ جس طرح ون ڈالر شوپ میں ہر چیز ایک ڈالر میں مل جاتی ہے ایسی طرح ہمارے معاشرے بھی دو ٹکہ سے کم نہیں۔

کیونکہ دو ٹکے کی عورت کا ٹیگ صرف اس عورت کے لیے نہیں جو پیسے کے لیے ایک مرد سے بے وفائی کر رہی ہے یا اپنی محبت کو چھوڑ رہی ہے بلکہ وہ مرد بھی دو ٹکہ کا ہے جو اپنی شریک حیات کا انتخاب اس بنا پر کرتا ہے کہ وہ مال دار ہے یا وہ اس کو کسی خوش حال ریاست کا شہری بنا سکتی ہے۔ ویسے محبت میں بے وفائی کے لیے ہی اس ٹیگ کو استعمال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ حال ہی میں میرے ایک دانشور نما دوست نے اپنی ایک تحریر میں لکھا تھا کہ زمانے میں ایک لڑکا لڑکی کی محبت ہی کا دکھ نہیں اور بھی بہت سے مسائل ہوسکتے ہیں اور خوشیاں بھی۔

اس لیے دو ٹکے کی عورت کا ٹیگ اور بھی بہت سارے لوگوں کے لیے ہے جیسے کہ جہیز نہ لانے یا بیٹا نہ پیدا کرنے پر بہو کو گھر سے نکلنے والا سسرال جس میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی شامل ہوتی ہیں۔ پراپرٹی میں بہنوں کو حصہ نہ دینے والے بھائی بھی دو ٹکے کے ہیں۔ اس طرح سے بچوں کے کھانے پینئے کی۔ اشیاء میں ملاوٹ کرنے والوں سے لے کر مردار جانوروں کا گوشت بیچنے والے بھی اس ٹیگ کے مستحق ہے۔ بڑی بڑی سیٹوں پر بیٹھے افسران جو ٹکے ٹکے پر بکتے ہیں اور وہ ڈاکٹر جو چند ٹکوں کی خاطر لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔

جو اپنے کمیشن کے لیے غیر ضروری ٹیسٹ اور ادویات لکھتے ہیں کیا وہ دو ٹکے کے نہیں؟ سیاست جو کبھی عبادت تھی اگر دیکھا جائے تو اپنی عوام سے کیے گئے وعدوں سے بے وفائی کرنے والے بھی کیا دو ٹکے کے نہیں؟ عوام کی دولت لوٹنے والے کیا دو ٹکے کے نہیں؟ انصاف کرنے والے اگر ظالموں سے مل جائے تو ان کو کیا کہا جانا چاہیے۔ مگر ان سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ نہیں کہ پھر یہ معاشرہ ہی ان کو عزت دیتا ہے۔ ان چوروں لٹیروں کے سر پر حکمرانی کے تاج رکھے جاتے ہیں۔

اگر لوٹنے والے کو چور اور ڈاکو کہا جاتا ہے تو رشوت لینے والا معاشرے میں معزز کیوں۔ کیا ملاوٹ۔ کرپشن اور لوٹی ہوئی دولت والوں کی عزت کرنے والا معاشرہ بھی دو ٹکے کا نہیں؟ ظالم کے سامنے جھکنے والے قانون سے لیے کر طاقت وار کے ہاتھوں بیکا ہوا قلم بھی دو ٹکے کا ہے۔ راہزنوں سے ملے راہبروں سے لے کر مصحلتوں کے شکار قاضی بھی دو ٹکے کے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے سے ان برائیوں کا خاتمہ ہو تو ہمیں ان لوگوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ سب دو ٹکے کے ہیں اگر پیسے کی خاطر بے وفائی کرنے والی دو ٹکے کی عورت ہوسکتی ہے تو پیسے اور نیشنیلٹی کے لیے شادی کرنے والا مرد بھی دو ٹکے کا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ آگے بڑھے اور دنیا میں ہماری عزت ہو تو ہمیں اپنے معیار بدلنے ہوگئے۔ حق۔ سچ ایمانداری اور کردار کی بنیاد پر کھڑا معاشرہ ہی دنیا کے ساتھ چل سکتا ہے۔ اپنے مذہب۔ روایات اور اقدار سے بے وفائی کرنے والے بھی دو ٹکے کے ہی ہوتے ہیں جن کی دنیا میں کوئی قدر اور عزت نہیں ہوتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
معین سلطان کی دیگر تحریریں
معین سلطان کی دیگر تحریریں