بیکن ہاؤس اسکول اور علاقائی زبانوں پر پابندی


\"zeffer05\"

گزشتہ دنوں بیکن ہاؤس اسکول ساہیوال کے ایک نوٹفکیشن کو لے کر کے خوب آنسو بہائے گئے، کہ پنجابی کو فاول لینگویج، یا گالی کی زبان کہا گیا ہے۔ گالیاں کس زبان میں نہیں، اور یہ میرا مشاہدہ ہے، کہ زبان سکھانے والا، پہلے اس زبان کی گالیاں ہی سکھاتا ہے۔ اگر تو اسکول انتظامیہ نے ایسا نا مناسب نوٹفکیشن نکالا ہے، تو افسوس کی بات ہے، لیکن اس سے پہلے میں یہ سوال رکھنا چاہتا ہوں، کہ اپنے بچے کو بیکن ہاؤس اسکول سسٹم میں بھیج کر، آپ خود اسے انگریز بنانا چاہتے ہیں، تو اس بات کا غم کیوں، کہ پنجابی زبان نہ بولنے کی تلقین کی گئی۔ آج ہم میں سے کتنے ہیں، جو اپنے بچوں کو پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، یا اردو میڈیم اسکولوں میں بھیجنا چاہتے ہیں؟ یہاں مادری زبان میں تعلیم حاصل کرکے ترقی کا زینہ طے کرنے کا خواب دکھانے والوں سے بھی ایک سوال ہے، کہ جن صوبوں میں مادری زبان میں تعلیم دی جاتی ہے، وہاں‌ ترقی کی شرح کیا ہے؟ اور پنجاب، جہاں‌ پہلے اردو، اور اب انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرنا ترجیح ہے، وہاں‌ ترقی کی شرح کیا ہے؟ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے ترقی نہیں ملتی؛ جو اقوام ترقی کرتی ہیں، ان کی زبانیں ترقی کرتی ہیں، زندہ رہتی ہیں۔

اس سے بھی بحث نہیں، کہ پنجابی زبان میں تعلیم دی جانی چاہیے۔ لیکن کون سی پنجابی؟۔۔ ملتانی؟ پوٹھواری؟ سرائیکی؟۔۔۔ یا پنج آبے کے ہر خطے کے لیے اس خطے کی زبان میں نصاب ہو؟۔۔ پوٹھواری کا الگ۔۔ سرائیکی کا الگ۔۔ لھندے دا الگ؟۔۔ چڑھدے دا الگ؟۔۔ بالکل ایسا ممکن ہے۔ جس ملک میں آبادی کے لحاظ سے اسکول ہی نہیں؛ جو ہیں ان کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔ کہیں اسکول کی چھت نہیں، تو کہیں چھت ہے، استاد نہیں۔ ایسے میں یہ مطالبہ کرنا کہ ہمیں ہماری مادری زبان میں تعلیم دی جائے۔ ہر خطے کے لیے جدا زبان کا نصاب ہو۔ اور جب وہ اپنی زبان میں تعلیم حاصل کر چکے، تو اسے کسی ادارے میں اس لیے ملازمت نہ ملے، کہ اسے انگریزی نہیں آتی۔ یا انگریزی جانتا ہے، لیکن ایسی ہی، کہ جیسے رٹا لگانے والا جانتا ہو۔ اس کے مقابلے میں اسے ترجیح دی جائے جو فر فر انگریزی میں بات کرے، تو؟ میرا ماننا ہے، جو اقوام ترقی کرتی ہیں، ان کی زبانیں قائم رہتی ہیں، یا ترقی کرتی ہیں۔ اردو زبان کے خلاف بھی منفی پروپگنڈا ہوتا ہے، کہ یہ علاقائی زبانوں کا حق مار گئی۔ کہنے کو پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، لیکن سرکار نے اس کے لیے کچھ نہیں کیا۔ دفتری زبان تو بن نہ سکی، دوسری زبانوں کا حق کیا مارنا تھا۔ اب تک بچی ہوئی ہے، تو اس لیے کہ یہ پاکستان میں موجود اقوام کے بیچ میں رابطے کی واحد زبان ہے۔ دوسری زبانوں کا حق، اگر اسے ہی حق کہا جائے، تو وہ انگریزی زبان نے مارا ہے۔ یہ بات دُہرانا پڑ رہی ہے، کہ قوم کو ترقی کرنا ہے، تو علم حاصل کریں، ان کی زبان خود ترقی کر جائے گی۔ دوسری اقوام اور ان کی زبانوں کے خلاف تعصب رکھنا، اس سے ترقی تو کیا خاک ہوگی، تنزلی کا سفر جاری رہے گا۔

میرا بچپن، لڑک پن راول پنڈی میں گزرا۔ گھر میں جو سب سے پہلی زبان سکھائی گئی، وہ اردو زبان ہے۔ پڑوس میں ہندُستانی (مہاجر) خان دان تھا، جن سے ساٹھ پینسٹھ برس کا ناتا ہے۔ اب ہماری تیسری نسل ایک ساتھ کھیلتے جوان ہوئی۔ بچپن میں ہمارا لہجہ ایسا تھا، کہ اجنبی پوچھے بنا نہ رہتے، کہ آپ یو پی سے ہیں!۔۔ ہمارے گھروں میں اردو کو پہلی زبان بنانے کا جواز یہ دیا جاتا رہا، کہ تعلیم حاصل کرنے مدد دے گی، آسانیاں پیدا کرے گی۔ باقی زبانیں تو آپ جہاں رہتے ہوں، اس ماحول میں رہتے سیکھ جائیں گے۔ ایسا ہی ہوا؛ اسکول اور محلے سے پنجابی زبان سیکھی، جو بس گزارا سی تھی۔ جب میں سرامکس پڑھنے گجرات پہنچا، تو وہاں اردو زیادہ کام نہ آئی؛ سو پنجابی کا سہارا لیتا۔ مگر ہوتا یوں، کہ جوں ہی پنجابی میں بات کرتا، تو لوگ ہنس پڑتے؛ ہنستے نہ تو مسکراتے ضرور۔ میں نے تبسم کی وجہ جاننا چاہی تو کہا گیا، میں پنجابی کے نام پہ جو زبان بولتا ہوں، وہ پنجابی نہیں۔ تب مجھے پنجابی اور پوٹھواری کا فرق محسوس ہوا۔ ساتھ ہی ہتک کا احساس بھی ہوا، کہ مجھے پنجابی زبان نہیں آتی۔ یہ عمر ایسی ہوتی ہے، کہ آدمی ہر چنوتی (Challenge) لینے کو تیار رہتا ہے۔ تین برسوں میں میں نے نہ صرف پنجابی زبان سیکھی، بل کہ گجرات، وزیر آباد، منڈی بہا الدین، فیصل آباد، سیال کوٹ کے لہجوں، اور علاقائی لفظوں کی پہچان، ان پہ عبور حاصل کیا۔ ان تین برسوں بعد، لاہور نصیب ہوا، تو لاہور کا لہجہ بھی سیکھ لیا۔ نتیجہ یہ کہ اردو اور پوٹھواری، جو میری پہلی اور دوسری زبانیں تھیں، وہ کوئی نئی شکل اختیار کر گئیں۔

معروف معنوں میں، میری مادری زبان ہندکو ہے؛ لیکن میری ماں کو ہندکو زبان بولنا نہیں‌ آتی؛ پنجاب میں پرورش پانے کے باعث وہ پنجابی اور اردو بولتی ہیں۔ ہاں ان کی ماں، یعنی میری نانی ہندکو میں بات کرتی تھیں۔ ایک طعنہ سننے کے بعد، میں نے ہندکو زبان سیکھی۔ میرے باپ کی مادری زبان پہاڑی ہے، جسے آپ پوٹھواری کے قریب کہ سکتے ہیں۔ میں مادری زبان کی اس تعریف کا قائل ہوں، کہ جس زبان میں‌ آپ سوچتے ہیں، یا خواب دیکھتے ہیں، وہ آپ کی مادری زبان ہے۔ چوں کہ میں اردو میں سوچتا ہوں، خواب دیکھتا ہوں، تو میں اپنی مادری زبان اردو ہی کو سمجھتا ہوں۔ ہر زبان کی اپنی خوب صورتی، ہر زبان کی اپنی مٹھاس ہوتی ہے۔ آپ سفر کرتے رہیں، تو الگ زبانیں، یا ایک ہی زبان کے مختلف لہجوں کی خوش بو محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں جو پنجابی ڈرامے بنتے ہیں، ان کا اسکرپٹ اردو میں لکھا جاتا ہے، اداکار اسے پنجابی میں بول دیتے ہیں۔ مجھے ایک بار پنجابی چینل کے لیے اسکرپٹ لکھنا پڑا؛ کہا گیا، کہ اردو میں لکھ بھیجیے، پنجابی میں بولا جائے گا۔ میں نے کہا، کہ نہیں میں لکھوں گا بھی پنجابی میں۔ میرے لیے حیرت کی بات یہ ہوئی، کہ میں نے انتہائی روانی سے لکھا، اور ایسے الفاظ جو کم کم استعمال ہوتے ہیں، خود بہ خود ہاتھ باندھے سامنے کھڑے ہو گئے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے، کہ یہاں جو رسم الخط استعمال میں ہے، وہ رسم الخط سیکھ لیں، تو پاکستان کی کئی بولیوں کا اسکرپٹ لکھ سکتے ہیں؛ شرط یہ ہے، کہ وہ بولی، ہمیں بولنا آتی ہو۔ تو جناب عالی، بچوں کو انگریزی میڈیم اسکول میں بھیجیں، تو اس بات کا برا مت مانیے کہ وہاں‌ انگریزی بولنے پہ اصرار کیا جاتا ہے، بچوں کی مادری زبان بولنے کی آزادی نہیں دی جاتی۔

جہاں تک بیکن ہاؤس کے نوٹفکیشن کو سمجھا ہوں، وہ ایسا ہی ہے، جیسا؛ جب میں نمل میں انگریزی زبان سیکھنے کے لیے داخل ہوا، تو طالب علموں کے انگریزی کے سوا ہر زبان کے بولنے پہ پابندی عائد کی گئی، کہ جو زبان سیکھنے آئے ہیں، وہ بولیں گے، تو رواں ہوں گے۔ وہاں ہم یہ شور مچاتے کہ ہمیں ہماری مادری زبان میں بات نہیں کرنے دی جاتی، تو یہ احمقانہ فعل ہوتا۔ ساہیوال کے بچوں کی اکثریت کی مادری زبان پنجابی ہوگی، تو انتظامیہ نے نوٹفکیشن میں پنجابی کا ذکر کر دیا۔ بیکن ہاؤس لاڑکانہ برانچ ہوئی، تو وہ اسکول کے احاطے میں سندھی زبان بولنے پہ پابندی عائد کرے گا۔ آپ کو اپنی زبان سے غرض ہے، تو اپنے بچے کو سرکار کے پیلے اسکول میں بھیجیے، بیکن ہاؤس نہیں۔ لہذا اسے سیاسی یا جذباتی مسئلہ بنا لینا مناسب نہیں۔

Facebook Comments HS

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran