طلبہ یونین کی بحالی کے لئے اسلامی جمعیت طلبہ کی جدوجہد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طلبہ یونین پر پابندی مین سڑیم اور سوشل میڈیا پر زبان زد عام ہے۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ اسلامی جمعیت طلبہ کی طلبہ یونین کی بحالی کے لئے جدوجہد کیا ہے؟

طلبہ یونین پر ضیاءالحق نے پابندی عائد کی تھی۔ مارشل لاء کے دور میں یہ پابندی مختلف زونز کے مارشل لاء ایڈمینسٹریٹرز کے مارشل لاء آرڈز کے نتیجے میں عائد ہوئی۔

پنجاب میں طلبہ یونین پر 9 فروری 1984 کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر زون ون کے مارشل لاء آرڈر نمبر 1371، سندھ میں یہ پابندی 11 فروری 1984 کوزون بی کے مارشل آرڈر نمبر 227 جبکہ دوسرے زون سی میں یہ پابندی مارشل لاء آرڈر نمبر 362 اور 363 کے تحت عمل میں لائی گئی۔

1984 میں اسلامی جمیعت طلبہ مارشل لاء حکومت کے ان اقدامات کے خلاف میدان میں کود پڑی اور سو روزہ تاریخی تحریک چلائی۔ بدقسمتی سے بائیں بازو سیاست سے وابستہ لکھاریوں کے قلم سے طلبہ یونین کے حوالے سے جو تاریخ لکھی جاتی ہے اس میں جمعیت کے طلبہ یونین کے لئے اس تاریخی جدوجہد کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کی اس سو روزہ تحریک کا یہ فائدہ ہوا کہ دباؤ کی وجہ سے حکومت طلبہ تنظیموں کو سرگرمیوں کے انعقاد سے نہ روک سکی۔

طلبہ یونین پر پابندی کے مندرجہ بالا مارشل لاءآرڈز 1989 میں بے نظیر کی پہلی حکومت میں کالعدم قرار دیے گئے اور یوں یونین بحال ہوگئی۔

پھر 1992 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک عبوری فیصلہ میں یونین اور سیاست پر پابندی عائد کردی۔ اس فیصلہ کو اسلامی جمیعت طلبہ پاکستان نے عدالت میں چیلنج کیا۔ یہ فیصلہ

M Qureshi Vs M Owais Qasim
SCMR 1781

کے ٹائٹل سے جانا جاتا ہے۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے یونین کو یونیورسٹی کے سٹرکچر سے علیحدہ کردیا لیکن کلاسیکل یونین سرگرمیاں جیسے کتب میلہ، مشاعروں کی اجازت دیدی۔ طلبہ یونین کی بحالی کے جدوجہد میں یہ امتیاز اسلامی جمعیت طلبہ کو حاصل ہے کہ اس نے یونین بحالی کے لئے عدالت عظمی کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے۔

طلبہ یونین کی بحالی کا پرزور مطالبہ اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنے 1997، 2003، 2011 کے اجتماعات عام کے موقع پر کیا تھا۔

یاد رہے کہ اجتماع عام اسلامی جمعیت طلبہ عموما پانچ سال کے عرصہ کے بعد منعقد کرتی ہے اور اس میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ تمام لوگ (کارکنان، رفقاء، امیدواران رکنیت اور اراکین) شرکت کرتے ہیں اور یہ اجتماع تعداد کے حوالے سے ایک بڑا اجتماع ہوتا ہے۔

یونین کی بحالی کے لئے 2017 دسمبر میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے زیر اہتمام ملک بھر میں سٹوڈنٹس کنونشن کا انعقاد ہوا جس میں حکومت سے یونین کے انتخابات منعقد کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ جامعہ پشاور میں متحدہ طلبہ محاذ (جس میں اسلامی جمعیت طلبہ شامل تھی) کے پلیٹ فارم سے 16 دن کے دھرنے میں طلبہ یونین کے انتخابات منعقد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

حال ہی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلی (مرکزی صدر) محمد عامرنے چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے ملاقات کی انھیں یونین انتخابات کے حوالے سے سینیٹ آف پاکستان کی متفقہ قرداد پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

اس کے علاوہ جمعیت ہر سال تعلیمی اداروں میں ستمبر سے لے کر دسمبر تک ایک دعوتی مہم چلاتی ہے جس میں یونین کی بحالی کے لئے مختلف طریقوں جیسے کانفرنس، دستخطی مہم کے ذریعے یونین کی بحالی کے مطالبے کو اجاگر کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •