طلبا مارچ: نئی نئی سی ہے کچھ تیری رہگزر پھر بھی!
اس دفعہ کا فیض میلہ بھی گئے برس کے فیض میلوں کی طرح لوگوں سے میل ملاقات کا سبب تھا۔ پورا مال روڈ میلے میں آنے والے شوبز کے ستاروں کے پوسٹروں سے اٹا پڑا تھا۔ تمام سیشن میں سامعین کا رش تھا۔ ایسی فضا میں جب واپسی کی ٹھانی تو ایک ڈھول کی تھاپ پر نعرہ زن اور رقص کناں نوجوانوں کے خوش آہنگ نعروں کی آواز سن کر رکنا پڑا۔ موسیقی کا ردھم تو بہت خوب تھا، مگر الفاظ کو سمجھنے میں وقت لگا۔ سرفروشی کی تمنا، شہادت کی آرزو، لال سلام اور ایشیا سرخ ہونے کے نعروں سے اندازہ ہوا کہ یہ بائیں بازو کے طلبا کا گروہ ہے جو اس میلے میں اپنے انقلابی وجود کا پرجوش اظہار کر رہا ہے۔ اور ان کا یہ اجتماع 29 نومبر کو ہونے والے طلبہ یکجہتی مارچ کی تیاریوں کا حصہ ہے۔
گزشتہ صدی میں، اسی کی دہائی کے اولین فیض میلوں میں مزدور یونینوں کے شرکا ’ہم محنت کش جب جگ والوں سے اپنا حصہ مانگیں گے، اک کھیت نہیں، اک دیس نہیں، ہم ساری دنیا مانگیں گے‘ گاتے ہوئے میلے میں شرکت کرتے تھے۔ الحمرا کے ہال میں اقبال بانو نے فیض کی نظم ’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘ گا کرجنرل ضیائی مارشل لا کے شکار انقلابیوں کے دلوں کو ایک عرصے تک گرمائے رکھا تھا۔ اب بھی اس محفل میں موجود نوجوان اور آج کے بزرگ جب اس نظم کو سنتے ہیں تو بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ، ’جب اقبال بانو نے یہ نظم گائی تھی تو اس وقت ہم بھی وہیں موجود تھے۔ اور اس نظم کے دوران نعروں کی جو گھن گرج ہے، اس میں ہماری آواز بھی شامل ہے‘۔
اس نظم کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ کچھ نوجوانوں کواس میلے میں اسی طرح کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جنہیں قدیم ہوئے بھی قریبًا نصف صدی کا عرصہ بیت چلا ہے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر انقلاب کے نئے متوالوں نے ان نعروں کے علاوہ کچھ اور نئے نعرے بھی تخلیق کر لئے ہوتے۔ جلد ہی ان بزرگانہ خیالات سے توبہ کی کہ بار بار یہ دہراناا کہ ’ہمارے زمانے میں تو یوں ہوتا تھا۔۔۔‘ کچھ اتنی اچھی عادت نہیں ہے۔ منظر خوشگوار تھا اور مانوس اجنبیت والی اس موسیقی کی لے، اور پرجوش نوجوانوں کے والہانہ پن کو دیکھتے ہوئے ناسٹیلجیا سے لطف اندوز ہونے میں کوئی حرج نہیں تھا۔
بہت سے دیگر ریٹائرڈ سیاسی کارکنوں کی طرح ، جب سےزندگی کوایک غیر انقلابی نظر سے دیکھنا شروع کیا ہے، اس کے مسائل کچھ بالکل مختلف انداز سے نظر آنے لگے ہیں۔ دنیا کے مسائل کی انقلابی تشریحات اب ایک معصوم آرزو سے زیادہ کچھ زیادہ اہم نہیں لگتیں۔ میلے میں موجود ایک باخبر اور سنجیدہ دوست نےجب توجہ دلائی کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زمینی سیارے کا مستقبل اور مصنوعی ذہانت کی وجہ سے انسان کا اپنا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے تو پھر ایشیا کے سرخ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہمیں بھی صورت حال کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔ موسیقی کی لے اور نعروں کے ردھم کا کچھ دیر مزہ لیا، اور پھر نوال ال حراری کے بتائے ہوئے اکیسوی صدی کے اکیس اسباق کو یاد کرتے ہوئے، اندیشہ ہائے دور دراز میں غلطاں واپسی کی راہ لی۔
اگلی صبح سوشل میڈیا پر چند محترم دانشوردوستوں نےبہت خلوص سے ان نعرہ زن نوجوانوں کو سمجھایا کہ وہ جس راہ پر چل رہے ہیں اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ ان کی اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسی انقلابی جدوجہد میں گذرا ہے، انہوں نے نہایت شفقت آمیز انداز میں انہیں نصیحت کی کہ ان تلوں میں تیل نہیں‘ اور بہتر ہے ان دقیانوسی خیالات کو دفن کر دیا جائے۔
آج ملک بھر میں طلبہ یک جہتی مارچ ہوئے۔ مختلف شہروں میں خاصی بڑی تعداد میں طلبہ نے ان میں شرکت کی۔ امنگ سے بھرپور ان کی ریلیاں دیکھ کر سوچا کہ سیاسی منظر بدل رہا ہے۔ بہت عرصے بعد اس قدربڑی تعداد میں ترقی پسند نوجوانوں کی شرکت ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کی طرح تھی۔
اسلام آباد پریس کلب کے سامنےطلبہ مارچ کے شرکا کا جوش و خروش دیکھا اور انہیں ’ہلہ بول‘ کے نعرے لگاتے سنا تو ہمارے باخبر دوست نے پھر سمجھایا کہ پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے، اس کا بھی کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلے گا۔ تاہم اس بار بائیں بازو سے وابستہ ایک پرجوش رہنما بھی گفتگو میں شریک ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ کوئی اٹل حقیقت نہیں ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے۔ یہ نوجوان معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں، مگر ضروری نہیں کہ صرف اسی ہدف اور حکمت عملی کو سامنے رکھے ہوں جنہیں گذشتہ چند دہائیوں میں بائیں بازو کے رہنماؤں نے مقرر کیا ہو۔ اس دنیا کو ایک خوشگوار جگہ بنانے کی جدوجہد کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ پاکستان میں کی جانے والی جمہوریت پسند اور انسان دوست جدوجہد نہ ہی گذشتہ دہائیوں میں شروع ہوئی اور نہ ہی ختم ہوئی۔ کسی خاص ناکامی کی وجوہات پر اصرار، اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ ہر پہلو میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں، صحیح نہیں ہیں۔ فتح کی طرح شکست بھی کوئی دائمی حقیقت نہیں ہے۔
ان کے مطابق ماضی میں حالات مختلف تھے۔ اکثر دانشوروں کی سیاسی اڑان کمیونسٹ مینی فیسٹو، مختلف قسم کے انقلابی خلاصہ جات یا مارکسی درسی ماڈل پیپرز سے آگے نہیں بڑھی ہوئی تھی۔وہ ایک ایسے دور کی جدوجہد تھی جس میں خفیہ جگہوں پر، اپنے نام بدل کر ، نحیف روشنی سے لرزتے کمروں میں، خفیہ سے ڈرے لوگ اپنی شناخت تبدیل کر کے میٹنگز کرتے تھے۔ سرخ پرچم کے شمارے ممنوعہ مشروب کی طرح نیفے میں اڑس کر تقسیم ہوتے تھے، اور ان میں بھی کوئی خاص معلومات نہیں ہوتی تھیس۔ مغربی جریدوں کو پڑھنا ایک بورژوا عمل سمجھا جاتا تھا، اور قا بل نفرین تھا۔
جب ان سے پوچھا کہ آج کی صورتحال کس طرح ماضی سے مختلف ہوگا تو بتایا کہ آج کے حالات بہت زیادہ قابل رشک نہ سہی، مگر پہلے سے مختلف ضرور ہیں۔ انهیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے عوامل بدل چکے ہیں۔ معلومات کی ٹیکنالوجی کے فروغ نے بہت سے علمی وسائل تک پہنچ آسان بنا دی ہے۔ ایک خاموش تبدیلی نےنوجوانوں میں نئے طرز فکر اور رویے تخلیق کئے ہیں جو زیادہ حقیقت پسندی پر مبنی ہیں۔ یہ ایک مختلف نسل ہے جو قطعاً ایک لگے بندھے نظریے سےکسی مقدس وابستگی کی بجائے نئی راہیں تلاش کرنے میں دیر کرنے کی روادار نہیں۔
طلبہ مارچ میں شریک ایک نوجوان کی بات دل کو لگی کہ خیالات کسی ایک مقام پر نہیں رکتے۔ ہر نیا دور اپنے ساتھ نئے خیالات اور نیا منظر نامہ تخلیق کرتا ہے۔ وقت ماضی کے مخصوص فکری بندھنوں میں سے آگے نکل گیا ہے۔ جمہوری آزادیاں، انسانی حقوق اور معاشی مواقع کا حصول نئی ترقی پسند سیاست کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اور طلبا تحریک کسی نئی کیفیتی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔
بات تو صحیح ہے، اور دل کو بھلی لگتی ہے ۔


