یہ لال لال کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر سال یکم مئی کو محنت کشوں کاعالمی دن منا کر بلا ناغہ چھٹی کرتی قوم سوال کرتی ہے کی یہ لال لال کیا ہے۔ اس قوم کو چھٹی سے غرض ہے مل جاتی ہے دن سو کر گزارتی ہے۔ کبھی یکم مئی کو محنت کشوں کے کسی جلسے میں بھی چلے جاتے تو لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ 1886 ء میں شکاگو میں مزدوروں کا سفید جھنڈا خون میں کیوں اور کیسے رنگ کر سرخ ہوا تھا اور اس کے بعد لال رنگ جد وجہد اور مزاحمت کی علامت کیونکر بن گیا ہے۔

دنیا سے غلامی کو ختم کرنے میں اس دن محنت کشوں کے خون میں رنگ کر سرخ ہونے والے جھنڈے نے ایسا کردار ادا کیا جو تاریخ میں کسی نابغہ سے ممکن نہ ہو پایا تھا۔ شکاگو میں محنت کشوں کے خون سے ہی دنیا بھر میں استعماریت اور استحصال کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا جو اب تک کسی نہ کسی شکل میں جاری و ساری ہے۔ استعماریوں اور استحصالیوں نے کبھی اس تحریک کو اشتراکیت، کبھی فسطائت اور کبھی لادینیت کا چھاپ لگا کر کچلنے کی کوشش کی مگر یورپ، براعظم امریکہ، ایشیاء، مشرق وسطیٰ، افریقہ جہاں جہاں جبر حد سے بڑھ گیا وہاں ہر طرف رنگ لال لال ہی نظر آیا۔

اپنی نئی نسل کو ہم کیا بتائیں کہ ہمارے ملک میں حسن ناصر کون تھا یا نزیر عباسی کیوں تاریک راہوں میں مارا گیا۔ لیکن اتنا تو کم از کم سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب ظلمت کی شب طویل ہوئی تو لال لال کی جدوجہد کے یہ روشن ستارے تھے جو اپنے حصے کی روشنی دے کر دوسروں کے لئے راہ دکھانے کے کام آئے۔ نئی نسل کو کیا سمجھائیں کہ فیض کے کلام میں کہے اشعار ’جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے‘ چوہدری افتخار کی افتاد لانے کے لئے نہیں تھے اور نہ ہی جالب نے شہرہ آفاق اشعار ًایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتاً شہباز شریف کی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے کہے تھے۔

چلئے چھوڑ دیجئے پرانی باتوں کو ہم بتاتے ہیں کہ ہمارے ارد گرد یہ لال لال گیت گاتے اچھلتے کودتے بچے، بلونگڑے، بزرگ، نوجوان، خواتین اور مرد کون ہیں۔ ہر سال 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پرملک بھر میں ریلیاں ہوتی ہیں جس میں عورتیں اپنا پیغام دیتی ہیں۔ ہر سال عورتوں کی برابری کے لئے جدوجہد میں نت نئے نعرے اور مطالبات جیسے اپنا کھانا خود گرم کرو، میرا جسم میری میری مرضی وغیرہ وغیرہ استحصالیوں کے دل میں تیر کی مانند پیوست ہوتے ہیں تو چیخیں سال بھر سنائی دیتی ہیں۔ یہ لال لال کا عصمت شاہجہان جیسی خواتین کا رنگ ہے جو صنف، ذات، رنگ، نسل اور دیگر کسی بھی تفاؤت سے بالا انسانی معاشرے میں یقین رکھتی ہیں اور اپنے لئے بھی اس حق کا مطالبہ کرتی ہیں۔

hassan nasir

کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے لوگوں کا قتل عام ہوا۔ اس برادری کے لوگوں کو بہ آسانی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور وہ ایک خاص علاقے میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہزارہ برادری کے مذہب کی بنیاد پر قتل عام کو روکنے کے لئے ایک نہتی لڑکی جلیلہ حیدر نے تادم بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا اور نڈھال ہونے تک کوئٹہ پریس کلب میں پڑی رہی۔ اس برادری سے تعلق رکھنے والے مذہبی راہنماؤں نے اس لڑکی کو بھی لال لال کہا، لادین کہا اور ملحد کہا مگر وہ ملک کی مسلح افواج کے سربراہ کے اس کے پاس جاکر اس کے مطالبات سننے تک ٹس سے مس نہ ہوئی۔ یہ جبر کے خلاف لال لال کی جدوجہد کا ایک انداز ہے جو جلیلہ نے اپنایا۔

ہم مشال خان کو بھول گئے جس کو عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں بے دردی سے استحصالیوں نے قتل کیا تھا۔ مشال خان کا جرم یہ تھا کہ اس نے یونیورسٹی کی انتظامیہ کی چیرہ دستیوں کو سامنے لایا تھا۔ وہ تعلیم سب کے لئے ارزان کرنے کا حامی تھا اور مساوات کا علمبردار تھا۔ ان کے والد اقبال لالا نے صوابی سے چل کر لاہور کی لال لال تحریک کا حصہ بن کر اپنے بیٹے کے مشن کو جاری رکھا۔ حکومت نے دیگر کے ساتھ اقبال لالا پر بھی کیس بنا کر یہ ثابت کیا کہ مشال کو انصاف دینا تو دور کی بات اس کے باپ کو بھی ضعیف العمری میں بھی اذیت دینے سے باز نہیں آئے گی۔ مگر یہ لال لال کی وہ تحریک ہے جس میں کبھی بیٹا باپ کے مشن کو اور کبھی باپ بیٹے کی مشعل کو اٹھاکر سفر جاری رکھتا ہے۔

راؤ انوار کے ہاتھوں چار سو سے زائد افراد کے قتل پر جہاں ملک کی عدالتیں اور ریاستی ادارے بے بس نظر آئے وہاں کراچی کا ایک نوجوان وکیل اور انسانی حقوق کا کارکن جبران ناصر ثابت قدمی کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا نظر آتا ہے۔ وہ نقیب اللہ محسود کے بیمار والد کا کیس لڑرہے ہیں جس کا مقابلہ دیدہ و نادیدہ قوتوں کے ساتھ ہے۔ جبران ناصر لال لال کا انسانی حقوق کا جھنڈا اٹھاکر جدوجہد کرنے والا چہرہ ہے۔ ہم نے بار بار جبران ناصر کو بے دین، ملحد، ایجنٹ جانے کیا کیا کہا مگر جب بھی ہمیں ضرورت پڑی اس نوجوان نے کبھی مایوس نہیں کیا۔ کوئی بات اس کی بس میں ہو یا نہ ہومگر وہ اپنی آواز ہر مظلوم اور مجبور کی آواز کے ساتھ ملاتا ہے کبھی خاموش نہیں رہتا۔

گلگت بلتستان کی ایک جیل میں عطا آباد جھیل کے متاثرین کے حقوق کی بات کرنے کے جرم میں گرفتار بابا جان اور کامریڈ افتخار 80 سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ سزا دینے والے بھی کہتے ہیں کہ زیادتی ہوئی ہے اور استغاثہ دینے والے بھی اس سزا کو جائز نہیں سمجھتے مگر پھر بھی بابا جان اور افتخار قید میں ہیں۔ یہ بھی ایک انداز ہے لال لال کا کہ وہ عقوبت خانوں، جیل خانوں اور قتل گاہوں میں بھی ہنستے مسکراتے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ’جس شان سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے‘ ۔

سندھ کے کسی دیہات میں طاقت ور جرگہ کے ہاتھوں کسی لڑکی کی کاروکاری ہو، بلوچستان کے کسی دور افتادہ علاقے میں کسی نوجوان کی گمشدگی ہو یا گلگت بلتستان مین شیڈول 4 کے نفاز کا جبرہو، پنجاب میں غریب کسانوں کی زمینوں پر جبری قبضہ ہو یا کراچی میں چائنا کٹنگ ہو ہر مسئلے پر کچھ لوگ لال لال جھنڈے لے کر جبر، استحصال، لاقانونیت، دہشت گردی سے آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے سامنے آجاتے ہیں۔ لال لال کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ وہ کسی کے لئے حکومت، وزارت عظمیٰ، صدارت یا یا وزارت نہیں مانگتے بلکہ وہ ہر ایک کے لئے مساوات، انصاف، قانون کی حکمرانی، آئین کی بالا دستی اور جمہوریت کا تقاضا کرتے ہیں۔

طلبہ مارچ میں پاکستان کے کم و بیش پچاس شہروں میں نکلے لال لال بھی اپنے لئے کچھ نہیں مانگتے وہ صرف تمام طلبہ کے لئے حق انجمن سازی اور تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ نوجوانوں کو یہ حق اس ملک کے آئین نے دیا ہے مگر ایک آمر نے ان کو اس حق سے محروم کررکھا تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس ملک کے لوگ 40 سال بعد بھول چکے ہیں کہ یہاں تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین بھی ہوتی تھی اور نوجوان صحت مند سیاسی سرگرمیوں کا حصہ بھی ہوا کرتے تھے جن میں سے کئی ایک آج قومی سیاست کے افق پر نمایاں بھی ہیں۔ 40 سال قبل طلبہ و مزدور یونین اور قومی سایست میں لال لال ایک نمایاں رنگ ہو کرتا تھا جس کی اس ملک میں جمہوریت کی بحالی اور آئین کی حکمرانی قائم کرنے میں ناقابل فراموش کردار رہا ہے۔

لال لال اقتدار کے لئے جھوٹ بھول کر سیاست کا منہ کالا کرنے کا یا اقتدار میں آنے کے بعد وعدے دلانے پرغصے میں لال پیلے ہونے کا نام نہیں بلکہ جبر، استحصال اور استبداد کے خلاف جہد مسلسل کا نام ہے جو ہردور میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 204 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan