مولانا کی سیاست کو دھرنے کا سہارا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج ملک کئی سنگین مسائل کا شکار ہے۔ بے روزگاری کی شرہ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، مہنگائی کا جِن چراغ میں واپس جانے کو تیار نہیں اور ملکی معیشت جو 72 سال گزرنے کے بعد بھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے سے انکاری ہے۔ ان تمام وجوہات کو نظر انداز کرتے ہوئے مولانا اسلام آباد آئے بھی تو یہودیوں اور قادیانیوں کے خلاف جنگ لڑنے مطلب اگر شعوری یا غیر شعوری طور پر کہا جائے تو کراچی سے اسلام آباد کی جانب مولانا کی چہل قدمی ذاتی اناء کی تسکین تھی کیونکہ موجودہ صورت حال کے تناظر میں اسلام تو بہرحال خطرے میں نہیں البتہ مولانا کی سیاست ضرور خطرے میں ہے۔ اوراس امرکا بھی مجھے باخوبی اندازہ ہے کہ مولانا کے چاہنے والے اس تحریر کو پڑھنے کے بعد مجھ سے سخت خفا ہوں گے کیونکہ اُن کے نزدیک تو مولانا جمہوریت کی پاسداری اور اسلام کی سر بلندی کے لئے اسلام آباد تشریف لائے تھے لیکن معذرت کے ساتھ مولانا کی حکمت عملی میں ایسا کوئی نقطہ شامل نہیں تھا۔

اگر مولانا کی سیاست کا سرسری جائزہ لیا جائے تو مولانا کی سیاست کو عروج اُس وقت ملا جب مولانا نے 2002 کے عام انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قربت بڑھائی اور دو صوبوں میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے حکومت بنائی، لیکن 2008 کے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل اور اسٹیبلشمنٹ دونوں سے قربت ٹوٹ گئی جس کے نتیجے میں مولانا کی جماعت اور دیگر مذہبی جماعتیں انتخابات میں خاص کامیابیاں سمیٹنے میں ناکام رہیں۔ 2013 کے عام انتخابات کے نتائج بھی 2008 کے انتخابات سے منفرد نہیں تھے۔

یوں مولانا نے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرتے ہوئے 2018 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر تمام بڑی مذہبی جماعتوں کو متحدہ مجلس عمل کے بینر تلے یکجان کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن اسٹیبلشمنٹ کا مصالحہ ڈالنا بھول گئے اور یوں ایک بار پھر نتائج مولانا کی توقعات کے بَرعکس تھے۔ 2018 کے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کو بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ حال ہی میں سیاسی منظر نامے پر نمودار ہونے والی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے 2018 کے عام انتخابات میں کثیر تعداد میں ملک بھر سے ووٹ حاصل کیے اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا جس کی بنیادی وجہ اِس جماعت کی حساس موضوعات پر سیاست ہے۔

مولانا جن کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا اور ایسی صورت حال میں ایک اور مذہبی سیاسی جماعت کا یوں اُبھر کر آنا مولانا کی سیاست کے لئے مستقبل میں ایک بہت بڑے خطرے کی علامت تھی یوں مولانا نے 2018 کے عام انتخابات کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو نہیں دھرائیں گے اور خاص طور پر وہ غلطیاں جو اقتدار کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور مولانا نے فیصلہ کیا کے وہ اب حساس مذہبی موضوعات پربڑھ چڑھ کر سیاست کریں گے اور حکومت پر تنقیدی نشتروں کی رفتار بھی تیز کر دیں گے۔

2018 کے عام انتخابات میں مولانا کی جماعت کو جس طرح نظر اندازکیا گیا، اس صورت حال کے پیش نظر مولانا انتخابات کے فوراً بعد سے حکومت کے خلاف محاذ آرائی کے لئے سر گرم تھے لیکن دیگر سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے اعتماد میں لینے میں بار ہا دفعہ ناکام رہے لیکن مولانا اس مقصد سے قطعاً ً پیچھے نہیں ہٹے بلکہ محض مناسب موقع کی تلاش میں تھے۔ سابق صدرآ صف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی گرفتاری کے بعد جب ملک کی دو بڑی سیا سی جماعتیں قیادت کے بحران کا شکار تھی۔

اُس وقت مولانا حکومت کے خلاف نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اُترے اور موقع کو غنیمت جانتے ہوئے بھر پور سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کے نتیجے میں مولانا نے اسلام آباد میں سیاسی سٹیج سجایا اور بھرپور سٹریٹ پاور کا مظاہرہ کیا لیکن مولانا کی سیاست کا مسئلہ یہ ہے کہ مولانا کے ووٹ بینک کا انحصار صرف مذہبی جذبات رکھنے والے حضرات پر ہوتا ہے لہٰذا پڑھا لکھا اور عام فہم رکھنے والا ووٹر مولانا کی پہنچ سے دور ہے۔ نتیجتاً مولانا کے دھرنے میں موجود حضرات یہودیوں اور قادیانیوں کو گالیاں دیتے رہے اور اُن کی قیادت حکومت کی فراغت اور فوج کی غیر جانبداری پر مدہم لہجے میں سوال اُٹھا تی رہی جو کہ بے سُود ثابت ہوئے۔

ہمارے ہاں کیونکہ ادیبوں اور تجزیہ کاروں کی بھر مار ہے اس لئے دھرنے کے دوران کئی معروف بے روزگار صحافی و موسمی ادیب نئے تجزیہ اور فارمولوں کے ساتھ میدان میں اترے کہ مولانا اب حکومت گرا کر ہی واپس جائیں گے، مولانا جمہوری حلقوں کی آخری اُمید ہیں، مولانا غیر جمہوری طاقتوں کے سامنے ایک سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں گے۔ لیکن یہ تمام تجزیہ بے سود ثابت ہوئے کیونکہ مولانا کا احتجاج در حقیقت حکومت کے خلاف تھا ہی نہیں بلکہ مولانا تو حکومت بنانے والوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کہ کوئی بھی حکومت مولانا کی شخصیت کو انتخابات میں نظر انداز کرکے حکومت چلانا ممکن نہیں اور اس ضمن میں مولانا حکومت بنانے والوں کو کسی حد تک موثر پیغام پہنچانے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔

اس دوران مولانا نے جن شرائط پر واپسی کا اعلان کیا ان شرائط کا تجسس آئندہ انتخابات تک برقرار رہے گا لیکن ایک چیز بہت واضح ہے کہ مولانا اور اپوزیشن کی دیگر جماعتیں دھرنے کے بعد ایک بہتر پوزیشن میں نظر آرہی ہیں۔ دوسری طرف مولانا دھرنے کے ذریعے اپنے ووٹر کو آئندہ انتخابات تک متحرک رکھنے کے خواہاں ہیں جس کی بڑی وجہ مولانا کے بڑے اہداف ہیں۔ ان اہداف کے حصول کی خاطر مولانا مسلسل حکومت کے خلاف سر گرم رہیں گے لیکن حکومت کومولانا کی ہنگا مہ آرائی سے کوئی خاص نقصان نہیں ہونے والا لہٰذا حکومت مطمئن ہو کر اپنے پانچ سال پورے کرے گی۔

خیر دو ہفتے اسلام آباد میں پڑاؤ اور طویل ملاقاتوں کے بعد مولانا نے پلان بی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد کے شہریوں سے رخصت کی اجازت لی اور اپنے پڑاؤ کا رخ پنجاب، بلوچستان اور سندھ کی اہم شاہراہوں کی جانب موڑ لیا۔ یاد رہے حال ہی میں مولانا دھمکی آمیز لہجے میں نام نہاد پلان سی پر عمل درآمد کرنے کا عندیہ بھی دے چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاست اور ریاست دان مولانا کی سیاست بچانے میں کس حد تک کامیاب ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •