ہانگ کانگ کے نیلے پیلے

محمد حنیف - صحافی و تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہانگ کانگ یونیورسٹی سے باہر جانے والے راستوں پر طلبا کے ناکے تھے۔ ہانگ کانگ والوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ویک اینڈ پر احتجاج سے بات نہیں بن رہی تو پیر والے دن بھی کام چھوڑ کر نعرہ بازی کرنے لگے۔

جن کا نوکری پر جانا ضروری تھا وہ اپنی لنچ بریک میں نکلے اور مظاہروں میں شریک ہوئے۔ میرے ہاسٹل کے کمرے میں ٹی وی پر ایک پولیس والا ایک طویل پریس کانفرنس کر رہا تھا۔ میں نے فون کر کے میزبانوں سے پوچھا کہ یہ آپ کا پولیس والا کیا کہہ رہا ہے۔

پتا چلا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں آنسو گیس کے جتنے گولے برسائے گئے ہیں ان کا حساب دے رہا ہے۔ یہ ہوتا ہے جمہوریت کا حسن، میں نے سوچا پہلے اپنی عوام پر گولے برساؤ پھر عوام کو ان کا حساب کتاب دو۔

مجھے یونیورسٹی سے باہر نکلنے کا ایک راستہ سمجھایا گیا اور میں پتلی گلیوں اور ہاسٹلوں کے پچھواڑے سے ہوتا ہوا ایک بازار میں پہنچا۔ بازار کچھ کھلا تھا کچھ بند۔ میں نے سٹاربکس کافی کی دکان میں پناہ لی اور ایک کافی خریدی۔

سٹار بکس
ہانگ کانگ میں عوام نے تمام دکانوں اور بینکوں کو پیلے اور نیلے میں تقسیم کیا ہے۔ پیلے عوام کے ساتھ اور نیلے چین کے حامی ہیں۔ ٹاربکس نیلی تھی

میزبان کا ٹیکسٹ میسج آیا کہ کہاں ہو؟

سٹاربکس، میں نے کہا۔

بڑی خطرناک جگہ ہے فوراً نکلو۔

پھر مجھے بتایا گیا کہ ہانگ کانگ میں عوام نے تمام دکانوں، بینکوں اور دھندوں کو پیلے اور نیلے میں تقسیم کیا ہے۔ پیلے عوام کے ساتھ ہیں، نیلے چین اور پولیس کے حمایتی ہیں۔

سٹاربکس نیلی تھی۔

دو گھنٹے بعد مجھے ایک ویڈیو بھیجی گئی جس میں ایک سٹار بکس کے شیشے توڑے گئے تھے۔ مجھے تسلی دی گئی یہ تمھارے والی سٹار بکس نہیں ہے۔

غیر ملکی رپورٹروں کے نام پر ہانگ کانگ کے مرکز میں ایک کلب واقع ہے جہاں رپورٹروں کے علاوہ بھی کافی لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ وہاں جاتے ہوئے رستے میں ایک بینک دکھایا گیا، اس بینک کو مظاہرین نے نیلا سمجھ کر توڑ دیا بعد میں پتا چلا کہ پیلا ہے، اب اس پر غلطی ہوگئی معاف کردیں کے پیغامات لکھے ہوئے تھے۔

بتایا گیا کہ آپ کے خطاب کے لیے ابھی جگہ کی تلاش جاری ہے پہلے یہاں پر کچھ شاعروں، ادیبوں سے گپ شپ لگائی جائے۔

شنگھائی سے آئی ہوئی ایک شاعرہ نے کچھ ایسی باتیں شروع کی کہ چینی جرنلروں نے منگلولیا میں گھوڑوں کے فارم بنا رکھے ہیں اور ان کے بچے گھروں میں ویڈیو لنک کے ذریعے ابا کے گھوڑے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔

میں فوراً رکا اور کہا کہ دیکھیں میں اگر پاکستان کی مسلح فوج کی شان میں گستاخی کروں تو ہو سکتا ہے مجھے معافی مل جائے لیکن ہمالیہ سے اونچی دوستی والے برادر ملک کی فوج کے بارے میں نہ کچھ جانتا ہوں نہ ہی جاننا چاہتا ہوں۔

مجھے یہ بتائیں کہ ان مظاہرین کا لیڈر کون ہے۔ میرا خیال تھا کوئی عمران خان جیسا دبنگ رہنما ہوگا لیکن مایوسی ہوئی کہ تحریک کا کوئی رہنما نہیں ہے۔ موبائل فونوں پر بننے والی ایپس پر چل رہی ہے، نوجوان اور طلبا خود ہی آرگنائز کرتے ہیں، کبھی پولیس حملہ آور ہوتی ہے تو پھر سے لوگ پہلی صف پر آ جاتے ہیں۔

کسی نے مجھے فون کھول کر ہانگ کانگ کا نقشہ دکھایا ہے جس میں کچھ تیر ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ اس ایپ سے پتا چلتا ہے کہ پولیس کا رخ کس طرف ہے۔

ٹی وی پر پھر ایک پولیس آفسر براجمان تھا، پتا چلا گرفتار ہونے والوں کی تفصیلات بتا رہا تھا۔

ان میں دس برس کے بچوں سے لے کر 64 برس کے بزرگ موجود تھے۔ ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ اب کچھ لوگ آّزادی کا نعرہ لگانے لگے ہیں جس سے چین کو اور غصہ آئے گا۔ زیادہ تر لوگ چاہتے ہیں کہ پولیس کا احتساب ہو، ہانگ کانگ کی خصوصی حیثیت برقرار رکھی جائے اور آنے والے مقامی انتخاب شفاف ہوں۔

یہ الیکشن گزشتہ اتوار کو ہوئے جس میں چین مخالف امیدواروں نے بھاری اکثریت حاصل کی۔

میں نے سوچا کاش چین نے اس انتخاب سے پہلے اپنے چھوٹے بھائی کے عسکری اداروں سے مشورہ کر لیا ہوتا تو شاید مرضی کے نتائج حاصل کر سکتا۔

کلب میں پاکستان کے سفیر بھی تشریف لائے، وہ پہلے ای میل کر کے کھانے کی دعوت اور گاڑی آفر کر چکے تھے۔ ہنس مکھ تھے کہنے لگے پچھلے سال تمھارے میزبانوں نے کہا تھا کہ آپ ان کا دورہ سپانسر کر دیں تو میں نے کہا کیا میرا دماغ خراب ہے۔

انھوں نے ہانگ کانگ میں پاکستانی مہاجرین کے حالات بتائے اور سرکاری کھانے اور گاڑی کی دعوت دہرائی۔ میں نے شکریے کے ساتھ معذرت کر لی، یہ نہیں کہا کہ کیا میرا دماغ خراب ہوا ہے۔

میزبان کچھ معذرت خواہ تھے کہ ہم آپ کو ہانگ کانگ دکھانا چاہتے تھے لیکن حالات بہت خراب ہیں۔ میں نے کہا ہانگ کانگ میں دیکھنے کو کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کل تو صرف مظاہرے ہیں۔ میں نے کہا تو وہی دکھا دیں۔ ایک ایپ پر چیک کیا گیا تو پتا چلا کہ دو سو گز پر مظاہرین سب سے بڑی شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔

راستے میں دنیا کے بڑے بڑے فیشن سٹور تھے جو بند پڑے تھے۔ ارمانی کے سٹور میں ایک بڑی سکرین پر ماڈلیں جلوہ گر تھیں، اوپر کسی نے سپرے کر کے لکھا تھا کہ پولیس تنخواہ بھی ہم سے لیتی ہے، مارتی بھی ہمیں ہی ہے۔

سینکڑوں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں فٹ پاتھ سے اینٹیں اکھاڑ کے شاہراہ پر بکھیر رہے تھے۔ کچھ بانس لا کر ان اینٹوں کے اوپر سجا رہے تھے۔

ایک نوجوان نے امریکی جھنڈا اٹھا رکھا تھا اور چینی میں کچھ جئے مہاجر ٹائپ نعرے لگا رہا تھا۔ میرے ساتھ موجود ایک صحافی نے کہا کہ امریکی جھنڈا دیکھ کر چین کو اور غصہ آئے گا۔

کچھ دور پل پر ماسک پہنے ایک نوجوان نے چیخ کر کچھ کہا مظاہرین اپنی اینٹی اور بانس چھوڑ کر پتلی گلیوں کی طرف بھاگے، ایک دم لگا کہ ہوا میں کسی نے مرچوں کی دھونی لگا دی ہے۔

آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ میں نے کہا آنسو گیس ہمارے ہاں تو ایسی نہیں ہوتی۔ جواب دینے کی بجائے مجھے ایک گیس ماسک پکڑا دیا گیا اور کہا گیا آرام سے چلنا ہے بھاگنا نہیں۔ ایک طرف بوٹوں کی دھمک آئی اور ہانگ کانگ کی خصوصی پولیس برآمد ہوئی، چہرے پر ماسک، ہاتھوں میں ڈنڈے اور بچے کچے مظاہرین کی کنگ فو سٹائل دھنائی شروع ہو گئی۔

بھاگو، مجھے حکم ہوا، آپ کو ابھی اپنا خطاب بھی کرنا ہے۔

جاری ہے۔۔۔ اس سلسلے کا پہلا حصہ ہانگ کانگ کے شعلے بھی پڑھیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •