ہانگ کانگ کے شعلوں میں جلتی بیویاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد حنیف کے کالم “ہانگ کانگ کے شعلے” اور “ ہانگ کانگ کے نیلے پیلے” ہمارے ویک اینڈ کا مزا دوبالا کر گئے لیکن ہمیں ایک بھولی ہوئی کہانی بھی یاد کرا گئے، ایک مریض کی کہانی!

عورت چاہے کتنی بھی پارسا ہو، مرد کی نادانیاں اور رسوائیاں اس کے دامن میں ضرور چھید کرتی ہیں اور وہ ان چاہے میں بھی برابر کی حصے دار ٹھہرتی ہے۔ زندگی کےسفر میں ساتھ چلنے والے ساتھیوں کا عذاب و ثواب بھی مقدر کی طرح سانجھا بن جایا کرتا ہے۔

” ڈاکٹر میں بہت تکلیف میں ہوں، نہ بیٹھ سکتی ہوں، نہ لیٹ سکتی ہوں۔خدارا! کچھ کیجیے” وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔

میں کلینک پہ تھی! وہ داخل ہوئی، تکلیف کے آثار چہرے سے عیاں تھے۔ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی وہ ہمارے سامنے آ بیٹھی۔ وہ سات مہینے کی حاملہ تھی۔ اپنی ہم وطن ڈاکٹر دیکھ کے اس کے جملے کراہوں میں بدل گئے۔

“کچھ دن پہلے زیر ناف چھوٹی چھوٹی گوشت کی طرح کی پھنسیاں نمودار ہوئیں۔ابتدا میں تین چار تھیں، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے بہت زیادہ ہو گئیں اور خون رسنا شروع ہو گیا۔ اب عالم یہ ہے کہ تکلیف بہت زیادہ ہے، برداشت کرنا محال ہے۔ پیٹ میں بچہ ہے اور اوپر سے یہ ناگہانی!

ہم نے مریض کو تسلی دی اور معائنہ کروانے کو کہا،

” اوہ! میرے خدا، یہ تو وارٹس ہیں “

زیر ناف حصہ پھنسیوں سے بھرا پڑا تھا۔ انفیکشن بھی موجود تھی اور خون بھی رس رہا تھا۔ یہ خاص قسم کے وائرل وارٹس تھے۔ اگلا مرحلہ زیادہ مشکل تھا۔ کہ اب ہمیں جاننا تھا کہ خاتون کو وارٹس بنانے والے وائرس کی منتقلی کہاں سے ہوئی۔ چونکہ یہ وائرس جنسی تعلقات سے پھیلتا ہے سو ایشیائی مشرقی اور مذہبی معاشرے کے لوگوں کے ساتھ یہ موضوع زیر بحث لانا کافی دشوار ہوتا ہے۔

خاتون کافی پریشان تھی لیکن اس طرح کی صورت حال میں کونٹیکٹ ٹریسنگ اور جنسی تعلقات کے بارے میں جاننا تو لازم ہوا کرتا ہے۔ جب ہم نے مرض کی نوعیت پہ روشنی ڈالی تو خاتون کی آنکھیں حیرت، شرمندگی اور خوف کےاحساسات سے پھٹ گئیں۔ ایک طویل خاموشی کے بعد وہ تھوک نگل کے بولی، ڈاکٹر میں حمل سے ہوں، میرے لئے تو اس حالت میں شوہر کا تقاضا ہی محال ہے۔ کجا یہ کہ کوئی اور؟ دوسرے یہ کہ میں ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ شوہر کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتی کہ وہ کاروبار کے سلسلے میں کافی گھر سے باہر رہتے ہیں۔

خاتون کو بتایا گیا کہ ان کے شوہر کا معائنہ بہت ضروری ہے اور ہمارے ایک ساتھی مرد ڈاکٹر اس سلسلے میں مدد کریں گے۔ اور اگر وہ بھی اس مرض کا شکار ہوئے تو دونوں کا علاج اکھٹے شروع ہو گا۔ شوہر تو یہ سن کے ہی بدک گئے اور لگے بیگم کو جھاڑنے جو ڈاکٹر کے کہنے پہ مصر تھیں کہ شوہر بھی اپنا معائنہ کروائیں۔

یہ لمبی کہانی ہے کہ وہ کیسے راضی ہوئے لیکن طبی معائنے کے بعد انکشاف ہوا کہ موصوف بھی وائرس کا شکار تھے۔ چونکہ ان میں مرض کی شدت کم تھی سو ابتک وہ بے فکر ہوئے بیٹھے تھے۔ لیکن ازدواجی تعلقات میں وہ وائرس کا تحفہ بیوی کو دے چکے تھے۔

 بالآخر انہیں اقرار کرتے ہی بنی کہ ان کا کاروبار کے سلسلے میں ہانگ کانگ جانا رنگ لایا تھا اور وہیں کے کسی جنسی تعلق کے نتیجے میں وائرس ان سے ہوتا ہوا ان کی حاملہ بیوی تک پہنچ گیا تھا۔ حمل میں اس طرح کا مرض زیادہ شدت سے حملہ آور ہوتا ہے۔ ہمیں ہانگ کانگ کے شعلے اور نیلے پیلے تو دیکھنے کو نہ ملے، لیکن ہانگ کانگ کے وائرس سے ملنے کا اتفاق ضرور ہو گیا۔

اس نوع کی پیدا ہونے والی لحمیاتی پھنسیاں یا وارٹس ہیومن پیپیلوما وائرس (Human papiloma virus)  کی دین ہیں۔عرف عام میں یہ HPV کہلاتا ہے اورHPV 16  اور HPV18 خاص طور پہ جنسی مقامات پہ پھنسیاں بناتے ہیں۔ ان کا ٹھکانہ مرد و زن کی جنسی رطوبات ہوتی ہیں۔ جسم سے باہر HPV فورا مر جاتا ہےاور دوسرے وائرسز کی طرح یہ فضا میں یا ملبوسات پہ نہیں پل سکتا۔

اس کا پھیلاؤ یا منتقلی براہ راست جنسی تعلقات سے ہوتی ہے یعنی خاتون سےمحترم اور محترم سے خاتون۔ یہ وائرس زیادہ تر جنسی کاروبار میں ملوث افراد میں پایا جاتا ہے اور وہیں سے مختلف لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔ HPV کی منتقلی کسی اور طریقے سے ممکن نہیں۔ لیکن لوگ اپنی تسلی کے لئے بہت سی کہانیاں گھڑ لیتے ہیں۔

ہمیں ایک دفعہ ایک خاتون ملیں، جن کے شوہر اس وائرس کا شکار ہونے کی بعد قسمیں کھا کھا کے انہیں یقین دلانے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ انفیکشن ہوٹل کے تولیوں کے استعمال سے ہوئی ہے۔ کچھ اور کہانیوں میں شوہروں نےغلطی سے دوستوں کے استعمال شدہ زیر جامے کو مورد الزام ٹھہرایا۔

جب اس طرح کی توجیہہ کے بعد کوئی ہماری رائے جاننے کی کوشش کرتا ہے تو “ہم چپ رہے، ہم ہنس دئیے، منظور تھا پردہ ترا” کی تصویر بن جایا کرتے ہیں۔

ان وارٹس کا علاج لیزر یا بجلی کے ذریعے کیا جاتا ہے جہاں ان پھنسیوں کو جلایا جاتا ہے۔ یہ پھنسیاں ایک دفعہ جلانے سے ختم نہیں ہوتیں سو یہ عمل کئی دفعہ دہرانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر پھنسیوں کا علاج زچگی تک نہ ہو سکے تو حاملہ خواتین کا بچہ دوران زچگی اس وائرس کا شکار بن سکتا ہے۔ ایچ پی وی کی شکار خواتین میں کینسر میں مبتلا ہونے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے اور یہ کینسر رحم کے منہ سے شروع ہوتا ہے۔

مغرب میں HPV  کی ویکسین عورتوں کے لئے بہت محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ ہمارے یہاں اس کا استعمال متنازع ہے کہ لوگ ایک سے زیادہ جنسی رشتوں میں ملوث تو ہوتے ہیں لیکن اقرار نہیں کرتے۔

لیجیے، محمد حنیف کا ہانگ کانگ کا تذکرہ ہمیں کیا کچھ یاد دلا گیا۔ ہم کسی کواخلاقیات پہ درس نہیں دینا چاہتے۔ بس اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ چند لمحوں کی تسکین کے لئے اپنی زندگی کی ساتھی کو کسی مشکل میں مبتلا مت کیجیے۔ اعتماد کے جس رشتے میں آپ بندھے ہیں، اسے دوریوں کے زہر سے کچے دھاگے میں مت بدلیے۔

ہانگ کانگ کے شعلے بھی دیکھیے اور نیلے پیلے بھی، لیکن وائرس کا تحفہ گھر مت لائیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •