کرتارپور: ایک قدیم مذموم منصوبہ اور شورش کاشمیری کی پیش گوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے کرتارپور راہداری کا افتتاح ہوا ہے، اس حوالے سے پھیلائے جانے والی ”مصدقہ“ افواہوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ پہلے یہ تاثر عام کیا گیا کہ یہ راہداری قادیانیوں کے لیے بنائی جا رہی ہے۔ پھر چند ایک علمائے دین کے بیانات اور پھر شورش کاشمیری کی ”پیش گوئی“ کا سلسلہ شروع ہو گیا، اب چند روز قبل ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک سکھ کرتارپور منصوبے کو ”آشکار“ کر رہا ہے۔ اس سے قبل نوجوت سنگھ سدھو کی قادیانیوں کے ساتھ تصویریں سامنے آنے پر بھی خوب ڈنکے بجائے گئے اور حکومت کو قادیانی نواز ”ثابت“ کر دیا گیا۔

سب سے پہلے شورش کاشمیری کی پیش گوئی کا ذکر: کرتارپور کے حوالے سے شورش کاشمیری کی کتاب ”تحریکِ ختم نبوت“ کے باب ”قادیانی جاسوس“ کے صفحہ نمبر 224 کا بالخصوص حوالہ دیا جا رہا ہے جس میں سکھ قادیانی گٹھ جوڑ اور کرتارپور کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے پہلے شورش صاحب کی تحریر ملاحظہ ہو:

”یورپ کی نظریاتی و استعماری طاقتیں نہ تو اسلام کو بطور طاقت زندہ رکھنے کے حق میں ہیں اور نہ اس کی نشاۃ ثانیہ چاہتی ہیں۔ ہندوستان کی خوشنودی کے لئے پاکستان ان کی بندر بانٹ کے منصوبہ میں ہے۔ وہ اس کو بلقان اور عرب ریاستوں کی طرح چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے سامنے مغربی پاکستان کا بٹوارہ ہے، وہ پختونستان، بلوچستان، سندھودیش اور پنجاب کو الگ الگ ریاستیں بنانا چاہتی ہیں۔ ان کے ذہن میں بعض سیاسی روایتوں کے مطابق کراچی کا مستقبل سنگاپور اور ہانگ کانگ کی طرح ایک خودمختار ریاست کا ہے۔

خدا نخواستہ اس طرح تقسیم ہو گئی تو پنجاب ایک محصور صوبہ ہو جائے گا، جس طرح مشرقی پاکستان کا غصہ مغربی پاکستان میں صرف پنجاب کے خلاف تھا، اسی طرح پختونستان، بلوچستان اور سندھو دیش کو بھی پنجاب سے ناراضی ہو گی، پنجاب تنہا رہ جائے گا تو عالمی طاقتیں سکھوں کو بھڑکا کر مطالبہ کرا دیں گی کہ مغربی پنجاب ان کے گوروؤں کا مولد، مسکن اور مرگھٹ ہے لہٰذا اُن کا اس علاقہ پر وہی حق ہے جو یہودیوں کا فلسطین (اسرائیل) پر تھا، اور انہیں وطن مل گیا۔

عالمی طاقتوں کے اشارے پر سکھ حملہ آور ہوں گے، اس کا نام شاید پولیس ایکشن ہو۔ جانبین میں لڑائی ہوگی لیکن عالمی طاقتیں پلان کے مطابق مداخلت کرکے اس طرح لڑائی بند کرا دیں گی کہ پاکستانی پنجاب، بھارتی پنجاب سے پیوست ہوکر سکھ احمدی ریاست بن جائے گا جس کا نقشہ اس طرح ہو گا کہ صوبہ کا صدر سکھ ہوگا تو وزیراعلیٰ قادیانی۔ اگر وزیراعلیٰ سکھ ہوگا تو صدر قادیانی! اسی غرض سے استعماری طاقتیں قادیانی امت کی کھلم کھلا سر پرستی کر رہی ہیں۔

بعض مستند خبروں کے مطابق سر ظفراللہ خاں لندن میں بھارتی نمائندوں سے پُخت و پُز کر چکے ہیں۔ قادیانی اس طرح اپنے نبی کا مدینہ (قادیان) حاصل کر پائیں گے جو ان کا شروع دن سے مطمح نظر ہے اور سکھ اپنے بانی گورو نانک کے مولد میں آ جائیں گے، یہی دونوں کے اشتراک کا باعث ہوگا۔ قادیانی عالمی استعمار سے اپنی ریاست کا وعدہ لے چکے ہیں اور اس کے عوض عالمی استعمار کے گماشتہ کی حیثیت سے اسرائیل کی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے وہ مسلمانوں کی صف میں رہ کر عرب ریاستوں کی بیخ کنی اور مخبری کے لئے افریقہ کی بعض ریاستوں میں مشن رچا کے بیٹھے ہیں اور حیفا (اسرائیل) میں حکومت یہود کے مشیر برائے اسلامی ممالک ہیں۔

وہ پاکستان میں حکمران جماعت کے ہاتھوں سرحد و بلوچستان کی نمائندہ جماعت کو پٹوا کر پنجاب و سندھ میں اسلامی ذہن کے قتلِ عمد سے موعودہ استعماری صوبہ کی آبیاری کر رہے ہیں۔ اور اس وقت طاقتوں کی معرفت اسرائیل اور ہندوستان کے آلہ کار ہیں اور یہ ہے ان کا سیاسی چہرہ جس سے ان کا داخلی وجود ظاہر ہوتا ہے“۔

اس ساری پیش گوئی کا آغاز ہوتا ہے (خاکم بدہن) پاکستان کے بٹوارے سے۔ یعنی پاکستان کی جگہ پانچ آزاد ریاستوں کراچی، سندھو دیش، پختونستان، بلوچستان اور پنجاب کے تشکیل پا جانے کے بعد سے۔ چونکہ باقی چار آزاد ریاستوں کا غصہ پنجاب پر ہے، اس لیے سکھ عالمی طاقتوں کے اشارے پر پنجاب پر حملہ آور ہوں گے اور پنجاب ہتھیا کر ایک سکھ قادیانی ریاست بنا دیں گے۔ کیا اس میں سے دس فیصد پر بھی عمل ہوا؟ شورش صاحب نے صرف اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا اور اس میں کوئی مبالغہ ہرگز نہ تھا، بلوچستان کی پختون بیلٹ اور صوبہ سرحد کا افغانستان سے الحاق تو ایک عرصے تک ہمارا مسئلہ رہا۔ کے پی کے ہمارے بعض سیاستدان آج بھی یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ افغان بارڈر تو صرف ایک لکیر ہے، ہم آج بھی خود کو افغانستان کا حصہ سمجھتے ہیں۔

جب سرحد کا نام ”خیبر پختونخوا“ رکھا گیا تو اس وقت بھی یہ بازگشت سنائی دی کہ یہ صوبہ سرحد کو ”پختونستان“ بنانے کی عالمی سازش کا حصہ ہے۔ اگر یہ سب کچھ عالمی سازش کا حصہ ہے تو پختونستان کی بنیاد تو پیپلز پارٹی نے (صوبے کا نام تبدیل کر کے ) رکھی اور اس کے ہاتھ مسلم لیگ نواز نے مضبوط کیے (اٹھارہویں ترمیم منظور کروا کر)۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ محض سازشی تھیوریاں ہیں۔ جب کچھ جانب سے مذکورہ بالا تحریر کا منطقی جواب دیا جانے لگا تو ایک ”خفیہ وڈیو“ منظر عام پر آئی۔

یہ وڈیو چند سکھوں کی ہے جو کرتارپور کے حوالے سے گفتگو کر رہے ہیں۔ خفیہ انداز میں بنائے جانے والی اس وڈیو میں ایک سکھ بتا رہا ہے کہ ”کرتارپور بارڈر تین دن سکھوں کے لیے وقف ہے اور تین دن قادیانیوں کے لیے“۔ اب اس وڈیو میں نہ تو اس سکھ شخص کا کوئی تعارف ہے کہ یہ کون ہے اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ وہ کس بنیاد پر یہ بات کر رہا ہے۔ یہ سب محض اس کا گمان تھا کیونکہ جس کسی نے بھی کرتارپور کا دورہ کیا ہے، اسے حالات کا بخوبی اندازہ ہوگا کہ کرتارپور سے قادیانیوں کو (اگر وہ یہ راستہ استعمال کرنا چاہیں تو بھی) ذرہ برابر کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ کرتارپور ”ون وے گیٹ وے“ ہے اور یہ جو قیاس ہے کہ یہاں سے قادیانیوں کو قادیان کا راستہ فراہم کیا جا رہا ہے، سوائے سوئے ظن کے کچھ نہیں کیونکہ کوئی بھی پاکستانی یہاں سے بھارتی حدود میں داخل نہیں ہو سکتا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2