سائنسدانوں نے ویاگرا کا متبادل تیار کر لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانوی سائنسدان جنسی طاقت کی گولی ویاگرا کا متبادل تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق برطانوی شہر گلڈفورڈ کی فرم ’فیوچرا میڈیکل‘ کے سائنسدانوں نے ایک کریم تیار کی ہے جس کا نام ’ایروکسن‘ (Eroxon)رکھا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ کریم ویاگرا کا بہترین متبادل قرار پائے گی کیونکہ یہ اس کی نسبت بہت جلد اثر دکھاتی ہے اور اس کے مضراثرات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایروکسن پانچ منٹ میں اثر دکھانا شروع کر دیتی ہے جو ویاگرا کے برعکس صرف آدھے گھنٹے تک باقی رہتا ہے۔ عام طور پر مردوں میں ایستادگی کا مسئلہ عضو مخصوصہ میں خون کی گردش متاثر ہونے کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ ویاگرا پورے جسم میں خون کی نالیوں کو چوڑا کرتی ہے جس سے ایستادگی کا مسئلہ کم یا ختم ہو جاتا ہے۔ اس کریم میں یہ خاصیت ہے کہ یہ براہ راست عضو مخصوصہ پر لگائی جائے گی اور صرف اسی کی وریدوں کو کھول کر اس میں خون کا بہاﺅ بہتر بنائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا اثر بہت تیز اور زیادہ موثر ہو گا۔

فیوچرا میڈیکل کے ہیڈآف ریسرچ کین جیمز کا کہنا ہے کہ ”اس کریم کے تجربات جاری ہیں۔ اب تک 230 مردوں پر اس کے تجربات کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے 40 فیصد مردوں پر اس دوا نے  5 منٹ میں اثر دکھانا شروع کر دیا تاہم جن میں ایستادگی کا مسئلہ زیادہ سنگین تھا ان میں اس کریم نے 10 منٹ میں اثر دکھایا۔ ان مردوں پر کریم کا اثر لگ بھگ  30 منٹ تک رہا۔ اس کے برعکس ویاگرا کا اثر 4 گھنٹے تک برقرار رہتا ہے۔ زیادہ تر لوگ ایروکسن کی اسی خصوصیت کی وجہ سے اس کو ترجیح دیں گے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •