عمران حکومت لڑکھڑا رہی ہے
صاحبانِ من! تمام معاملات طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت ہو رہے ہیں۔ ہم نے کچھ دن پہلے بھی لکھا تھا کہ مولانا کا دھرنا دو اڑھائی ہفتے کی رونق کے بعد بغیر بڑی کامیابی کے ختم ہو جائے گا۔ نواز شریف بغیر ڈیل کے علاج کے لیے باہر چلے جائیں گے اور حکومت اپنا سر پیٹتی رہ جائی گی۔ تین چار ماہ کے بعد نواز شریف رو بہ صحت ہو کر واپس آ جائیں گے اور نا اہلی، نالائقی اور بے تدبیری کی ماری حکومت کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن تحریک چلائیں گے اور عمران خان 2020 کے اواخر میں استعفا دے دیں گے اور نئے الیکشن کا انعقاد ہو گا۔ اس حکومت کی نا اہلی اور بے حکمتی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے اور روز افزوں اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یادش بخیر 2018 کے الیکشن سے پہلے با وثوق ذرائع یہ خبر دے رہے تھے کہ شہباز شریف اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔ اس تاثر کو یوں بھی تقویت ملی تھی کہ الیکشن سے کچھ دن قبل شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جس میں انہیں اگلے سبربراہ مملکت کا پروٹوکول ملا تھا۔ اندرون ملک بھی مقتدر حلقو ں سے بھی معاملات طے ہو گئے تھے مگر نواز شریف نہ مانے اور یوں شہباز شریف وزیر اعظم بنتے بنتے رہ گئے۔ بعد کے حالات و واقعات نے ثابت کیا کہ نواز شریف کا فیصلہ درست تھا اگرچہ ان کے اس فیصلے کے پس پردہ شہباز شریف پر عدم ا عتماد کا عنصر بھی تھا تاہم اگر شہباز شریف سادہ اکثریت کے ساتھ اتحادیوں کے سہارے وزیر اعظم بن بھی جاتے تو ن لیگ کو وہ سیاسی ثمرات ہر گز حاصل نہ ہوتے جو آج اسے مل رہے ہیں۔
مثلاً اگر مرکز اور پنجاب۔ میں ن لیگ کی کمزور سی حکومتیں ہوتیں تو ن لیگ کے راہنماٶں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا تاثر بھی وہ نہ ہوتا جو آج ہے اور نتیجتاً ن لیگ کے حق میں عوامی ہمدردی کی یہ لہر بھی نہ چل رہی ہوتی۔ آج نواز شریف اور شہباز شریف سمیت ن لیگ کے بے شمار قائدین جعلی اور جھوٹے کیسوں میں نہ صرف یہ کہ نیب عدالتوں کے انتہائی متنازع فیصلوں کے نتیجے میں پابند سلاسل ہیں بلکہ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹس کے اکثر فیصلے بھی صاف انتقامی کارروائیاں دکھائی دے رہے ہیں۔
خود نواز شریف کے خلاف جے آئی ٹی کی تشکیل اور من مانے فیصلوں تک ہر چیز شکوک و شبہات کی دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔ جن قائدین کے خلاف کرپشن یا توہین عدالت کے حوالے سے برائے نام مواد بھی نہ ملا انہیں منشیات فروشی کے الزامات کے تحت انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ حنیف عباسی اور رانا ثنا اللہ کے کیسز اس کی بد ترین مثالیں ہیں۔
مرکزی، پنجاب اور کے پی کے حکومتوں کی ناقص کارکردگی اظہر من الشمس ہے۔ کے پی کے میں بی آر ٹی منصوبہ اور پنجاب میں عثمان بزدار جیسے وزیر اعلٰی پر مسلسل بضد رہنے کا رجحان وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کی نا اہلی کی قلعی کھول رہا ہے۔ وزرا اور بیوروکریسی میں مسلسل تبادلے اور اکھاڑ پچھاڑ حکومتی ٹیم کی نا اہلی کے ساتھ ساتھ نا تجربہ کاری کی بھی غماز ہے۔ وزیراعظم کی گھبراہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وفاق اور پنجاب میں گذشتہ دو روز کے دوران میں بیوروکریسی میں ایک سو چالیس تبادلے کیے گئے۔
معیشت کی مسلسل گراوٹ اور غربت، بے روز گاری، مہنگائی اور گرانی میں مسلسل اور ناقابل برداشت اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹماٹر کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کو بریک لگانا لگتا ہے محال ہو گیا ہے۔ میڈیا پر ناروا پابندیوں کا سلسلہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ سابق آرمی چیف کا انٹرویو تک روک دیا گیا۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر چیف جسٹس کا اپنے کیرئیر کا پہلا سو موٹو نو ٹس لے کر حکومتی لیگل ٹیم کی نا اہلی کو طشت از بام کرنا بھی منصوبے کا حصہ ہی دکھائی دیتا ہے۔
ورنہ چیف جسٹس جاتے جاتے یوں ”طاقتور“ کو کٹہرے میں کھڑا نہ کر تے۔ ادھر منصوبہ سازوں نے وزیر اعظم کی خود سری اور سرکشی کا ایک اور دلچسپ توڑ نکالا ہے۔ جو وزیراعظم اپوزیشن کے قائدین سے ہاتھ ملانے کے روادار نہیں تھے اب آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے میں قانون سازی کے لیے اپوزیشن پارٹیوں کے ناز نخرے اٹھاتے دکھائی دیں گے۔ یہاں اس پیش گوئی کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے مسئلے پر نہ صرف یہ کہ بڑے آرام سے قانون سازی ہو گی بلکہ ن لیگ اس سلسلے میں حکومت کا ساتھ بھی دے گی۔
پی ٹی آئی کے اندر بھی شکست و ریخت کا عمل تیز ہو چکا ہے۔ اس کے وزرا ببانگ دہل اعلان کر رہے ہیں کہ اس حکومت میں کرپشن میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ خارجہ محاذ پر کشمیر اور ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے حکومت کی ذلت آمیز ناکامی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سی پیک جیسے گیم چینجر منصو بے پر بے شمار سوالیہ نشان لگ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اس حکومت کی بچگانہ پالیسیوں اور زبان دراز وزرا کی شعلہ نوائی کی وجہ سے چین کے ساتھ باہمی تعلقات میں بھی روایتی گرم جوشی ختم ہو رہی ہے۔
سنگین غداری کیس میں جنرل مشرف کے بچاٶ کے لیے کی جانے والی حکومتی کاوشیں بھی عمران خان کے سابقہ اور موجودہ موقف میں خوفناک تضاد کو ظاہر کر رہی ہیں۔ منصوبہ سازوں نے اس حکومت کو ایکسپوز کرنے کے لیے ایک اس قدر خطرناک جال بچھایا ہے کہ جس میں خود اداروں کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ وزیر اعظم، وزرا اور مرکزی قائدین کے توسط سے بتکرار یہ بیانات دلوائے جا رہے ہیں کہ ادارے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں لہٰذا اس کے انہدام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ایسا ہی تاثر فوج کی طرف سے بھی دیا جا رہا ہے۔ عوام میں یہ تاثر گہرا ہو چکا ہے کہ حکومت کو اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی ناقص کارکردگی بلکہ ہر شعبے میں نا اہلی کا تاثر پی ٹی آئی کے و جود کو اس طرح معدوم کر دے گا جس طرح پی پی ختم ہوئی تھی۔ آنے والے دنوں میں میاں نواز شریف بتدریج عدالتوں سے کلئیر ہوتے جائیں گے اور ن لیگ کے دیگر معتوبین کو بھی ریلیف ملتا جائے گا۔ ن لیگ اپنا مشکل ترین وقت گزار چکی ہے اور اب یہ وقت پی ٹی آئی حکومت پر آنے والا ہے۔
فارن فنڈنگ کا معاملہ اس قدر سنگین ہے کہ عمران خان کی نا اہلی کے علاوہ پوری پارٹی بھی اڑ سکتی ہے۔ دیکھتے ہیں منصوبہ ساز اپنی پٹاری سے کب یہ معاملہ نکال کر حکمرانوں کی نیندیں اڑانے والے ہیں؟ نا اہل حکومت کے پاٶں اکھڑ چکے ہیں اور وہ بری طرح لڑ کھڑا رہی ہے۔ لڑکھڑانے والی حکومت کبھی بھی گر سکتی ہے۔ بس نیچے سے ارواڑ کھینچنے کی دیر ہے۔


