حکومت کی نالائقی کا سب سے بڑا شکار جنرل قمر جاوید باجوہ خود ہوئے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع /دوبارہ تقرری کے حوالے سے سپریم کورٹ میں منگل کی صبح اچانک شروع ہونے والا ’ڈرامہ‘ جمعرات کی سہ پہر ان کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع اور آئین کے آرٹیکل 243 جو سروسز چیفس کی تعیناتی کے بارے میں ہے میں ترامیم کرنے کے حکم کے ساتھ ختم ہو گیا۔ اب جنرل باجوہ جن کی تین سالہ پہلی مدت چند گھنٹے بعد ختم ہونے والی تھی مزید چھ ماہ آرمی چیف رہیں گے۔

اس ساری صورتحال کے لیے حکومت وقت کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ یہ بات تو درست ہے کہ وزرات قانون اور وزیراعظم کی لیگل ٹیم نے سخت نالائقی کا ثبوت دیا ہے، ایسے لگ رہا تھا کہ اس سارے معاملے کو قانونی ماہرین نہیں بلکہ ایسے افراد ہینڈل کر رہے ہیں جن کو قانون پر عبور ہی نہیں۔ اسی بنا پر بدھ کو چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے انتہا ئی جھلائے ہوئے انداز میں توسیع کے نوٹیفکیشن میں بعض ایسی بنیادی غلطیوں کی نشاندہی کی کہ اٹارنی جنرل کو معذرت کرنا پڑی کہ یہ محض کلریکل غلطی ہے۔

سب سے پہلے تو حکومت نے ترمیم شدہ نوٹیفکیشن بدھ کی صبح پیش کیا۔ اٹارنی جنرل انور منصورعدالت میں ایسی بے سروپا باتیں کرتے رہے کہ جنرل تو کبھی ریٹائر ہی نہیں ہوتے۔ جس پر فا ضل جج نے سوال کیا کہ پھر تو کوئی بھی شخص آرمی چیف بن سکتا ہے۔ ابتدائی طور پر عدالت عظمیٰ نے تین بنیادی اعتراضات اٹھائے جن کا تعلق قانون میں آرمی چیف کی تقرری کے طریقہ کار اور اس ضمن میں جواز کہ کس بناپرآرمی چیف کو توسیع دی جا رہی ہے، سے تھا۔

جہاں تک درخواست گزار ریاض حنیف را ہی کاتعلق ہے ان کی پٹیشن پہلے تو پیش کی گئی بعدازاں اسے واپس لینے کی کوشش کی گئی جس پر میڈیا کے مطابق عدلیہ نے کہا کہ ہم سو موٹو لے رہے ہیں جس پرعدلیہ نے واضح کیا کہ ہم نے سو مو ٹو نوٹس نہیں لیا بلکہ اسی درخواست پر سماعت کر رہے ہیں۔ جب قواعد وضوابط کاجائزہ لیا گیا تو یہ بات منکشف ہوئی کہ اس ضمن میں کو ئی قانون اور قاعد ہ ہے ہی نہیں اور سب کچھ بر سہابرس سے ماورائے قانون ڈنگ ٹپاؤ طریقے سے ہی چل رہا ہے۔

ایک ایسے ملک میں جس کی 72 سال کی تاریخ میں زیادہ عرصہ فوجی، نیم فوجی یا فوج کے زیر اثر حکومتیں رہی ہوں، یہ حیران کن بات نہیں ہے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ طالع آزما خود کوہی ایکسٹینشن دیتے رہے۔ جنرل ایوب خان 17 جنوری 1951 ء سے 27 اکتوبر 1958 ء تک فوج کے سربراہ رہے اور بعدازاں 1959 ء میں خود ہی فیلڈ مارشل بن گئے۔ ایوب خان نے جو وزیر دفاع بھی تھے اور کمانڈر انچیف بھی، ایسی نا پسندید ہ روایت ڈالی جواب تک جاری ہے۔

27 اکتو بر 1958 ء کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خان نے جنرل موسیٰ کو کمانڈر انچیف بنایا اور ان کی مدت ملازمت میں 1966 ء تک توسیع بھی کردی۔ جنرل یحییٰ خان 18 ستمبر 1966 ء کو کمانڈر انچیف بنے اور سقوط ڈھاکہ یعنی 20 دسمبر 1971 ء تک فوج کے سربراہ رہے۔ انھوں نے بھی اپنی مدت ملازمت میں خود ہی توسیع کرلی۔ جنرل ضیاء الحق کو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں یکم مارچ 1976 ء کو چیف آف آرمی سٹاف بنایا گیا۔

ان کا شمار خوشامدی ترین جرنیلوں میں ہوتا تھا لیکن 5 جولائی 1977 ء کو اسی جرنیل نے اپنے محسن ذوالفقار علی بھٹو کی پیٹھ میں چھرا گھونپا اورچیف مارشل لا ایڈ منسٹریٹر بن گئے، وہ بھی اپنے دور میں ملازمت کوقریباً بارہ سال تک توسیع دیتے رہے اور بالآخر 17 اگست 1988 ء کو پراسرار فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ یوں وہ تاحیات آرمی چیف رہے، پراسرار طریقے سے ان کی موت نہ ہوتی تو اسلامی نظام کا نعرہ لگا کر اپنے اقتدار کو مزید دوام بخشنے کے لئے پوری طرح تیار تھے۔

ایک اور طالع آزما جنرل پرویز مشرف کو میاں نواز شریف نے 6 اکتوبر 1998 ء کو آرمی چیف بنایا اور وہ 28 نومبر 2007 ء تک آرمی چیف رہے، وہ بھی خود کو توسیع دیتے رہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے احیا کے بعد بھی پیپلزپارٹی کی حکومت میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بطور آرمی چیف تین سال کی توسیع دی گئی۔ اس بارے میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے میرے ایک سوال کے جواب میں برملا کہا تھا کہ انھوں نے ایکسٹینشن دی نہیں تھی بلکہ جنرل کیانی نے خود ہی لے لی تھی۔

میاں نواز شریف بطور وزیراعظم ایکسٹینشن دینے کی پالیسی کے سخت خلاف تھے۔ جنرل جہانگیر کرامت سے تو انھوں نے مدت ملازمت ختم ہونے سے چند ہفتے قبل ہی استعفیٰ لے لیا تھا۔ انھوں نے بھرپور بلاواسطہ لا بنگ کے باوجود جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی تھی۔ جنرل قمر جاویدباجوہ بھی انہی کے مقرر کردہ تھے اور اگر نواز شریف برسر اقتدار رہتے تویقیناً ان کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کر تے۔ عام تاثر یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت تو ’خلائی مخلوق‘ کی ہی پیداوار ہے اور موجودہ فوجی قیا دت نے دامے درمے سخنے ان کا ساتھ دیا۔

لہٰذا یہ توقع تھی کہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی جائے گی تاکہ انگلی پکڑ کر عمران خان کو اپنی مدت وزارت عظمیٰ پوری کرا سکیں۔ یقیناً قواعد وضوابط میں سقم کی وجہ سے معاملہ عدالت عظمیٰ تک پہنچ گیا لیکن جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون چلتا رہاہو کسی کو قواعد وضوابط بنانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ جیسا کہ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر عالم خان نے نشاندہی کی یہ معاملہ ان کے سامنے آیا ہے تو وہ اس پر حتمی فیصلہ کرکے ہی اٹھیں گے لیکن ان کے پاس محض تین دن تھے کیونکہ 28 اور 29 نومبر کی درمیانی شب جنرل قمر جاوید کی مدت ملازمت ختم ہو رہی تھی اور ان کے کسی جانشین کی نامزدگی نہیں ہوئی تھی۔

فاضل بینچ نے حکومت کی غلطی، درغلطی اور درغلطی کے بعد جس نوٹیفکیشن پر آرمی چیف کو چھ ماہ کی توسیع دی ہے اس کے تحت چھ ماہ میں ایکٹ میں ترمیم کا کہہ کر بال پارلیمنٹ کے کورٹ میں پھینک دیاہے۔ عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں کہا ہے کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے نئی قانون سازی کے ذریعے آرمی چیف کے عہد ے اور سروس کی ٹرمز اینڈ کنڈیشنز کا تعین کیا جائے۔ یہ وزیراعظم عمران خان کے لیے بلاواسطہ طور پر ایک سزا ہے کیونکہ ایسی اپوزیشن جس کو وزیراعظم سے لے کر ان کے مشیروں اور ترجمانوں کی طرف سے مسلسل مطعون کیا جا تا رہا ہے اب اس کے سا تھ بیٹھنے کے سوا کو ئی چارہ نہیں لیکن وہ اب بھی اس کے ساتھ بوجوہ اور با امر مجبوری بیٹھنے سے گریزاں ہیں۔

اپوزیشن توکئی مرتبہ قانو ن سازی کے ضمن میں دست تعاون بڑھاتی رہی ہے لیکن یہ بیل تب تک منڈھے نہیں چڑھے گی جب تک حکومت کچھ لواور کچھ دو کرکے بنیادی معاملات طے نہیں کرتی۔ اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ لگانے کی پالیسی کے نتیجے میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، الیکشن کمیشن کی تکمیل، نیب کے قانون میں بنیادی تبدیلیوں پرڈیڈلاک کی صورتحال ہے۔ اس وقت ملک میں نیب نے اس قسم کا ماحول بنارکھا ہے کہ وہ کسی بھی سیاستدان تو کجا کسی بھی شخص کو کسی ثبوت کے بغیر 90 دن تک حراست میں رکھ سکتا ہے، اس روش کو ترک کرنا ہو گا۔

خان صاحب یہ سب کچھ کیسے کریں گے کیونکہ وہ تو لیڈر آف اپوزیشن اوردیگر رہنماؤں سے ہاتھ ملانے کے بھی روادار نہیں۔ میاں نواز شریف کو بغرض علاج بیرون ملک جانے کی طوعا ً وکرہا ً اجازت دینے کے بعد وہ برملا کہتے ہیں کہ وہ دھوکہ دے کر باہر گئے ہیں، اب یہ سب کچھ کیسے چلے گا۔ لگتا ہے کہ خان صاحب اور ان کی ٹیم مرغ کی ایک ٹانگ پر کھڑی ہے۔ وہ ایک اچھا فیصلہ کرنے کے بعد بھی اپوزیشن کو غیر ضروری ٹھونگے مارنے سے گریز نہیں کر رہے۔

ان کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے سے بیرون ملک دولت رکھنے والوں، مافیاز، ملک دشمنوں اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ چاہنے والوں کومایوسی ہوئی ہے۔ اگر مافیاز سے ان کی مرادشریف فیملی ہے تو حالیہ بحران تو ان کی نالائق ٹیم کی کارکردگی کا شاخسانہ تھا جس کی اپوزیشن کس طرح ذمہ دار ٹھہری اور آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے معاملے کو جس طرح ہینڈل کیا گیا اس کا مولانا کے دھرنے سے ناتا جوڑنا زیادتی ہو گی۔ اس پر تو کف افسوس ہی ملنا پڑے گا کہ اگر اتنے بڑے آئینی بحران سے نکلنے کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت ڈھٹائی کے ساتھ اپنی 15 ماہ والی ڈگر پر ہی چلتی رہے۔

اس سارے معاملے میں فوجی قیا دت کو بھی کچھ سبق سیکھنا ہو گا۔ جس کاکام اسی کو ساجھے، حکومت چلانا افواج پاکستان کاکام نہیں ہے اور اس حوالے سے تحر یک انصاف کی پندرہ ما ہ کی حکومت کا تجربہ ناکام رہا ہے۔ حکومت کی نالائقی کا سب سے بڑا شکار جنرل قمر جاوید باجوہ خود ہوئے ہیں جس کا چیف جسٹس بھی اپنے ریمارکس میں تذکرہ کر چکے ہیں۔ ایک اور بات جو روز روشن کی طرح واضح ہو گئی ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان کے سیا سی مدوجزر سے گزر کر جمہوری اداروں میں پختگی آ گئی ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ جو چند ہفتے بعد ریٹائر ہورہے ہیں نے ثابت کردیا ہے کہ عدلیہ صرف طاقتور بلکہ طاقتور ترین پر بھی ہاتھ ڈال سکتی ہے۔ اسی طر ح انھوں نے وزیراعظم عمران خان کے اس چیلنج کہ موجودہ چیف جسٹس اور آنے والے چیف جسٹس طاقتور کا بھی احتسا ب کر یں۔ خان صاحب کی فرمائش کی تکمیل بھی ہو گئی ہے۔ وہ پارلیمنٹ جس میں تشریف لے جانا حکمران اپنی توہین سمجھتے ہیں بھی قائم دائم ہے اور تحریک انصاف کی حکومت کو اسی سے رجوع کرنا پڑے گا۔

جہاں تک میڈیا پر کاٹھی ڈالنے کی کوششوں کا تعلق ہے وہ بھی ناکام ہو گئی ہیں اب انھیں ترک کردینا چاہیے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید غیرذمہ دارانہ بیانات دینے کے ماہر ہیں۔ خان صاحب کو انھیں اور دیگر ترجمانوں کو سختی سے منع کرنا چاہیے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے مزید تبصرہ آرائی نہ کریں۔ مثال کے طور پر شیخ صاحب کا یہ بیان کہ جنرل باجوہ چھ ماہ نہیں تین سال مکمل کریں گے خاصا محل نظر اور غیر ضروری ہے۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •