”میں کتنی معصوم تھی“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چھوٹی عمر کی شادیوں کا جبر اس سماج میں مسلسل بڑھ رہا ہے۔ دیہات یا اکثر علاقوں میں لڑکیوں کی خرید و فروخت کا رواج عام ہے۔ اس خرید و فروخت کے کاروبار میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ لڑکا کیسا ہے۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ پیسے کتنے دے رہا ہے۔ سندھ کے کئی قبائل میں بیٹیوں کی خرید و فروخت عام ہے۔ کچھ لوگ غربت کی وجہ سے بیٹیاں فروخت کرتے ہیں۔

یہ پچھلے برس کی بات ہے جب میں اس علاقے میں جانا ہوا۔ اس عورت جو اپنا نام نجمہ بتا رہی تھی اس کی بچی آگ سے جھلس گئی تھی۔ پنتیس چالیس سال عمر کی وہ عورت مجھے کم بیش کوئی پچاس کی لگ رہی تھی۔ ہم نے معاملہ رپورٹ کیا اس بچی کا علاج ہوا اور کافی ان کو سپورٹ بھی ملی۔ ایک دن اس علاقے میں دوبارہ کسی کام سے جانا ہوا تو میں اس گھر میں چلا گیا وہ مجھے پہچان گئی اور بھاگی بھاگی اپنی بچی کو چلا کر بلانے لگی وہ اخبار والا چاچو آیا ہے۔

میرے لیے پانی لائی زبردستی چائے پلائی۔ میرے پاس اس دن بہت وقت تھا سوچا آج اس سے باتیں کی جائیں۔ میرا پہلا سوال تھا کہ تمہارے شوہر کو کیا ہوا؟ یہ سن کر وہ بولی کہ جب شادی ہوئی تھی تب بھی وہ پچپن سے ساٹھ برس کا تھا اور میں دس سال کی۔ میں حیران رہ گیا اور کہانی میں زیادہ انٹریسٹ لینے لگا، 55 سے ساٹھ سال اور تم دس سال کی؟ یہ کیا کہہ رہی ہو؟ اس نے مجھے کہا کے بابو کس دنیا میں رہتے ہو؟ یہ تو یہاں کوئی حیرانگی والی بات نہیں۔

میں نے کہا لیکن کیوں؟ والدین ایسے بے رحم بھی ہوتے ہیں کیا؟

ٹھنڈی سانس لے کر بولنے لگی دیکھ بابو، رحم کا مجھے پتا نہیں کیسا ہوتا ہے لیکن اگر تو کہانی ہوچھتا ہے تو بتاتی ہوں لیکن اخبار میں نا چھاپ دینا۔ یہ کہہ کر وہ ہنسنے لگی اور پھر کہنے لگی کہ اگر چھاپ سکو تو چھاپ دینا جو میرے ساتھ ہوا کسی کے ساتھ نا ہو۔

ہمارے پاس بیٹی بیچنے کا رواج ہے۔ بابا کو سات بیٹیاں تھیں سب بیچ ڈالیں۔ اور زمین خرید لی جو اب میرا بھائی سنبھالتا ہے۔ بہرحال اس بات کو چھوڑیں آپ کو میں اپنی کہانی بتاتی ہوں۔

میں جب دس سال کی ہوئی تو بابا نے میرے گاہک تلاش کرنا شروع کیے۔ ہر روز کوئی نا کوئی آتا تھا، اکثر رنڈوے آتے تھے۔ یا ایسے لوگ جن کی طلاقیں ہو گئی ہوں۔ ایجڈ لوگ زیادہ آتے تھے۔ ہمارے ہاں اکثر بچیاں ایجڈ لوگوں کو بیچی جاتی ہیں کیوں کہ وہ زیادہ پیسے دیتے تھے۔

ہمارے گھر کے باہر والے کمرے میں ہر روز امی مجھے تیار کر کہ بھیجتی تھی۔ میں بابا کے ساتھ جاکر بیٹھتی۔ خریدار چچا مجھے اٹھ کر کھڑی ہونے کا کہتے۔ مجھے آگے پیچھے دیکھتے۔ پھر کافی دیر جھگڑا چلتا۔ سودے پر تکرار چلتی۔ میں ان چیزوں سے لاعلم تھی۔ نہیں جانتی تھی کہ کیا ہو رہا ہے۔

بابا گھرجانے کو کہتا کچھ دیر بعد آتا تو سانس پھولی ہوتی۔ بابا امی کو آکر کہتا ایک سالے رنڈوے دوسرا ریٹ کم لگا رہے ہیں۔ میری بچی ہے کوئی بھیڑ بکری نہیں جو اتنے پیسوں میں دے دوں۔

ایک دن وہ دن بھی آگیا جس دن میرے گھر آنے کے بعد بابا مسکراتے ہوئے آئے۔ اور امی کو کہا کہ اپنے مالک ڈنو سے سودہ ہوگیا۔ مجھے بات سمجھ نہ آئی۔ مجھے اس دن سمجھ آیا جس دن بابا مجھے سیٹھ مالک ڈنو کے گھر چھوڑ کر واپس آگئے۔ اس رات میرا بچپن مسل دیا گیا۔ وہ میرے باپ سے بھی بڑا تھا۔ میرے واپسی کے دروازے سارے بند ہوگئے تھے۔

یہ کہہ کر اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔ میں بھی افسردہ ہوگیا۔ پھر وہ کہنے لگی کہ بابو پتا ہے؟

خوشیوں کے دروازے مکتب کی دہلیز کی طرح ہمارے قریب ہوتے ہوئے بھی بہت دور تھے ہر روز اسکول کی گھنٹی بجتی تھی۔ ہر روز اسکول جانے کے خواب دیکھتی تھی۔ میں نے اپنے خواب اس قید خانے کی مٹی پر لکھ کر جھاڑو سے مٹاتی رہی۔ میں اپنی خواہشیں دیگچی پر مٹی مل کر ان پر بنا کر مٹا دیتی تھی۔ بابو! میں نے اپنی امیدوں کو داتری سے زمین کھود کر دفن کردیا تھا۔ امید کرتی بھی تو کس سے؟

میں جب اس گھر میں بیاہ کر آئی تھی، کئی دفعہ دوسری، تیسری روٹے کے بعد آٹے سے گڑیا بنانے لگتی تھی۔ اچانک اس کی بوڑہی ماں کے چلانے کی آواز آتی تھی اور میں ہوش میں آجاتی تھی کہ میں اب بڑی ہوچکی ہوں اور اپنے باپ کے نہیں سہاگ کے گھر میں ہوں۔

سچ پوچھو تو کئی دفعہ میں نے اپنے شوہر میں اپنا باپ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ سوچتی تھی جن ہاتھوں سے شفقت محسوس ہونی چاہیے وہ ہاتھ مجھے نوچتے ہیں،

میں اتنی معصوم تھی کہ سورج غروب ہونے کے بعد ہر رات دعائیں مانگتی تھی کہ کاش آج وہ میرے ساتھ سونا بھول جائے۔ کاش آج اس کے مہمان آجائیں اور وہ باہر چلا جائے۔ میں ہر رات یہ ستم برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ جس رات وہ گھر نا آتا اس رات میں سکون سے سوجاتی۔ اس رات میں خواب دیکھتی۔

میں ہر اس رات ایک خواب دیکھتی تھی۔ ایک پرندہ ہے جو قفس کو اپنی نازک چونچ سے توڑنا چاہتا ہے۔ میں اسے دیکھتی رہتی وہ رات کے آخری پہر میں آزاد ہوجاتا پنجرہ ٹوٹ جاتا اور میں تالیاں بجانے لگتی۔ اچانک میری آنکھ کھل جاتی۔ آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگتے خوف کے مارے آواز تک نا نکلتی۔ پرندہ کہاں آزاد ہوتا ہے؟ وہ تو قید ہے۔ اس سماج کے کھلے پنجرے میں قید ہے۔ اس کے اس سماج نے پر کاٹ دیے ہیں۔ وہ کبھی نہیں اڑ سکتا۔ کبھی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •