صوبائی وزیر اجمل چیمہ نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا: افشاں لطیف کا سنگین الزام


لاہور کے دارالامان کاشانہ کی سابق سپرانٹنڈنٹ افشاں لطیف نے کہاہے کہ جب میں انکوائری کے وقت رو رہی تھی توصوبائی وزیراجمل چیمہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔ دار الامان میں آکر میرے ساتھ اور سٹاف کے ساتھ بدتمیزی کی۔

اے آروائی نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے افشاں لطیف نے کہا کہ ڈی جی سوشل ویلفیئر افشاں کرن امتیاز نے مجھے کچھ کمسن بچیوں کی شادی اور ان کودوسرے بنگلے میں شفٹ کرنے کے احکامات دیئے تھے۔ یہ سلسلہ جولائی میں شروع ہوا تھا جس پر میں نے شکایت درج کروائی تو صوبائی وزیر اجمل چیمہ نے دار الامان میں آکر میرے ساتھ اور سٹاف کے ساتھ بدتمیزی کی ۔ اس نے بچیوں کے کمروں میں جا کر جہاں کسی مرد کوجانے کی اجازت نہیں تھی وہاں جاکر دیکھا اور مجھے ڈرایا دھمکایا کہ میں تمہارا تبادلہ کسی دور دراز علاقے میں کر دوں گا ۔

افشاں لطیف نے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ گیارہ جولائی کو ایک صوبائی وزیر نے ان کے دفتر کا اچانک دورہ کیا۔ ان کی کرسی پر بیٹھ گئے۔ پھر لڑکیوں کے کمرے میں جا کر ان سے تنہائی میں ملاقاتیں کرتے رہے۔ افشاں لطیف نے کم عمر بچیوں کی جبری شادی کے لیے دباؤ ڈالے جانے کا الزام لگایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اجمل چیمہ کو اتنی دیدہ دلیری کے ساتھ جھوٹ بولتے ہوئے شرم نہیں آتی۔ میں نے شکایت 12 جولائی کو فاروڈ کی تھی۔ اس کے بعد میری انکوائری لگا دی گئی

دوسری طرف صوبائی وزیر اجمل چیمہ نے کہا ہے کہ جب افشاں لطیف رو رہی تھی تو میں نے اس کو بیٹی کہہ کر سر پر دست شفقت رکھا تھا، ایک بھی الزام ثابت ہو جائے تو وزارت چھوڑ دوں گا۔۔

Facebook Comments HS