دستی سے نیازی تک رونے کی کہانی؟
وزیراعلی پنجاب شہبازشریف کے دور میں عوامی راج پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے ساتھ جو کچھ پولیس نے ”اوپر کے حکم“ پرکیا تھا۔ وہ پنجاب کی تاریخ کا بدترین واقعہ یوں لکھا اور کہا جاسکتا ہے کہ ایک منتخب ایم این اے کو جس طرح تضحیک آمیز سلوک کسیاتھ اٹھایا گیا اور پھر اس کو اس حدتک تشدد کا نشانہ بنایاگیا کہ اس کے سارے ضبط و حوصلے ٹوٹ گئے، وہ بچوں کی طرح میڈیا کے سامنے روپڑا تھا۔ جمشید دستی کو اس بات کا خیال بھی نہیں رہا تھا کہ اس کے اس طرح رونے سے اس کے لاکھوں ووٹروں کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے جوکہ اس کو دیکھ کر ظالم کو للکارتے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو سبق سکھانے کے پیچھے جیسے میں نے عرض کیا ہے ”شریف“ تھے جوکہ جمہوری دور میں بادشاہ کی حیثیت میں اسلام آباد اور پنجاب پر حکومت کررہے تھے۔ اور ان شریف بھائیوں کے اشارے کو حکم کا درجہ حاصل تھا۔ باقی قانون، ضابطے اور اخلاقیات سب کہانی تھی۔ ان شریفوں کے اقتدار کو چیلنج کرنا یا پھر ان کے خلاف بات کرنا، اپنے آپ کو بدترین سلوک سے دوچار کرنے کے کاغذ پر دستخط کرنے تھے، ادھر پولیس سیاسی مخالفین کو دیوار کے ساتھ لگانے کا کام بخوبی سرانجام دے رہی تھی۔
جھوٹا مقدمہ، گرفتاری اور تشدد سے لے کر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنا دوسرے ہاتھ کا کام تھا۔ اقتدار کے طوطی بولنے کا اندازہ تو اس بات سے لگایا جاسکتا تھا کہ جمشید دستی کے علاوہ بھی رکن قومی اسمبلی شریفوں کی شرافت سے محفوظ نہیں تھے۔ مثال کے طورپر مظفرگڑھ سے جڑے ضلع کے ایک رکن قومی اسمبلی کے بھائی کو پولیس نے ایک پرانے مقدمہ میں اٹھایا تو اس کی جان کو محفوظ بنانے کے لئے ان کے سیکنٹروں لوگ تھانہ کے باہر موجود رہے کہ کہیں موصوف کو وزیراعلی پنجاب شہبازشریف کے معروف سیلبس ”مقابلہ“ میں پار نہ کردیاجائے۔
یوں جب تک رکن قومی اسمبلی کے بھائی کو ڈیرہ غازی خان جیل میں نہیں پہنچا دیا گیا، ان کے بندے دن رات تھانہ اور پولیس کے اردگرد موجود رہے۔ میں نے جیسے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی شہبازشریف کے دور میں گرفتاری اور تشدد کی پہلے بات کی ہے، اسی کی طرف واپس آتے ہیں، جمشید دستی کو گرفتاری کے بعد جب مظفرگڑھ عدالت میں لایا گیا تو موصوف تشدد سے بری حالت میں تھے، حوصلے ٹوٹ چکے تھے۔ اسے ایک مقدمہ میں ضمانت سے رہائی ملی ہی تھی کہ سنیٹرل جیل ملتان سے باہر آتے ہی مظفرگڑھ پولیس نے ایک اورمقدمہ میں گرفتار کرلیا تھا۔
یوں جمشید دستی کے لئے دن دیکھنا ممنوع کردیا گیا تھا۔ اس بدترین صورتحال سے دوچار عوامی راج پارٹی کے سربراہ ورکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے صحافیوں اور کیمرہ کو دیکھا تو قیدیوں والی وین کی جالیوں سے پولیس کے روکنے کے باوجود ہتھکڑیوں میں جکڑے ہاتھوں کوجوڑ کر روتے ہوئے یوں واسطے دیے کہ کوئی یقین کرنے پر تیار نہیں تھاکہ یہ رکن قومی اسمبلی جمشید دستی ہے جوکہ طاقتور کے خلاف چٹان کا روپ دھارتا تھا۔ جمشید دستی جس کو پولیس اہلکار روک رہے تھے لیکن وہ سب ضابطے توڑ کر اس انداز میں صحافیوں سے مخاطب ہوا۔
”گزارش یہ ہے کہ میرے اوپر بڑا ظلم ہورہا ہے۔ مجھے ٹارچرکیا جارہا ہے۔ مجھے سیل میں رکھا ہے۔ وہاں بچھو ہیں، وہاں آپ دیکھ لیں چوہے ہیں، چھ دن سے بھوکا ہوں۔ گو میرے پاس کچھ کھانا کو نہیں ہے۔ میری حالت دیکھو۔ دوحلقوں سے ایم این اے ہوں۔ قومی اسمبلی میں سب نے اجتجاج کیا ہے۔ نواز شریف صاحب آپ کو اپنا وقت یاد ہے۔ میری بہن کو تیسرے اسٹیج کا کنیسر ہے۔ والدہ بیمار پڑی ہے۔ دوحلقوں سے ایم این اے ہوں، میرے اوپر جھوٹے کیسز تھے خالی، اب میں جیل سے نکلا ہوں، مجھے پکڑ لیا ہے۔اتنا تشدد کیا ہوا، اتنا تشد کیا ہوا ہے کہ میری بری ترین حالت ہے۔ میں پانچ دن سے سو نہیں سکا ہوں۔ اللہ ہے اور میں۔ میں چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو کہتا ہوں، جمہوری دور ہے، یہ مشرف دور میں نہیں ہوا۔ سو موٹو لیں، مجھے بلایں، میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ میں ایک غریب، اور ایک بیلدار کا بیٹھا ہوں، میں جاگیر داروں کے خلاف کھڑا ہوں۔ مجھے گھیسٹ گھیسٹ کے مار رہے ہیں۔ اورمجھے ساری رات کھڑا۔
میں خدا کے لئے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو کہتا ہوں مجھے بلالیں، میں ایک ایم این اے ہوں، قانون سازی اسمبلی کا ممبر ہوں۔ مجھے مار مار کے، ٹارچر کررہے ہیں، اوپر سے حکم ہے مجھے بچا لیں، اوپر سے حکم ہے۔ مجھے بچا لیں، مجھے بہت ٹارچر کیا ہوا ہے، مجھے بہت ٹارچر کیا ہوا ہے۔ اور پھر پولیس گاڑی چل دی اور دستی مسلسل مجھے بچالیں چیف جسٹس صاحب، مجھے بچالیں، اوپر سے حکم ہے کہتا رہا ”۔ جمشید دستی کے ساتھ پیش آنے والا دلسوز واقعہ اسوقت میرے سامنے گھوم گیا جب میں قومی اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کی کوریج کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود تھا۔
اسحقاق کمیٹی کی سربراہی رکن قومی اسمبلی رانا محمد قاسم نون کررہے تھے جبکہ دیگر ارکان میں غلام محمد لالی، خرم شہزاد، امجد فاروق کھوسہ، محسن رانجھا، جیند انوار اور شگفتہ جمانی سمیت دیگر ارکان بھی موجود تھے۔ ایجنڈا طویل تھا لیکن اس میں ساتویں نمبر پر تحریک استحقاق رکن قومی اسمبلی لیہ ”کروڑ“ مجید خان نیازی کی تھی جوکہ لیہ پولیس کے سلوک کے خلاف تھی۔ اس ایشو کا اندازہ تو مجھے پہلے سے تھا کہ رکن صوبائی اسبملی پنجاب احمد علی اولکھ اور رکن قومی اسمبلی مجید خان نیازی کے درمیان دریائے سندھ کے کٹاؤ کو روکنے کے لئے فنڈز کا کریڈٹ لینے کے لئے ایک دوسرے سے تلخی کلامی ہوئی تھی، جس میں گالی گلوچ کے علاوہ ایک ڈیرے پر احمد علی اولکھ کو زدوکوب کرنے پر کہانی ختم ہوئی تھی، بعدازاں مجید نیازی اور اس کے بیٹے سمیت دیگر افراد کے خلاف پرچہ درج ہوا تھا۔
اسحقاق کمیٹی کی کارروائی میرے لیے خاصی دلچسپ یوں تھی کہ کمیٹی کے ارکان قومی اسمبلی ایک طرف بیٹھتے ہیں جبکہ اسحقاق کمیٹی میں اپنے استحقاق مجروع ہونے کی شکایت لے کر آنے والے ارکان اسمبلی اور متلعقہ افسران جن کے خلاف شکایت ہوتی ہے، وہ دوسری طرف بیٹھتے ہیں۔ پھرکارروائی میں رکن قومی اسمبلی کمیٹی کو اپنے ساتھ پیش آنے والے سلوک کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، مثال کے طورپر رکن قومی اسمبلی کہتا ہے کہ فلاں محکمہ کے چیف نے میرا فون نہیں اٹھایا تھا، میرے فون کا ریکارڈ چیک کرلیں، میں نے کتنی کالیں کی ہیں، میں رکن قومی اسمبلی ہوں، میں کون سا اپنے لیے فون کررہا تھا، عوامی نمائندہ ہوں، عوام کے کام کے لئے رابطہ کرتے ہیں لیکن یہ ہیں کہ فون اٹھانے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتے ہیں۔
یوں بحیثٰیت رکن قومی اسمبلی میرا استحقاق مجروع ہواہے۔ پھر محکمہ کا چیف، سیکرٹری اس بارے میں وضاحت دیتا ہے کہ جی معاملہ دراصل یہ تھا اور اس وجہ سے معزز رکن قومی اسمبلی کی کال نہیں لے سکتا تھا اور اکثراوقات تو افسر معافی تلافی پر ہی معاملہ ٹال جاتے ہیں لیکن بعض دفعہ ارکان اسمبلی ڈٹ جاتے ہیں کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ اس بار کمیٹی میں ایک ایشویہ بھی ڈسکس ہواکہ میپکو کے زونل چیف نے رکن قومی اسمبلی کی جعلی ویڈیو بنا کر فیس بک اپ لوڈ کی ہے۔ یوں اس کو معطل کیا جائے لیکن سیکرٹری پاور ڈویثرن نے پوری کمیٹی بعمہ چیرمین رکن قومی اسمبلی رانا محمد قاسم نون سے کہا کہ مجھے وقت دیں، تحقیقات کرلوں، فی الحال یہاں بیٹھ کر معطل نہیں کرسکتا، اس کا بھی موقف لے لوں، رکن قومی اسمبلی محسن رانجھا سمیت دیگر ارکان نے اپنے تئیں پوری کوشش کرلی لیکن سیکرٹری پاور ڈویثرن نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ زونل چیف کو فوری طور پر معطل کیاجائے۔
اور کہا کہ انصاف سب کو ملنا چاہیے۔ ایسا بہرحال کم ہوتاہے جوکہ سیکرٹری پاور ڈویثرن نے کمیٹی کی مشترکہ رائے کو اہمیت نہ دے کر کیا۔ بعدازاں اس ایشو کو دیکھنے کے لئے ذیلی کمیٹی بنادی گئی۔ اس دوران کمیٹی اجلاس میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر لیہ عثمان باجوہ بعمہ ایس ایچ وغیرہ تو پہنچ چکے تھے لیکن رکن قومی اسمبلی لیہ مجید خان نیازی نہیں تھا، بہرحال کوئی بارہ بجے کے بعد مجید نیازی بھی آگیا، پھر بھی ڈی پی او لیہ اور نیازی کو انتظارکرنا پڑا کہیں لنچ کے بعد دونوں کو کہا گیا کہ اگلی نشتوں پر آجائیں۔
پھر رکن قومی اسمبلی مجید خان نیازی کو کمیٹی کی طرف سے کہا گیا کہ اپنا مدعا بیان کریں۔ انہوں نے وہی پوری کہانی پیش کی کہ اس طرح وہ دریا کنارے موجود تھے، ان کا حلقہ تھا اور دریائے کے کٹاؤ کے معائنہ کے لئے افسر ز آئے ہوئے تھے۔ بمطابق مجید خان نیازی احمد علی اولکھ کو وہاں نہیں آنا چاہیے تھا، وہاں احمد علی اولکھ سے تلخ کلامی ہوئی لیکن بعد میں احمد علی اولکھ کی طرف سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ اس پر تشدد کیاگیا ہے اور اس کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں جوکہ درست نہیں ہے، میرے علاوہ میرے بیٹے اور دیگر افراد پر ایف آئی آر درج کی گئی اور پھر پولیس نے وہ کیا جوکہ تذلیل اور تضحیک آمیز تھا۔
میرے اوپر پولیس نے گنین تانی لیں، پھر مجید نیازی نے کہا کہ ڈی پی او صاحب تو بہت اچھے بندے ہیں لیکن ڈی ایس پی لیاقت علی تارڑ نے بہت زیادتی کی ہے۔ ڈی ایس پی کا پتہ چلا کہ انہوں نے کمیٹی میں آنے کی بجائے میڈیکل بھجوایا ہے۔ اس دوران مجید خان نیازی نے بتایا کہ ان کا عزیز زیارتوں کے بعد ملتان ائرپورٹ پر اترا تو ان کو پولیس نے اٹھالیا اور ننگا کرکے تشدد کانشانہ بنایا ہے جوکہ ظلم کی انتہاء ہے۔ ساتھ ہی رکن قومی اسمبلی مجید خان نیازی کا حوصلہ ٹوٹ گیا اور ”روپڑا“۔
کمیٹی ارکان ششدرہ رہ گئے، کمیٹی چیرمین رکن قومی اسمبلی رانا قاسم نون سمیت نے تسلی دیتے ہوئے پوچھا کہ وہ ڈی ایس پی لیاقت تارڑ کہاں ہے؟ بتایا گیا کہ وہ موجود نہیں ہے۔ اس دوران ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ تھوڑی دیر تو کوئی بولا ہی نہیں مطلب ایک حکومتی رکن قومی اسمبلی ڈی ایس پی کے بدترین سلوک پر روپڑا تھا۔ ادھر رانا قاسم نون نے کہا کہ ڈی ایس پی کو اگلے اجلاس میں بلائیں جی۔ ساتھ ایک کمیٹی رکن نے کہا کہ نیازی صاحب ایسی صورتحال ہے تو پارٹی سے استعفی دے دیں۔
لیکن مجید خان خاموش رہا۔ پھر مجید خان نیازی نے حوصلہ کرتے ہوے کمیٹی کو بتایا کہ جس رشتہ دار کو پولیس نے ننگا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا ہے، ان کے خلاف پرچہ یہ دیا ہے کہ انہوں نے اشتہاریوں کو پناہ دی ہے جبکہ وہ زیارتوں پر ہونے کی وجہ سے ملک میں ہی نہیں تھا۔ ڈی پی او لیہ عثمان باجوہ نے رکن قومی اسمبلی مجید خان نیازی کے رونے کے بعد کی صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش یوں کی کہ جی میں نیازی صاحب کے ساتھ مکمل رابطے میں ہوں، تسلی رکھیں، ان کو انصاف ملیگا، میں نے ان کو گرفتار نہیں کرنے دیا تھا۔
ساتھ ہی ڈی پی او عثمان باجوہ نے کہا کہ یہاں یہ بھی بتادوں کہ مجید خان نیازی کے پاس پارلیمنٹ ہاسٹل میں دو اشتہاری رہ رہے ہیں لیکن میں نے ویڈیوز سمیت دیگر ثبوت ہونے کے باوجود ان کی گرفتاری کے لئے کارروائی نہیں کی ہے۔ ڈی پی او باجوہ کے انکشاف کے ساتھ ہی مجید نیازی ڈی پی او کی تعریف کرنے لگے اور کہا مجھے ڈی پی او صاحب پر مکمل اعتماد ہے، ایشو ڈی ایس پی تارڑر کا ہے۔ بس ڈی پی او صاحب ہمارے کیس کو کہیں اور نہ بھجوائں۔
اندازہ تو پولیس کا پہلے ہی تھا لیکن پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک منتخب رکن قومی اسمبلی کو ڈی ایس پی پولیس کی واردات پر روتے دیکھ کر میں تو ہک بکا رہ گیا کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے، عام آدمی کہاں اس پولیس اسٹیٹ کے آگے ٹھہر سکتا ہے۔ شاید ابھی رکن قومی اسمبلی مجید خان نیازی نے جمشید دستی کی پولیس حراست میں ہاتھ جوڑ کر روتے اور چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو التجا کرتے نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی یہ سنا ہے کہ کس طرح ایک سیل میں رکھ کرتشدد کرکے اذیت دی گئی تھی وگرنہ ان کے رونے کا اندازہ اور بھی تکلیف دہ ہوتا۔
ادھر کمیٹی ممبران نے کہا کہ ہم اس ایشو کو آج کے اجلاس میں ختم نہیں کررہے ہیں بلکہ ڈی ایس پی کو اگلے اجلاس میں لے کر آیں۔ ڈی او پی عثمان باجوہ نے کہا کہ تسلی رکھیں، ڈی ایس پی آئے گا، ہم پیش کریں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔ جیسے ہی ڈی پی اور کمرے سے نکلا، رکن قومی اسمبلی مجید خان نیازی بھی پیچھے آگیا، پھر وہی تسلیاں اور ترلے ایک دوسرے کے لئے شروع ہوگئے، مطلب سیٹرہیوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ لیکن ادھر میرے ذہن میں رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے ساتھ رواء رکھے گئے پولیس ظلم کی فلم سے لے کر مجید خان نیازی کی پارلیمنٹ ہاؤس میں رونے کی درد ناک کہانی چلنے لگی جوکہ اب تک چل رہی ہے، اس کے بعد تو اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ تبدیلی آرہی نہیں رہی بلکہ آچکی ہے۔
جس کی تحریک انصف کے رکن قومی اسمبلی مجید خان نیازی سے لے کر وزیراعظم عمران خان کو مبارک ہو۔ ہم عوام نہ کل شریفوں کو پولیس اسٹیٹ بنانے سے روک سکے تھے اور نہ ہی وزیراعظم عمران خان کے وسیم اکرم پلس کے دور میں عام آدمی کو تو چھوڑیں ایک منتخب رکن قومی اسمبلی کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ کے خلاف بحیثٰیت عوام کھڑے ہوسکتے ہیں۔


