کیا اکثریت سچائی کا معیار ہو سکتی ہے؟ ایک اہم فکری مغالطہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک عام فکری و ذہنی مغالطہ جس سے ہر فرد کو واسطہ پڑتا ہے وہ ہے یہ تصور کہ معاشرے کی اکثریت جس رواج کی پیروی کرے یا جس راہ کو اختیار کرے وہی حق اور سچ ہے۔ لیکن اگر بنظر ِ غائر اس چیز کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من ا لشمس ہوجاتی ہے کہ یہ تصور سراسر غلط اور بودا ہے۔ اس بات کی سب سے بڑی دلیل حضرت نوح ؑ کی قوم ہے، کہ جب آپ ؑ نے قوم کو تبلیغ کی تو معدودے چند افراد کے پورا معاشرہ آپ کی سوچ سے اختلاف رکھتا تھا۔

پھر جب آپ قوم کی حالت سے مایوس ہوئے اور، اللہ تعالیٰ نے آپ کو کشتی بنانے کاکہا تو اُس وقت بھی قوم نے آپ کا مذاق اُڑایا۔ مگر جب اللہ کا عذاب وارد ہوا تو اقلیت بچ گئی اور اکثریت غرقاب ِ آب ہوگئی۔ اِس واقعے اور اس جیسے بہت سے واقعات اس مفروضے کو غلط ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں، کہ جس راہ پر اکثریت چل رہی ہے ضروری نہیں کہ وہ راستہ صحیح اور منزل ِ مقصود تک لے جانے والا بھی ہو۔ اس کی لم یہ ہے کہ عقل جیسا آلہ بہت ہی نایاب ہے اور معاشرے کے اندر صرف چیدہ اشخاص ہی اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ عقل سے نوازے جائیں اور حقیقی معنوں میں انسان کہلائے جاویں۔ اور پھر جب ہم نبی ﷺ کی زندگی پر غور کرتے ہیں تو وہاں بھی یہی حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ایک بہت بڑا طبقہ آپ ﷺ کی دعوت کا مخالف رہا، اور معدودے چند اشخاص کے سارا مکہ آپ ﷺ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا رہا، لیکن آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ کون کامیاب رہا اور کون ناکام؟

جیسا کہ یہ بات مکرر سہ کرر ہوگزری کہ ضروری نہیں کہ ہم جس چیز کو عقل تصور کرتے ہوں وہ عقل ہی نہ ہو۔ کیونکہ عقل ایک آلہ ہے جو تمیز کرتا ہے صحیح اور غلط کے درمیان، مگر یہ آلہ اُسی وقت یہ کام کر سکتا ہے جبکہ یہ درست ہو۔ لیکن اس کے برعکس یہ ایک واشگاف حقیقت ہے کہ الا ماشآ ء اللہ چند چیدہ اشخاص کو چھوڑ کر تقریباً سارے کا سارا معاشرہ ہی عقل جیسی نعمت سے محروم ہے، اور جس چیز کو عقل گردانتا ہے وہ عقل ہے ہی نہیں۔

آج انسان عقل کے نام پہ جو افعال ِ بد سر انجام دے رہا ہے وہ درحقیقت عقل مند نہیں بلکہ راماندہ درگا ہ ہے، گو یہ بات ابھی ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہماری اپنی عقل جو ہنوز ناقص ہے۔ اگر عقل تندرست اور سلامت ہوتی تو ہر منفی سرگرمی کو ہم نفرت کی نگاہ سے دیکھتے مگر یہاں تو معاملہ ہی اُلٹ ہے۔ ہر وہ شخص جو جتنا بڑا دھوکے باز ہے ہمارے یہاں بنظر ِ تحسین دیکھا بھی جاتا ہے، اور قابل ِ تقلید بھی سمجھا جاتا ہے کہ بظاہر وہ ایک کامیاب زندگی جو گزار رہا ہے۔ بھلے اس کامیابی کی بنیاد کسی غریب کا خون، کسی یتیم کا مال ِ ناحق اور کسی بے آسرا کی دم توڑڑتی امیدیں ہی کیوں نہ ہوں۔ لیکن جائے غور ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

اس کی وجہ ا س دنیا کے اندر ہر جگہ دھوکے کے سامان پڑے ہوئے ہیں جو انسان کو قدم قدم پہ لبھا کر اُسے اصلی ڈگر سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر سب سے بڑا دھوکہ جو انسان کو ورطہ حیرت میں مبتلا کردیتا ہے، وہ یہی ہے کہ انسان اکثریت کو معیار سمجھ کر اپنی نجات اور کامیابی بھی وہی سمجھتا ہے کہ جس طرف پورا معاشرہ جا رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا زبردست طوفان ہے کہ جس کی زد سے بہت کم ہی لوگ بچ پاتے ہیں ورنہ قریب قریب سارا معاشرہ ہی، اس ریلے میں بہہ جاتتا ہے اور یہ بھی نہیں جانتا کہ میں منزل تک صحیح سلامت پہنچ پاؤنگا یا نہیں۔

مگر جہاں معاشرے کے اندر مفادات میں اس قدر تفاوت ہو کہ ہر انسان اپنے مفاد کی خاطر اُس ریلے کا حصہ بنا ہو، تو یہ بات عقل سے بعید ہے کہ ایسی کوئی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوجائے اور کامیابی کے جویا افراد کو اپنی منزل تک بخیر و عافیت لے جائے۔ یہ خوشنما نعرے، یہ دلفریب وعدے، یہ مسحور کن بشارتیں، یہ جذبات انگیز اعلانات بظاہر تو انسان کو بہت لبھاتے ہیں اور، مسائل کے شکار انسان کو اپنی طرف نہایت شدت سے مائل بھی کرتتے ہیں، مگر معاملہ یہ ہے کہ، اس کے اندر صرف جذبات ہی جذبات ہیں عقل و شعور نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔

ہم کب سے ان جز وقتی نعروں اور اعلانات کے اوپر یقین کیے بیٹھے ہیں مگر نتیجہ وہی گھاٹ کے تین پاٹ ہی ہے کہ ان نعروں کے موجد تو اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کر کے پوری طرح منتفع ہوجاتے ہیں، مگر مسئلہ ان بے شعور مقلدین کا ہے کہ جن کے مقدر میں قربانی دے کر بھی پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ابھی ایک تحریک کی گرد پوری طرح بیٹھنے نہیں پاتی کہ، ایک نئی تحریک کا جنم ہوجاتا ہے جو مؤخر ا لذلذکر سے قدرے مختلف انداز میں وارد ہوکر ایک نئی بشارت کا ڈنکا بجاتی ہے۔

اور یاس و الم میں ڈوبے انسان پھر اس امید پر شاداں و فرخنداں نئی تحریک کو اپنا خون دینے کے واسطے تیار ہوجاتے ہیں کہ اب نتیجہ مختلف نکلے گا۔ لیکن اگر انسان کے اندر عقل و شعور کی قوت موجود ہو تو وہ نہ تو ان رہزنوں کے ہاتھوں لٹتا ہے اور نہ ہی ہر نئی تحریک اور ہر نئے وعدے کے اوپر آسانی سے یقین کرتا ہے۔

کسی بھی تحریک کا محرک ایک نظریہ ہوتا ہے اور اُس نظریے سے ہی ہم اُس تحریک کو پرکھ سکتے ہیں۔ یہ نظریہ یوں بیٹھے بٹھائے ایک ہی رات میں نہیں تیار ہوجاتا بل کہ، اس کے پیچھے ایک سوچ کار فرما ہوتی ہے جو پہلے زمینی حقائق کا بغور جائزہ لے کر ایک خاکہ تیار کرتی ہے۔ اب اگر اس نظریے کو جنم دینے والی سوچ حقیقی عقل و شعور سے تہی دامن ہے تو، وہ نظریہ مبنی بر تخریب ہی ہوگا اور اُس کا موجد سوائے اپنے یا چند اشخاص کے مفادات کے کسی بھی مثبت حکمت ِ عملی سے خالی ہوگا۔

ایک تخریب پہ مبنی نظریہ اور اِس کے نتیجے میں جنم لینے والی تحریک گو کتنی ہی مسحور کن اور جاذب کیوں نہ ہو، اور اُس نے ایک کثیر خلقت کو اپنا گرویدہ بھی کیوں نہ بنا لیا ہو، مگر اُس کا حتمی نتیجہ بربادی ہی بربادی ہے اس کے سواء کچھ بھی نہیں۔ ایسی تحاریک دن دگنی رات چگنی ترقی بھی کرتی ہیں بہت جلد پھلتی پھولتی بھی ہیں اور مطلوبہ نتائج بھی دیتی ہیں مگرسو ائے مخصوص افراد کے، کہ جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر پہلے اس تحریک کو تیار کیا اور پھر ایک گروہ ِ کثیر کو جھوٹ اور دھوکے دے کر ساتھ اپنے ساتھ م ملایا اور اپنی مطلوبہ منزل مل جانے پہ تحریک کو ایسے خختم کیا کہ گویا ایسی کسی تحریک کا وجود سرے سے تھا ہی نہیں۔ باقی رہے عام افراد ِ معاشرہ جو اُس تحریک کا نہ صرف حصہ بنے بلکہ ہمہ قسم قربانیا بھی دیں آخر میں اُن کے حصے میں سوائے تسلی اور دلاسے کے کچھ نہیں آتا اور اُن کی حالت بقول غالب

تھا خیال کو تجھ سے خواب میں معاملہ

جب اٹھے تو نہ سود تھا نہ زیاں تھا

انسان کے بارے میں چونکہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہی غلطی نہیں دہراتا، لہذا عمومی طور پہ افرادِ معاشرہ ایسی تحرییک کا انجام دیکھ کر اپنے آپ کو سنبھال لیتے ہیں اور یہ عزم بھی ک کرتے ہیں کہ، وہ ایسی غلطی پھر نہیں دہرائیں گے مگر اس چیز کا کیا علاج ہو کہ ایک انسان ٹھوکر کھا کر بھی نہ سنبھلے اور دوبارہ سے پھر ایسی ہی کسی تحریک کا حصہ بن کر اپنا سب کچھ برباد کر بیٹھے۔

آج سے نہیں بلکہ ہمیشہ سے یہ دستور چلا آتا ہے کہ بالا دست طبقے کو معاشرے میں یک گونہ فضیلت حاصل رہی ہے، اور زیر ِ دست طبقہ اس اول ا لذکر طبقے کی پیروی کرنے کو نہ صرف عین تقاضا عقل متصور کرتا ہے بلکہ اِ س چیز پہ فخر محسوس کرتا ہے۔ جس کی وجہ سوائے اس کہ اور کچھ نہیں کہ ثانی ا للذکر طبقہ، اول ا لذکر طبقے کو جب دنیوی اور ظاہری ہر حیثیت سے کامیاب دیکھتا ہے تو لامحالہ اس کے اندر بھی یہ سوچ عود کر آتی ہے، کہ اگر ہم بھی ان کی پیروی کریں تو شاید ہم بھی کامیابی کے اُس معیار کو پہنچ جائیں کہ جہاں یہ طبقہ کھڑا ہے۔

اور یہ بات نہیں سوچتے کہ کیا خبر یہ بالا دست طبقہ جو آج ظاہری کامیابی کی اس معراج پہ پہنچا ہوا ہے اس کے پیچھے جرم کی کتنی داستانیں چھپی ہوئی ہیں۔ نہ معلوم کتنے معصوم لوگوں کی آہیں اور سسکیاں ان کے محلات میں دبی ہوئی ہیں۔ کیا اس بالا دست طبقے میں کوئی ایک فرد بھی ایسا ہے کہ جس کو حقیقی معنی ٰ میں انسان کہا جاسکے، بلکہ نہ معلوم در صورت ِ انسانی کون کون سے خونخوار درندے ان عالی شان محلات میں ٹہل رہے ہیں۔

مگر وہ انسان جو عقل کی بجائے جذبات سے سوچنے کا عادی ہو اُس کے لئے اِ س چیز میں کوئی کشش نہیں کہ میں عقل سے مشورہ تو کر لوں کہ میرے لیے پیروی کا معیار کون ہے؟ میرے واسطے حجت کون ہے؟ مجھ سے میرے رب نے کس چیز کو بجا لانے کا کہا ہے اور کس کی اطاعت واجب کی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس بالادست طبقے کی پیروی کرتے ہوئے اور ان جیسی کامیابی حاصل کرنے کے واسطے اپنے معاشرے کے دوسرے انسانوں کے حقوق تو پامال نہیں کر بیٹھا۔ لیکن پھر یہاں وہی بات کہ اس واسطے عقل ِ سلیم درکار ہے جو قدم قدم پہ انسان کے ضمیر کو جگاتی رہے اور اسے پوشیدہ خطرات کے مضمرات سے آگاہ کرتی رہے کہ مبادا انسان بھول کر ایسے خسارے کا سودا کر بیٹھے جو اس کے لئے وبال ِ جان بن جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
واجد علی گوہر کی دیگر تحریریں
واجد علی گوہر کی دیگر تحریریں