جہلم سے بھا گا نوجوان پیرس میں ملین ائیر کیسے بن گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امجد عزیز فرانس کی دوسری سب سے بڑی آرگینک فوڈ کمپنی Bio Monde کا مالک ہے جس کے 200 سٹورزفرانس کے طول وعرض میں ہیں۔ ان سٹورز کی سالانہ آمدنی $ 400 ملین ہے۔ اس کے علاوہ وہ پیرس، دوبئی اور مراکش میں عالیشان مہنگے ترین ریستوران کا مالک ہے۔ اس کے ملازمین کی تعداد تین ہزار ہے۔

1 مارچ 1983  میں امجد عزیز کو جعلی پا سپورٹ، چند پیسوں اور ٹوٹے دل کے ساتھ اسلام آباد سے استنبول جہاز پرسمگل کیا گیا تھا۔ وہاں سے وہ کسی طریقے سے موسم سرما کے یخ بستہ دنوں میں پیرس پہنچ گیا مگر اب اس کو پتہ نہیں تھا کہ کہاں جائے اس لئے پہلی رات Pere Lachaise Cemetery کے قبرستان میں گزاری جہاں اسکر والڈ اور جم مورسن جیسی نامور شخصیات مدفون ہیں۔ امجد کا کہنا ہے کہ خوفزدہ، بے گھر نوجوان اس وقت نامور لوگوں کی معیت ومحفل میں تھا۔

امجد عزیز جو اس وقت زندگی کی 53 بہاریں دیکھ چکا ہے دیکھنے میں پتلا، صحت مند اور نوجوانوں جیسے ارادے رکھتا ہے۔ اس کے پاس ہر وقت ایک کیمرہ ہوتا ہے۔ وہ عموماً بلیک جیکٹ اور نیلی جین میں ملبوس رہتا ہے اور عموماًپیرس کے فیشن ایبل علاقے میں اپنے مہنگے ترین ریستوراں کے ایک کونے میں بیٹھا ہوتا ہے۔ پہلے دفعہ ملنے پر یہ بتانا مشکل ہوتا ہے کہ یہ شخص اس پاش ریستوران کا مالک ہے۔ گفتگو کے دوران وہ اپنا سر عموماً نیچے جھکا ئے رکھتا مگر اس کی تیزنگاہیں پورے ریستوران کی نگرانی کرتی رہتی ہیں۔ آنے والے کسٹمر جو بلیک ٹائی لگائے ہوتے وہ اس کوہاتھ ہلا کر سلام کر تے ہیں۔

اس کی انمول کا میابی کا سفر عشق کی داستان سے شروع ہوتا ہے کہ جب وہ سولہ سال کی عمرمیں ایک دوشیزہ کے دام محبت میں گرفتار ہو گیا تھا۔ مگر خاندانی رقابت کی وجہ سے یہ عشق پروان نہ چڑھ سکا۔ مایوسی کے اس دور میں اس کی ملاقات اس کے گاؤں (روپڑ) کے شخص رحمن سے  ہوگئی جو جرمنی چلا گیا تھا مگر ان دنوں اپنے گھر واپس آیا ہؤا تھا۔ اس نے امجد عزیز کو یورپ کی جو کہانیاں سنائیں تو اس کا دل مچلنے لگا کہ وہ بھی یورپ ہجرت کر جائے۔

رحمن نے اپنے جیب سے ایک پلاسٹک کارڈ نکالا اورامجد کو دکھاتے کہا اس کے ذریعہ دن یا رات اے ٹی ایم سے پیسے نکلوائے جا سکتے ہیں۔ جہلم میں جہاں مقامی بینک میں پیسہ دوپہر کے وقت تک ختم جاتا تھا، امجد کے لئے یہ آئیڈیا مسحو ر کن تھا مگر اس کے ذہن میں کچھ اور سوالات جنم لے رہے تھے۔ امجد نے رحمن سے پوچھا کیا جرمنی میں لوگ محض محبت کی خاطر شادیاں کر لیتے ہیں؟ رحمن کے جواب میں امجد نے فیصلہ کیا کہ وہ جرمنی کے دلکش و دلفریب ملک میں ضرور جائے گا جہاں لوگ محبت کسی سے بھی کر سکتے اور شادی بھی جہاں چاہے کر سکتے ہیں۔ اس چیز پر معاشرے کے کوئی بندھن نہیں ہیں۔

امجد کا ملٹری افسر باپ اس وقت لیبیا میں متعین تھا جہاں کرنل قذافی کی حکومت تھی۔ رحمن سے ملاقات کے چند روز بعد اس کے والد نے خط میں بینک ڈرافٹ بھیجا تاکہ  آبائی گاؤں روپڑ میں نئے رہائشی مکان کی تعمیرشروع کی جا سکے۔ اولاد میں سے سب سے یادہ تعلیم یافتہ نیز بڑے بیٹے ہونے کے ناتے امجد نے خط اپنی والدہ کو پڑھ کر سنایا مگر جہاں پیسوں کا ذکر تھا وہ گول کر گیا۔ اگلے روز اس نے بینک ڈرافٹ کیش کروالیا جو کہ اسی ہزار روپے بنا تھا۔

یہ رقم ہاتھ میں لے کر وہ رحمن کے پاس گیا اور ہاتھ جوڑ کر کہا کہ کسی طرح میرے فرانکفرٹ جانے کا انتظام کر دو۔ جب انتظام ہو گیا تو ایک روز فیملی کو بتائے بغیر وہ اسلام آباد ائر پورٹ پر کھڑا تھا جہاں سے اس کو استنبول جانا تھا۔ اس وقت کو یاد کر تے ہوئے وہ کہتا ہے کہ اس اندھیری رات وہ دو گھنٹے تک اس افسر کا انتظار کر تا رہا تا کہ اس کو جہاز پر خفیہ راستے سے چڑھا دیا جائے۔

استنبول وہ خیر سے پہنچ گیا اور ہوٹل پہنچ کر جہاں اور ملکوں سے آئے صدیوں غریب ستائے لوگ قیام پذیر تھے اس کو احساس ہؤا کہ یورپ جانا دائیں ہاتھ کا کھیل نہیں ہوگا۔ کچھ لوگ سالوں سے انتظار کر رہے تھے کہ ان کو جرمنی کا ویزا مل جائے۔ اس کو یہ بھی احساس ہؤا کہ اب اس کے پاس زیادہ رقم نہیں تھی کہ فرانکفرٹ تک کا سفر کر سکے۔ مگر اس کو پیرس جانے کے لئے ون وے کی پروموشن نظر آئی تو اس نے یہ چانس لینا منظور کر لیا۔

جعلی پاسپورٹ اور ویزے کے ساتھ وہ پیرس پہنچ گیا۔ ائر پورٹ پر جب امیگریشن افسر نے اس کا پاسپورٹ دیکھا تو اس میں گوند سے چپکی فوٹو زمین پر گر گئی۔ اس جرم کی سزا کے طور پر اس کو حراست میں لے لیا گیا اور ڈی پورٹیشن کاغذات تیار کیے جانے لگے۔ امجد کہتا ہے مجھے یاد نہیں کہ میں کتنی دیر تک اس کمرے میں محبوس رہا، خوف سے میرا جسم تھر تھر کر رہا تھا اور نہ جانے کس کس قسم کے خیالات دماغ میں رواں تھے۔ آخر کار جب ڈی پورٹیشن افسر کمرے میں آیا تا کاغذات پر دستخط کر دے تو اس نے نوجوان امجد کی طرف دیکھا۔ اس نے شاید میر ے چہرے پر دو سیکنڈ کے لئے نظر دوڑائی، شاید اس کو خوفزدہ نوجوان پر رحم آگیا۔ منہ سے وہ کچھ نہیں بو لا بس میرا پاسپورٹ مجھے واپس دیا اور ملک میں داخل ہونے دیا۔

کچھ سالوں بعد امجد اس افسر سے ملاقات کے لئے گیا مگروائے افسوس وہ اس دنیا سے رحلت کر چکا تھا۔ امجد کہتا ہے آج بھی ہر صبح جب میں بیدار ہوتا ہوں تو اس افسر کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ آج بھی جب کوئی نئی ملازمت کسی کے لئے پیدا کرتا ہوں تو اس شخص کی ہمدردی میرے دل کو چھوتی ہے۔

اس وقت امجد عزیز (فرانس میں اس کو Jeremy Malvy کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے ) فرانس کی دوسری سب سے بڑی آرگینک فوڈ کمپنی Bio Monde کا مالک اور چیف ایگرز یٹو افسر ہے جس کے دو سو سے زیادہ فرانس کے طول وعرض میں سٹورز ہیں۔ ان سٹورز کی سالانہ آمدنی $ 400 ملین ہے۔ اس کے علاوہ وہ پیرس، دوبئی اور مراکش میں عالیشان مہنگے ترین ریستوران کا مالک ہے۔ اس ملازمین کی تعداد تین ہزار ہے۔

وہ گزرے ایام کو یاد کرتا ہے کہ کس طرح اس نے ائر پورٹ سے شہر آنے کے لئے ایک سو فرانک ٹیکسی والے کو دیے تھے۔ وہ مدت تک ہوم لیس رہا، پلوں کے نیچے پرانی کاروں میں پارکوں میں پولیس کی نظروں سے چھپ کر سوتا رہا۔ اس نے کئی لوگوں سے رابطہ کیا جو دیکھنے میں پاکستانی نظرآتے تھے کہ وہ اس کو ملازمت دے دیں۔ جب وہ ریستوراں میں کام کرتا تھا تو رات کو زمین پر ہی کچن میں سوجاتا تھا۔ اس نے بسوں اور ٹرکو ں کی ڈرائیوری کی۔ آخر کار اس نے ایک سپرمارکیٹ کے باہر آرگینک فوڈ کا سٹال لگا لیا۔ یہ اس کی مشہور زمانہ کمپنی کا آغاز تھا جس نے اس کی تقدیر بدل کے رکھ دی۔

امجد عزیزجو زندگی کی 53 بہاریں دیکھ چکا ہے کا کہنا ہے کہ میرے نزدیک پیسے کی کوئی وقعت نہیں ہاں انسان کو تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونا چاہیے۔ میں نے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی اس ضمن میں مدد کی۔ اس وقت ایک بھائی نے مائیکرو بیالوجی میں آکسفورڈ سے پی ایچ ڈی کی ہے۔ میرے دوسرے بھائی اور بہن نے بھی پی ایچ ڈی کی ہے۔ میرا اس گاؤں سے تعلق ہے جہاں کسی عورت نے سکول پاس نہیں کیا تھا۔ اور ہمارے یہاں فون نزدیک ترین بین الاقوامی ائیر پورٹ پر تھا۔

وہ نوجوان جو پولیس مین سے خوف زدہ ہو کر چھپا کرتا تھا اس کوفرانس کے اعلیٰ ترین پولیس افسر نے پبلک میں سلامی دی ہے جو بعد میں ملک کا صدر بنا یعنی نکو لیس سارکوزی۔ ملک کے صدران، وزراء، سفیر اس کی عزت کرتے اور اس کو صدارتی محل میں دعوتوں پر بلایا جاتا ہے۔ بھولی بسری یادوں میں سے ایک بات وہ یہ سناتا ہے کہ ایک دفعہ کسی ملک کے سفیر کے یہاں اس کو پرائیویٹ کنسرٹ کی دعوت ملی۔ جب کھانا لگا یا گیا تو مجھے کچن کے چکر کھاتے دروازے میں کچھ بھلی مانوس بات محسوس ہوئی۔ پھر مجھے یاد آیا یہاں اس کچن میں میں َ نے آج سے تیس سال قبل کام کیا تھا۔ پیرس میں آمد کے معابعد کا یہ واقعہ تھا کہ کسی نے مجھے بتایا کہ فلاں جگہہ کچن میں کام مل سکتا ہے۔

بائیو مانڈے کی بنیاد 1992 میں رکھی گئی تھی۔ یہ خود مختار بائیو ٹریڈرز کی کو آپر یٹو ہے جس کے فرانس کے ہر حصے میں 200 سٹورز ہیں۔ ان سٹورز میں فروٹ، سبزیاں، گروسریز، سبزیوں کے جوسز، وائین، نیچرل کا سمئٹکس، فوڈ سپلیمنٹ، گلوٹن فری پر و ڈکٹس، لیکٹوس فری، کھلونے اور کپڑے دستیاب ہیں۔

اس کی زندگی کاماٹو یہ ہے کہ اگر کوئی کام کوئی بھی کر سکتا ہے تو میں کیوں نہیں۔

فرصت کے اوقات میں اس کا محبوب مشغلہ فلائنگ ہے۔ جس کے لئے وہ سنگل اینجن بیچ کرافٹ جہاز 2 دوستوں کے ساتھ مل کر سات ہزار میٹر کی بلندی پر اڑاتا ہے۔ وہ ان دنوں کو یاد کرتا ہے جب وہ نارتھ ایسٹرن پا کستان کے پہاڑوں میں واقع گاؤں روپڑ کی چھت پر سویا کرتا تھا اور آسمان کو ٹکٹکی لگا کر دیکھا کرتا تھا۔ اس نے یہ سپنابھی دیکھا تھا کہ ایک روز وہ کراچی سے جہازکو خود اڑا کر کراچی سے اسلام آباد لائیگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •