ارشد چائے والے کی گولڈن ریشو


\"husnain

تصویر کتنی طاقتور ہو سکتی ہے اس کا احساس شاید آج سے بہتر کبھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک لڑکی یونہی گزرتے گزرتے ایک چائے والے کو دیکھتی ہے اور اس کی تصویر کھینچ لیتی ہے۔ وہ تصویر انسٹاگرام پر ڈالی جاتی ہے اور دو تین روز خاموش پڑے رہنے کے بعد ایک دم وہ تصویر بول اٹھتی ہے۔ وہ تصویر دنیا کا ایک مقبول ترین ٹرینڈ بن جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر چوتھا یا پانچواں شخص اسی چائے والے کی تصویر پوسٹ کر رہا ہوتا ہے اور ساتھ کوئی نہ کوئی دلچسپ کیپشن موجود ہوتی ہے۔ وہ چائے والا جو صبح معمول کے مطابق کھوکھے پر چائے بنانے آیا تھا اس کی شام الف لیلہ کے ابوالحسن کی طرح ایک رنگا رنگ دنیا میں ہوتی ہے۔ لوگ سارا دن آ کر اس کے انٹرویو کرتے ہیں، لڑکیاں اس کے ساتھ تصویریں بناتی ہیں، میڈیا والے الٹے سیدھے سوال کرتے ہیں اور شام تک وہ چائے والا زندگی میں شاید پہلی مرتبہ کوٹ پینٹ اور ٹائی پہنے ایک ٹی وی چینل کے دفتر میں موجود ہوتا ہے۔ یہ سب کیا ایک تصویر کھینچنے کی وجہ سے ہوا؟

ڈیجیٹل کیمرہ اور پھر موبائل کیمرہ آنے کے بعد سے روزانہ اس دنیا میں شاید اربوں تصاویر بنتی ہوں۔ ان میں سے ہر ایک تصویر ایسی مشہور کیوں نہیں ہو جاتی۔ ہر ایک نہ سہی لیکن کیا ان میں سے دس بارہ ہزار تصاویر بھی ایسی نہیں ہوں گی جنہیں روزانہ کی مشہور تصویر کہا جا سکے؟ دس بارہ ہزار بھی رہنے دیجیے، روزانہ کی ایک تصویر بھی شہرت کی اس معراج تک نہیں پہنچ سکتی جہاں تک یہ تصویر پہنچی۔ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔

اگر پچھلے دو تین برس میں مشہور ہونے والی تصاویر کا جائزہ لیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ تصاویر زیادہ وائرل ہوئیں جن میں کسی بھی قسم کے دکھ کی عکاسی موجود تھی۔ ساحل پر نظر آنے والی ایلان کردی کی لاش ہو یا بم دھماکے کے بعد ایمبولینس کی نارنجی کرسی پر بیٹھے، دھول مٹی میں اٹے ہوئے معصوم بچے کی تصویر ہو۔ بیٹی کو گود میں اٹھائے ایک مجبور شامی مہاجر پین بیچتا پھر رہا ہو اور اس کے چہرے پر دکھوں کی داستان لکھی ہو یا وہ بے گھر پیانو والا ہو جو کسی ہوٹل کے باہر پیانو بجا کر مانگ رہا ہے اور اچانک کیمرے کی زد میں آ جاتا ہے۔ ان تمام تصاویر میں کروڑوں انسانوں کو اپنے جیسوں کی بے بسی نظر آئی، دکھ نظر آیا اور انسانیت کے جذبے سے مغلوب ہو کر وہ ان تصاویر کو شئیر کرتے گئے، یہاں تک کہ ان کا پوری دنیا نے نوٹس لیا، بے گھر پیانو والا گھر کا مالک ہوا، قلم بیچتا عرب پناہ گزین اپنا کاروبار شروع کر پایا، ایمبولینس والے بچے کو جرمنی سے ایک بچے نے اپنے گھر میں رہنے کی درخواست کی اور ایلان کردی کی لاش عالمی طاقتوں کے ضمیر کو جھنجوڑ گئی۔ چائے والے کی تصویر میں ایسا کچھ نہیں تھا۔

\"chai-wala\"

ایک معصوم سا لڑکا ہے جس کی آنکھیں نیلی ہیں، باریک مونچھیں، گوری رنگت، بڑھی ہوئی شیو، ہاتھ سے سنوارے ہوئے بال ہیں، عام سی شلوار قمیص پہنے کھڑا ہے۔ ایک ہاتھ میں چھلنی ہے، دوسرے ہاتھ سے چائے انڈیل رہا ہے اور کیمرے کی طرف دیکھ رہا ہے۔ ایسے بہت سے پٹھان بچے آئے روز ہمیں نظر آتے ہیں، چائے کی ہوٹلوں پر، بسوں کے اڈے پر، ریلوے اسٹیشن پر، مکئی کے سٹے بیچتے ہوئے، جوتے پالش کرتے ہوئے، بھنے ہوئے چنوں کی ریڑھی لگائے، دیسی منرل واٹر کے بڑے بڑے کین ریڑھی پر رکھ کر گھسیٹتے ہوئے، قہوہ لیے مارکیٹوں میں گھومتے ہوئے، بہت سا وزنی سامان کمر پر اٹھائے الیکٹرانکس مارکیٹوں میں ہٹو بچو کی صدائیں لگاتے تیز تیز چلتے ہوئے، وہ سب بالکل ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اصولی طور پر ان سب کو ایک کامیاب ماڈل ہونا چاہئیے لیکن ایسا نہیں ہے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ اس تصویر کے مشہور ہو جانے میں ارشد خان چائے والے کی نیلی آنکھوں کا عمل دخل بہت زیادہ ہے۔ رکیے، اس تصویر کو بلیک اینڈ وائٹ کر کے دیکھ لیجیے، یہ اور زیادہ ابھر کر سامنے آئے گی۔ دیکھیے، اس تصویر کی کامیابی میں پہلی وجہ ایک قید ہو جانے والا تاثر ہے، جو لمحہ اور جو چہرے کا ایکسپریشن قید ہوا، اور دوسری وجہ اس کا عمدہ تناسب کہا جا سکتا ہے جسے پیچیدہ کر کے سمجھنا ہو تو انٹرنیٹ پر Golden Ratio کی تلاش کر لیجیے۔ پروفیشنل کیمرے سے لی گئی تصویر جس میں سبجیکٹ ذرا بھی تعاون پر آمادہ ہو عموماً بری نہیں ہو سکتی۔ اس تصویر میں جس اعتماد اور بے نیازی کے ساتھ چائے والا کیمرے کی جانب دیکھ رہا ہے بس وہی لمحہ موجود کی جان ہے۔ آگے اتفاقات کی ایک لمبی قطار ہے۔ یہ اتفاق کہ آنکھوں اور کپڑوں کا رنگ ملتا ہے، یہ اتفاق کہ تصویر میں اس کا بہترین پوز سامنے آیا، یہ اتفاق کہ چھلنی والا ہاتھ یا دوسرا ہاتھ تصویر کا تناسب بگاڑ نہیں پایا، یہ اتفاق کہ اس کی شیو بڑھی ہوئی تھی، یہ اتفاق کہ تصویر بنانے والی بی بی ڈی ایس ایل آر کیمرہ رکھے ہوئیں تھیں کیوں کہ موبائل کیمرہ چہرے پر وہ نور لانے سے قاصر ہے جو پروفیشنل کیمرے کی عطا ہوتا ہے، یہ اتفاق کہ تصویر انسٹاگرام پر اسی وقت اپ لوڈ کر دی گئی اور ڈیجیٹل اسکریپ کا حصہ نہیں بنی۔ ایسے بہت سے اتفاقات اکٹھے ہوئے تو وہ تصویر جو بے شک تکنیکی لحاظ سے بھی سٹریٹ فوٹو گرافی کی عمدہ مثال تھی، وائرل ہو گئی۔

رابن جیلینڈرز ایک مشہور پورٹریٹ فوٹوگرافر کے الفاظ میں \”تمام فوٹوگرافر کبھی نہ کبھی انسانی چہرے کی تصویر ضرور بناتے ہیں۔ ان میں سے چند ہی اس قابل ہوتی ہیں کہ وقت کی مار سہہ کر آنے والے زمانوں میں بھی یاد رکھی جائیں اور کامیاب پورٹریٹ کہلائیں۔ عام طور پر تصاویر تیزی سے گزرتے وقت کا لمحاتی عکس ہی ہوتی ہیں لیکن کامیاب پورٹریٹ میں انسانی فطرت کا کوئی ایک خاص پہلو ضرور پوری آب و تاب سے جلوہ گر رہتا ہے۔ باصلاحیت فوٹو گرافر اس عارضی لمحے کی گزران سے آگے نکل کر سامنے موجود چہرے میں یہ معنویت تلاش کر لیتے ہیں اور پھر ایک ایسی تصویر وجود میں آتی ہے جس میں بہت عرصے تک زندہ رہنے کی طاقت ہوتی ہے۔\”

یہ Robin Gillenders ایسے یاد آئے کہ عمیر غنی صاحب کی نئی کتاب سرہانے موجود تھی، اسی میں یہ سب مباحث موجود تھے۔ لکھنے کا ارادہ اس پر تھا کہ سستی شہرت عرف میڈیا ٹرینڈ غالب آئے اور ارشد خان چائے والے سامنے آ گئے۔ فوٹو گرافی کے شوقینوں کے لیے اس باریک سی کتاب میں بہت کچھ ہے۔ تفصیلی تعارف واجب ہے، ایک دو کالم بعد سہی، فی الحال یہ جان لیجیے کہ \”فوٹو گرافی، فنی اور تخلیقی پہلو\” کے نام سے چھپنے والی یہ کتاب تخلیقات نے چھاپی ہے اور ستر صفحے کی یہ کتاب اپنے اندر علم کا ایک خزانہ سموئے ہوئے ہے۔ شاید آدھے گھنٹے میں پڑھی جائے لیکن اثرات زائل ہونے میں عمر لگے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 480 posts and counting.See all posts by husnain