لندن برج حملہ آور عثمان خان کو پاکستان میں ان کے گاؤں کجلانی میں دفنا دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لندن برج حملہ آور عثمان خان کو جمعے کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی میں دفنا دیا گیا ہے۔

عثمان خان کے والدین کا تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے ضلع کوٹلی کے گاؤں کجلانی سے ہے اور عثمان کی لاش برطانیہ سے پاکستان لانے کے بعد اسے جمعے کو ان کے گاؤں میں دفنا دیا گیا ہے۔

28 برس کے عثمان خان مشروط ضمانت پر جیل سے باہر تھے جب انھوں نے 29 نومبر کو لندن برج پر چاقو کے حملے سے دو افراد کو قتل جبکہ تین کو زخمی کر دیا تھا۔

اس کے بعد انھیں مسلح پولیس اہلکاروں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

عثمان خان کی تدفین پاکستان میں کیوں کی گئی؟

خاندان کے دور کے رشتہ دار راجہ مشتاق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ عثمان خان کی لاش جمعے کی صبح اسلام آباد ائیر پورٹ پہنچی تھی جہاں سے اسے کوٹلی میں ان کے گاؤں کجلانی پہنچایا گیا۔

راجہ مشتاق کا کہنا تھا کہ ان کے گاؤں کے انگلینڈ میں مقیم لوگوں کی تدفین اکثر کجلانی میں ہی کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ’خاص کر خواتین کے معاملے میں ایسا ہی کیا جاتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے گاؤں کی ایک بڑی آبادی انگلینڈ میں مقیم ہے۔

راجہ مشتاق احمد کے مطابق گاؤں کے لوگ میت کو لینے اسلام آباد گئے تھے جو تقریباً 12 بجے اسے لے کر گاؤں پہنچے تھے۔

گاؤں کے ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگ جنازے میں خاندان سے ہمدردی کی وجہ سے شرکت کر رہے ہیں ناکہ اس لیے کیوں کہ وہ عثمان خان کے اقدامات کی مذمت نہیں کرتے۔

ان کے مطابق عثمان خان کی لاش کے ساتھ ان کے خاندان والے بھی پاکستان آئے ہیں جن میں ان کے والد، والدہ اور بہن بھائی شامل ہیں۔ جبکہ میت کو جب گاؤں لایا گیا تو ساتھ کوئی سرکاری اہلکار موجود نہیں تھا اور نہ ہی جنازے کے وقت کوئی سرکاری اہلکار وہاں موجود تھا۔

راجہ مشتاق کے مطابق جمعے کو کئی میڈیا والوں نے ان کے خاندان سے بات کرنے کے لیے رابطے کیے لیکن عثمان خان کے بھائیوں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہ انگلینڈ میں بیان دے چکے ہیں اور واقعے کی مذمت بھی کر چکے ہیں اس لیے وہ پاکستان میں کسی سے بات نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں عثمان خان کے خاندان کا کہنا تھا کہ عثمان کی اس حرکت نے انھیں بہت دکھ اور صدمہ پہنچایا ہے۔

بیان میں عثمان خان کے خاندان نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی تھی کہ انھیں اس مشکل مرحلے میں پریشان نہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ عثمان خان برطانیہ میں پیدا ہوئے اور ثبوتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ برطانیہ میں شدت پسندنی کی جانب مائل ہوئے، نہ کہ پاکستان میں۔

لیکن وہ باقاعدگی سے اپنے خاندان سے ملنے کے لیے پاکستان آیا کرتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12725 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp