پنجاب میں بیورو کریسی کی حالیہ تبدیلیوں کے بارے میں سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی کے اہم انکشافات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نےکہا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ سرکاری افسران کا سیاسی گٹھ جوڑ ہوتا ہے اور وہ اپنے تعلقات سیاسی رہنماؤں سے بنا کر رکھتے ہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے قریب ہونے کی شہرت رکھنے والے سیکرٹریز کو تبدیل کیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی کا کہنا تھا کہ سیاستدان اور بیوروکریسی میں فرق ہے اور جب تک یہ فرق برقرار تھا اُس وقت تک سب ٹھیک چل رہا تھا۔ وزیر اعظم کہتے ہیں یہ 1960 کی بیوروکریسی ہے اور انہیں طعنے مارے گئے، شاید اس وجہ سے بھی وہ اب کام نہیں کر رہے۔

اُنہوں نے کہا کہ سرکاری نوکری پکی ہوتی ہے اور سرکاری ملازمین کو نکالنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر افسران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے تو اس کا مطلب چیف سیکرٹری اپنے افسران سے درست طریقے سے کام نہیں لے پا رہے۔ یہ اُن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صوبے میں اپنے ماتحت عملے سے کام لیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کو اہم عہدے سے ہٹا کر کسی دوسرے اہم عہدے پر لگایا جا رہا ہے تو اس کا مطلب صرف تبدیلی کرنا ہے لیکن عام طور پر تبدیلی اُس وقت کی جاتی ہے جب کام درست نہ ہو رہا ہو۔ اطلاعات یہ ہیں جو سیکرٹریز وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے قریب تھے اُنہیں تبدیل کیا گیا ہے۔ اب سیکرٹریز کا خیال یہ ہے کہ تین ماہ سے زیادہ کسی کو عہدے پر رہنے نہیں دیا جاتا۔ جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم کو چاہیے تھا کہ افسران کی تبدیلی سے پہلے اُن سے مل کر مسائل سننے کی کوشش کرتے۔

تسنیم نورانی نے کہا ہے کہ پنجاب میں جو سرکاری افسران پی ٹی آئی کی حمایت کر رہے تھے اور اُنہوں نے ووٹ بھی تحریک انصاف کو دیا تھا، اب وہ بھی پیچھے ہٹ گئے ہیں کیونکہ حقیقت کچھ اور ہی سامنے آ رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •