ہم پھربھی خوش ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طاہر پچھلے دس سال سے کینیڈا میں رہتا ہے جیکب نہ صرف اس کا ہمسایہ ہے بلکہ بہترین دوست بھی ہے۔ وہ نہ صرف خوش رہنے والا ہے بلکہ کسی بھی محفل کو کشتِ زعفران بنانے کے فن سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ہر محفل کی جان سمجھا جاتا ہے۔ لیکن آج صبح جیکب حسب ِ خلاف غمگین اور بجھا بجھا سا تھا۔ یہ دیکھ کر طاہراس کے قریب گیا۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پریشانی کا سبب پوچھا۔ اس نے طاہر کوبتایا کہ اس کے ہمسائے میں ایک جوڑارہتا ہے انہوں نے ایک کتا پال رکھاہے۔

کسی وجہ سے انہیں تین دن کے لیے ملک سے باہر جانا پڑاجب وہ ائیر پورٹ روانہ ہوئے تو اس وقت کتا کمرے میں تھا۔ بے خیالی میں انہوں نے کمرے کو لاک کیا اور روانہ ہوگئے جب کتے کو بھوک پیاس نے ستایاتو اس نے بھونکنا شروع کر دیا شروع میں تو لوگوں نے اسے معمول سمجھا مگر جب اس کا بھونکنا کسی طور بند نہ ہوا تو لوگوں کو تجسّس ہوا۔ انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس آئی، دروازہ توڑا گیا اور یوں کتے کو باہر نکال کر اسے خوراک مہیا کی گئی۔

یہ سن کر طاہر نے پوچھا کہ اس میں تمہارے لیے پریشانی کی بات کیا ہے؟ جیکب نے کنکھیوں سے اس کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں سوچ رہا ہوں کہ وہ کتنے بے حس لوگ ہیں! انہیں اتنا بھی احساس نہیں تھا کہ کتا کمرے میں بند ہے۔ اسے پانی کی ضرورت ہو گی۔ اسے بھوک بھی لگے گی۔  وہ اسے بھوکا پیاسا ایک کمرے میں بند کر کے چلے گئے۔ طاہر نے یہ بات سنی تو مسکرا کر کہا کہ بس! تم اتنی سی بات پر پریشان ہو؟ ہمارے ملک میں سینکڑوں سینکڑوں دھماکے ہوتے ہیں جن میں ہزاروں لوگ مرتے ہیں لیکن پھربھی ہماری وہ حالت نہیں ہوتی جو تمہاری محض ایک کتے کے بھوکا پیاسا رہنے پر ہو رہی ہے۔

کیونکہ ہم بہادراور تم بزدل قوم ہو۔ یہ سن کر جیکب اپنی جگہ سے کھڑا ہوا، آہستہ آہستہ چلتا ہوا طاہر کے سامنے آن کھڑا ہوا، اپنا ایک ہاتھ اس کے کندے پر رکھا، ایک تھپکی دی اورکہا ”نہیں! ایسا اس وجہ سے ہے کیونکہ تم بے حس ہو۔ تم جسے اپنی بہادری کا نام دے رہے ہو وہ تمہاری بے حسی ہے اور جسے ہماری بزدلی سمجھ رہے ہو وہ احساس ہے“۔

آپ اس واقعے کو سامنے رکھیں اور اب ذرا اس رپورٹ کو بھی دیکھ لیں جودنیا میں خوشیوں کے حوالے سے ایک تنظیم کی طرف سے جاری کی گئی۔ جس کے مطابق پاکستان اس فہرست میں اسّی کے ہندسے پر کھڑا ہے۔ پڑوسی ملک انڈیا کا نمبر ایک سو بائیسواں جبکہ افغانستان کا نمبر ایک سو اکتالیسواں ہے۔ میڈیا نے اس بات کا بڑاڈھنڈورا (ڈھنڈورہ، غلط املاہے ) پیٹا اور کچھ نوجوانوں کو ناچتے گاتے بھی دکھایا۔ انڈیا اور افغانستان کے ساتھ تقابل پر مبنی خبر سنتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ اس حوالے سے کوئی بہت بڑاکارنامہ ہو۔

حالانکہ اعداد و شمار کو دیکھا جائے، جیکب کی کہی بات کو سامنے رکھا جائے اور پھر اس رپورٹ پر غورکیاجائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم خوش نہیں بلکہ واقعی بے حس ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں ”توجّہ دلاو“ نوٹس کہتا ہے کہ پنجاب میں تہترہزار ( 73000 ) اشتہاری ابھی تک گرفتار نہیں کیے جاسکے۔ ان میں دوسوچالیس ( 240 ) وہ ہیں جن کا نام بلیک بک میں ہے۔ اگر دو ڈالر یومیہ آمدنی کاحساب لگایا جائے تو ہماری آدھی آبادی خط غربت سے نیچے ہے جبکہ عالمی بینک اور دیگر اداروں کے مطابق یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔

پچھلے چاربرسوں میں ہمارے ہاں تئیس لاکھ ( 2300000 ) جرائم ہوئے ہیں۔ پچھلے سال کے صرف ابتدائی تین ماہ میں بمب دھماکوں میں ایک سو ساٹھ افراد لقمہ اجل بنے اور پانچ سودس افراد زخمی ہوئے۔ وزارت ِ داخلہ کی طرف سے سینٹ کو ایک رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق ملک میں سڑسٹھ لاکھ ( 6700000 ) لوگ نشے کے عادی ہیں جن کی عمریں پندرہ سال سے چونسٹھ سال تک ہیں۔ ہمارے ہاں سات لاکھ سٹریٹ کرائم ہو چکے ہیں۔ ملک عزیز میں ہر ہزار میں دوسوساٹھ بچے زچگی کے فوراً بعد مرجاتے ہیں۔

جو بچ جاتے ہیں ان میں سے بھی پندرہ فیصد ( 15 %) شدید بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ زچگی کی وجہ سے پیسٹھ لاکھ خواتین مختلف پیچیدہ مسائل کا شکار ہو چکی ہیں۔ آبادی کے ہر پانچھ لاکھ کے لیے صرف ایک سائیکا ٹرسٹ موجود ہے۔ ہماری صحت کے لیے بجٹ کا صرف دوعشاریہ چار فیصد حصہ مختص ہے۔ ہمارے پندرہ لاکھ ( 1500000 ) لوگ دماغی مسائل کا شکار ہیں جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق ہماری چالیس فیصد آبادی مختلف سطح کے کسی نہ کسی دماغی یا نفسیاتی عارضے کا شکار ہے۔

لوگ باہر سے آتے ہیں اور دن دیہاڑے لوگوں کومار کر باعزّت رہائی پاتے ہیں۔ ہمارے رہنما ٹی وی پر بیٹھ کر علی الاعلان کرپشن کو اپنا حقّ بتاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ زندگی کے لیے محفوظ ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر ایک سو سینتیسواں، شرح خواندگی کے اعتبار سے ایک سو انچاسواں صحت میں ایک سو چھپنواں، معیارزندگی میں ایک سو سڑسٹھواں اورانسانی ترقی کے لحاظ سے ایک سو انتالیسواں ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ ملازمتی شعبہ چالیس فیصد جبکہ عدلیہ اور ارکان پارلیمینٹ چودہ فیصد کرپشن کا شکار ہیں۔ پچھلے سال اٹھارہ فیصد شہری اپنے مسائل کے حل کے لیے کسی نہ کسی سطح پر رشوت دینے پر مجبور ہوئے۔

یہ سارے حقائق اپنی جگہ لیکن ہم پھر بھی نہ صرف ”خوش“ ہیں بلکہ اس خوشی میں انڈیا اورافغانستان سے ”آگے“ بھی ہیں۔ ایک نظر ان مسائل کو دیکھیں اور پھر دیانتداری سے بتائیں کہ کیا واقعی خوشی اسی کا نام ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم لوگ واقعی بے حس ہیں اور وہ بھی اس قدرکہ خوشی اور بے حسّی کے فرق سے ناآشنا ہو چکے ہیں۔ کیا ہم حقیقت پسندی کا سامناکر سکتے ہیں؟ خوشی اور بے حسّی کامفہوم سمجھ سکتے ہیں؟ ہاں! ایساہوتوسکتا ہے مگر؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •