کیا طلبا یونین کی بحالی وقت کی ضرورت ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے سیاسی وسماجی حلقوں میں ایک بحث شرع ہوچکی ہے کہ طلبا یونین کو بحال ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے۔ طلبا یونین کی حمایت اور مخالفت میں شدومدکے ساتھ فریقین دلائل پیش کررہے ہیں۔ طلبا یونین کی بحالی ہوتی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرئے گا تاہم اسوقت سوشل میڈیا پر طلبا یونین کے حوالے سے ایک مکالمے کا آغاز ہورہا ہے۔ ایک بحث شروع ہوچکی ہے اور بہت جلد یہ بحث اپنے منطقی انجام کو بھی پہنچ جائے گی۔ فی الوقت اس تحریر کا مقصد طلبا یونین کی ابتدا اور پھر پاکستان میں طلبا یونین کے کردار پر روشنی ڈالنا اور ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ہے جو طلبا یونین کی بحالی کے حوالے سے پیدا ہورہے ہیں۔

ایک معاشرہ مختلف سماجی گروہوں پر مبنی ہوتا ہے۔ ان میں تعلیم بھی ایک اہم سماجی ادارہ ہے اور طلبا اس کی بنیادی اکائی ہیں۔ معاشرے کے دیگر سماجی گروہوں کی طرح طلبا بھی معاشرے کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس ضمن میں طلبا کا سب سے اہم کردار اسوقت ابھر کر سامنے آیا جب یورپ کے سیاسی وسماجی حالات کروٹ بدل رہے تھے۔ یورپ صدیوں سے قائم ایک جمود زدہ معاشرے سے عملی طورپر زندہ معاشرے میں تبدیل ہورہا تھا۔

انقلاب فرانس نے یورپ کی پرانی سیاسی، سماجی اور معاشی قدروں کو تبدیل کرکے رکھ دیاتھا۔ بادشاہت علامتی شکل اختیار کرنے لگی اور اقتدارواختیار عوام کے ہاتھوں میں آنے لگا۔ پہلی بار مذہب کو ریاستی معاملات سے الگ کردیا گیا اور چرچ پہلی بار مذہبی معاملات تک محدود ہوکر رہ گیا۔ یورپ میں ایک نئے سیاسی، سماجی اور اقتصادی ڈھانچے کے لیے مکالمے کا آغاز ہوا۔ اس تما م تر صورتحال اور تبدیلیوں کے اثرات یورپ کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبا پربھی پڑے۔

طلبا بھی اس نئی بحث میں شریک ہوے اور ان کو اپنا نقطہ نظر بیان کرنے اوراپنی رائے کے اظہار کے لیے ایک ماحول میسر آیا۔ تبدیل ہوتے ہوئے حالات میں یورپ کے سیاسی منظر نامے پر طلبا کا کردار بڑھنے لگا۔ جمہوریت اور قوم پرستی کی تحریک طلبا کی بدولت شروع ہوئی۔ جینا یونیورسٹی کے جرمن طلبا نے 1815 ء میں ایک طلبا یونین بنائی مگر 1819 ء می اس تنظیم کواسکے نظریات کی بنیاد پر کالعدم قرار دے دیا گیا۔ طلبا کا کردار بڑھنے لگا اور 1848 ء میں یورپ کے کئی ممالک جن میں برلن، ویانا اور پیرس شامل تھے میں ایک انقلابی تحریک اٹھی اور اس انقلابی تحریک کے روح روا ں طلبا تھے۔

طلبا نے اٹلی قوم کو متحد کرنے میں میں اہم کردار ادا کیا روسی طلبا زار حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے لگے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران یورپی طلبا تنظیموں نے جنگ روکنے کے لئے تحریک چلائی اور طلبا کا کردار دوسری جنگ عظیم میں بھی نمائیاں رہا۔ یورپ کی ان یونیورسٹیوں میں دنیا بھر کے ممالک سے طلبا زیر تعلیم تھے۔ ان ترقی پسند نظریات سے وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نا رہ سکے۔ لہذا یورپ کے علادہ دیگر ممالک میں طلبا کی قوم پرست تحریکیں شروع ہو گئیں۔

ایشیاء پر ان تحریکوں کے اثرات نمائیاں ہونے لگے۔ یہ قوم پرست تحریکیں وقت گزرنے کے ساتھ آزادی کی تحریکوں میں بدلنے لگیں۔ برصغیر پاک وہند میں انگریز سرکار نے بنگال کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تو طلبا نے انگریز سرکار کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کردی۔ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے خلاف 1920 میں برصغیر میں چلنے والی تحریک خلافت میں طلبا نے اہم کردار ادا کیا۔ ہندوستان کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے میں طلبا کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

1936۔ 37 میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن جیسی طلبا تنظیموں نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ 1947 ء میں قیام پاکستان کے بعد مختلف طلبا تنظیمیں وجود میں آئیں۔ دسمبر 1947 ء میں اسلامی جمعیت طلبا کی بنیا د رکھی گی۔ اسی طرح 1949 ء میں بائیں بازو خیالات کی حامل ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ڈی ایس ایف) تنظیم وجود میں آئی۔ اس تنظیم کو مولانا بھاشانی، فیض احمد فیض، کامریڈ امام علی نازش، حسن ناصراور معراج محمد خان جیسی شخصیات کی سرپرستی حاصل رہی۔

1954 ء میں ڈی ایس ایف پر پابندی لگی تو نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) کے نا م سے ایک طلبا تنظیم وجود میں آئی۔ 1968 ء میں انجمن طلبا اسلام (اے ٹی آئی) کی بنیاد رکھی گئی۔ 1972 ء میں ڈاکٹر محمد علی نقوی نے لاہو رکی یوای ٹی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) کی بنیاد رکھی۔ 1973 ء میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقارعلی بھٹو نے اپنی سیاسی جماعت کے طلبا ونگ کی بنیاد پیپلزاسٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) کے نام سے رکھی۔

1974 ء میں بھٹو دورحکومت میں طلبایونین کے آرڈیننس کی منظوری ہوئی۔ 1978 ء میں کراچی یونیورسٹی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) کی بنیاد رکھی گئی۔ ضیا الحق کے مارشل لاء کے دور میں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ایم ایس ایف) کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کے علاوہ وطن عزیز میں مختلف طلبا تنظیمیں جن میں جئیے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن (جسقم) ، انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن (آئی ایس ایف) ، پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن، مصطفوی اسٹوڈنٹس فیڈریشن، جے ٹی آئی وغیر ہ طلبا کی تنظیمیں ہیں۔

پاکستان میں طلبا تنظیموں کے کردار پر ہمیشہ تنقید کی جاتی ہے جو کہ کسی بھی حوالے سے نامناسب ہے۔ پاکستان میں طلبا تنظیموں کے کردار کو دوحصوں میں دیکھنا پڑے گا۔ جنرل ضیا الحق کے مارشل لاء سے قبل پاکستان میں موجود طلباتنظیمیں ناصرف موجود تھیں بلکہ ایک مثبت کردار ادا کررہی تھیں۔ اس دور میں ان طلبا یونینز کا کردار کافی حد تک طلبا کی بہتری کے لئے تھا۔ جبکہ ضیا الحق کے مارشل لاء کے بعد 80 کی دہائی کے آخر اور 90 کی دہائی میں طلبا یونین کا کردار کسی بھی حوالہ سے مناسب نہیں تھا۔

اس دور میں سیاسی جماعتوں اور اس کی قیادت نے طلباتنظیموں کو اپنے سیاسی، مالی مفادات کی خاطر استعمال کرنا شروع کردیا۔ خالی زمینوں اور پلاٹوں پر قبضے، بھتہ وصولی حتیٰ کہ قتل وغارت میں طلبا تنظیمیں شامل ہوگئیں۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں قبضے کی وبا چل پڑی اور طلبا تنظیموں کے پاس وافر مقدار میں موجود اسلحہ سے کئی معصوم طلبا کی جانیں ضائع ہوگئیں۔ بلاشبہ یہ ایک ایسا دور تھا جس کی جتنی بھی مذمت کی جاے کم ہے۔ اس دور میں طلبا یونینز کے مثبت کردار کو مسخ کرکے رکھ دیا گیا۔ اس کے بعدطلبا یونینز پرپابندی عائد کردی گئی۔ تعلیمی اداروں میں سکون ہونا شروع ہوگیا۔ طلبا سیاسی جماعتوں کے قائدین کی گرفت سے آزاد ہونے لگے اور اپنی تعلیم پر توجہ دینے لگے۔

اب ایک بارپھر طلبا یونینز کی بحالی کی تحریک شروع ہوگئی ہے۔ طلبا نے احتجاج کرنا شروع کردیا ہے کہ ان کی یونینزکو بحال کیا جائے تاکہ ان کو اپنی رائے کے اظہار کے لیے ایک فورم دستیاب ہواور وہ اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے اجتماعی طورپر کوشش کرسکیں۔ طلبا کا یہ مطالبہ بھی کسی حد تک جائز ہے اور وقت کی ضرورت بھی ہے۔ مگر اس بات کی یقین دہانی کون کرائے گا کہ تعلیمی اداروں میں اجارہ داری قائم کرنے کے لئے ایک بارپھر قتل وغارت کا سلسلہ شروع نا ہوجائے۔

طلبا یونینز پر سیاسی جماعتوں کا اثررسوخ کس طرح کم رکھاجائے۔ ایسے کیا اقدامات کیے جائیں کہ طلبا سیاسی جماعتوں اور قائدین کا آلہ کار نا بن سکیں۔ اس بات کی یقین دہانی کون کرائے گا کہ تعلیمی اداروں کا ماحول پرامن رہے گا اورطلبا پرسکون طریقے سے تعلیم حاصل کرسکیں گے۔ حکومت وقت کے ساتھ ساتھ طلبا تنظیموں او رانکے حمایتیوں کو ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے ہوں گے۔ صرف طلبا یونینز کی بحالی سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے ایک میکنزم بنانا پڑے گا کچھ اصول وضوابط طے کرنے ہوں گے۔ وگرنہ طلبایونینز کی بحالی سے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہونے کا اندیشہ ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •