پھر چراغ لالہ سے۔۔۔

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

29 نومبر کو وہ لال رنگ، جسے دفن ہوئے اب تو چار دہائیاں بیت چکی تھیں، اچانک پاکستان کے گلی کوچوں، شاہراہوں پہ لالہ کی خود رو کھیتیوں کی طرح لہرانے لگا۔

شگفتہ چہروں والے نوجوانوں کے ساتھ سفید بالوں والے وہ لوگ بھی اس میں شامل تھے جو اپنی جوانی میں ’سرخے‘ یا کامریڈ کہلاتے تھے، ان کے خوابوں کا ماڈل فلاپ ہو گیا مگر وہ اپنے خوابوں سے دست بردار نہ ہوئے۔

کامریڈ تنویر، فرخ سہیل گوئندی اور کتنے ہی سوشلسٹ لال جھنڈے اٹھائے طلبا کے ساتھ نعرے لگا رہے تھے۔

انقلاب، ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ لوگوں کے اندر سے پھوٹتا ہے، اسے کرسی میز پہ بیٹھ کے بنایا نہیں جا سکتا، نہ ہی پروپیگنڈا کی کوئی بھی تیکنیک اصل انقلاب کی خاک کو بھی چھو سکتی ہے۔

اگر ایسا ممکن ہوتا تو آج فیض میلے کے باہر دربوکہ کی تھاپ پہ بازوئے قاتل کو نہ للکارا جا رہا ہوتا۔ ان طلبا کا بنیادی مطالبہ بالکل درست ہے۔ طلبا یونین نہ ہونے کے باعث آج ہمارا واسطہ ایک ایسی نسل سے پڑا جس کے سر پہ عقل چوس اور آنکھوں پہ کھوپے چڑھے ہوئے تھے۔

مارچ

سیاسی تربیت کی کمی کے باعث ان بے چاروں نے شخصیت پرستی شروع کر دی۔ سیاسی مخالفت کو ذاتی مخالفت بنا لیا۔ نظریات کی بجائے شخصیات کو پوجنے لگے اور اختلافِ رائے میں دلائل کی بجائے گالیاں بکنے لگے۔ اس نسل کو گمراہ کرنے والے بڑی آسانی سے اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔

طلبا یونین پہ پابندی کم و بیش 35 برس قبل لگائی گئی تھی اور اس کی فصل ہم آج کاٹ رہے ہیں۔

درمیان کے برسوں میں ایک، دو بار طلبا یونینز کے بارے میں کچھ ارشادات ہوئے مگر چونکہ ہمارے بوڑھوں کو ریٹائرمنٹ کی عمر کے بعد بھی اپنی ہی پڑی رہتی ہے اس لیے نوجوانوں کا یہ حق اسی طرح سلب رہا۔ اس حق کو دبائے ہم پہ حکومت کرتے، کئی نسلوں کو روندتے جب 2019 میں آئے تو اچانک لال لال لہرانے لگا۔

طلبا 18 سال کی عمر میں کالج میں ہوتے ہیں اور ووٹ بھی ڈال سکتے ہیں۔ اس عمر سے قبل ہی ان کی سیاسی تربیت ہونی چاہیے۔

انھیں اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ بطور شہری ان کے حقوق اور فرائض کیا ہیں؟ کسی بھی نظریے کو ماننے، رد کرنے یا نیا نظریہ بنانے کے لیے کیا عوامل ضروری ہیں۔

ہم اپنے بچوں کو دنیا کا ہر ہنر سکھانا چاہتے ہیں جس مضمون میں دلچسپی نہ بھی ہو، وہ بھی پڑھاتے ہیں کہ کل کو کام آئے گا۔ سیاست تو وہ مضمون ہے جس پہ کسی بھی جدید ریاست کی بنیاد ٹکی ہوئی ہوتی ہے۔ اسی سیاست سے ہم بچوں کو نابلد رکھ رہے ہیں۔ انھیں اپنے حقوق کا علم ہو گا تب ہی وہ اپنے فرائض پہچان سکیں گے۔

مزید یہ لوگ فیس میں کمی چاہتے ہیں اور تعلیمی بجٹ میں اضافے کے خواہاں ہیں۔ خواتین طلبا کے خلاف ہراسمنٹ کے واقعات کی روک تھام وغیرہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان میں سے کون سا مطالبہ غلط ہے؟ کون نہیں چاہتا کہ پورے ملک میں یکساں تعلیمی نظام ہو۔ پرائیوٹ تعلیم کا خاتمہ ہو۔ تعلیم اور صحت دونوں شعبے سر کاری سرپرستی میں ہونے چاہیں۔

گو آ ج کے حالات میں یہ دیوانے کا خواب ہے لیکن یہ ہم سب دیوانوں کا مشترکہ خواب ہے۔

میلان کنڈیرا اپنے ایک ناول میں لکھتا ہے کہ سارے مہاجر ایک سے خواب دیکھتے ہیں۔ اسی طرح وہ سب لوگ جن کے حقوق غصب کر لیے جاتے ہیں ایک جیسے خواب دیکھتے ہیں۔ ہماری نسل سے یہ حق چھین لیا گیا تھا اب ہمارے بچوں کو یہ حق ضرور ملنا چاہیے۔

نجی تعلیمی ادارے، اکیڈمیاں، ٹیوشن سنٹر، سر کاری اداروں میں میرٹ کا کھلم کھلا قتل یہ سب وہ مسائل ہیں جن سے ہر طالب علم اور اس کے والدین برسرِ پیکار ہیں۔

مارچ

نجی تعلیمی ادارے ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ آپ میں سے بہت سے لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ آج کل جہاں، گول روٹی پکانے والی ڈاکٹر بہو فیشن میں ہے وہیں یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ لڑکا یا لڑکی کس سکول اور کس پریپریٹری کے پڑھے ہوئے ہیں۔ پریپریٹری ایک الگ مافیا ہے اس کی کہانی پھر سہی۔

یہ تمام مسائل کون حل کرے گا؟ جب تک کسی بھی سیاسی جماعت کا سچ مچ کا نظریاتی یوتھ ونگ نہیں ہو گا اس کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی طلبا کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

یہ سیاسی یوتھ ونگ طلبا یونین ہی سے نکلیں گے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پہ اساتذہ کے زیرِ نگرانی ہونے والی سیاسی تربیت، شاید اس تربیت سے کہیں بہتر ہو جو پچھلے 35 سال میں طلبا یونین پہ پابندی لگا کے کی گئی۔

اس ساری گہما گہمی میں مجھے عجیب عجیب باتیں سوجھ رہی ہیں۔ جون ایلیا صاحب سے منسوب ایک جملہ یاد آ رہا ہے جو انھوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبا اور قیام پاکستان کے بارے میں فرمایا تھا۔ ہم تو دہرانے کی ہمت بھی نہیں رکھتے۔

ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبا بھی ذہن میں آتے ہیں اور شاید ان ہی کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان میں آئندہ کے لیے طلبا یونین پہ پابندی لگائی گئی تھی۔

دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس جن کو جسے بوتل میں بند کر کے مدرسے کا جن بوتل سے باہر نکالا گیا تھا، دوبارہ باہر نکلنے دیا جائے گا؟ کیا اس ملک میں واقعی یکساں تعلیمی نظام لے آیا جائے گا؟ کانوینٹ کا طریقہ تعلیم اور مدرسوں کا طریقہ تعلیم سب ایک کر دیا جائے گا؟ کیا کبھی وہ دن بھی آئے گا جب اس ملک میں برن ہال، صادق پبلک، لارنس کالج اور ایچی سن کے مغرور طلبا کی جگہ ایک جیسے، ایک برابر کے، فقط اپنی قابلیت پہ نازاں طلبا نظر آئیں گے؟

منزل موہوم تو ہے مگر نامعلوم نہیں۔ عشاق کے قافلے نکلتے ہیں تو فاصلے سمٹ ہی جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •