مہر بلوچ: بلوچستان کی نئی گلوکارہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موسیقی کے بارے میں اتنا سنا ہے کہ وہ روح کی غذا ہوتی ہے۔ اور جب کوئی موسیقار سریلی آواز اور دھنوں کے ساتھ گارہی ہو تو کئی روحوں کو تسکین ضرور مل رہی ہوتی ہے۔ پدرشاہی معاشرے میں زیادہ تر موسیقار مرد ہوتے ہیں۔ جب کہ عورتیں سماجی اور معاشرتی زنجیروں میں قید ہونے کی وجہ سے بہت کم اس شعبے کو اپناتے ہیں۔

مکران میں بلوچی ادب اور میوزک شاید یہاں کے لوگوں کو وراثت میں ملی ہے جہاں ہر کونے میں سریلی آواز گونج رہے ہوتے ہیں۔ اور شاعر و ادیب بھی ایسی شاعری تخلیق کرتے ہیں، جنہیں موسیقار سریلی آواز اور خوبصورت دھنوں کے ساتھ گا کر اس دنیا کو مزید رنگین بنا رہے ہوتے ہیں۔

گوادر سے تعلق رکھنے والی مہر بلوچ بلوچ موسیقی کی دنیا میں ایک نیا اضافہ ہے۔ ادب کی دنیا میں مکران کی عورتیں پہلے سے اپنے نام کا لوہا منوا چکی ہیں۔ جب کہ موسیقی کی دنیا میں مہر بلوچ ایک نیا اضافہ ہے۔ ماضی میں پسنی سے تعلق رکھنے والی گلو بلوچ بھی اپنی سریلی آواز سے کئی گیت گاچکے ہیں۔ ان کی آواز کو امر ہوئے اب کئی عرصے بیت چکے ہیں۔

مہر بلوچ گریجویٹ کرنے کے بعد ایک پرائیوٹ سکول میں پڑھا رہی ہیں، اور شوق اسے موسیقی اور سنگیت کی طرف کھینچ کر لائی ہے۔ 2016 میں بے پناہ شوق نے مہر بلوچ کو موسیقار بنا دیا اور پھر 2017 میں مہر بلوچ کی پہلی البم ریلیز ہوگئی ہے۔ جیسے بے پناہ سراہا گیا ہے۔

مہر بلوچ کہتی ہے کہ مجھے موسیقی کا شوق تھی اور میں نے اسی شوق کو پروان چڑھانے کے لیے اپنی مادری زبان بلوچی میں گائیکی شروع کی۔ مہر بلوچ کہتی ہے کہ اب تک میرے دو البم ریلیز ہوچکے ہیں، اور میں ابھی موسیقی سیکھ رہی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے زبان کی ترقی کے لیے اس شعبے میں آئی ہوں، شروع میں مشکلات ضرور پیش آئے مگر اب میں بہت کچھ سیکھ چکی ہوں۔

مہر بلوچ کہتی ہیں کہ سنگیت کی دنیا میں عاصم بلوچ اور لتا منگیشکر سے بہت متاثر ہوں۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آگے چلکر آپ موسیقی کے شعبے کو اپناتے ہو؟ تو وہ پر اعتماد انداز میں کہنے لگی کہ ہاں اس وقت تو میں سیکھ رہی ہوں، مجھے اگر کسی اچھے استاد سے سکیھنے کا موقع ملے گی تو میں ضرور اس سے استفادہ حاصل کرکے سنگیت کے نئے دھن سیکھ لوں گی۔

مہر بلوچ نے اس عزم اور جذبے کے ساتھ موسیقی کی دنیا میں قدم رکھ لیا کہ اس پدر شاہی معاشرے میں عورتیں بھی کسی سے کم نہیں، اگر ان کے اندر جذبہ اور ولولہ ہو، وہ بھی اس معاشرے میں ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ صرف ان کو موقع ملنے کی دیر ہے۔

اس وقت مہر بلوچ کی سریلی آواز میں گانے ان کے یوٹیوب چینل پر موجود ہیں۔ اور سامعین مہر بلوچ کی سریلی آواز میں گائے گائے گیتوں کو خوب سراہ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •