غم روزگار اور خدا کا وعدہ

کورونا کے وبائی دور میں ہر کوئی اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہے، ہر کسی کو یہی فکر لاحق ہے کہ آگے کھائیں گے کہاں سے، پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک تو ایک طرف ترقی یافتہ ممالک بھی اسی پریشانی میں مبتلا ہیں۔

کل تک کچھ رجائیت پسند یہ امید دلا رہے تھے کہ کھانے پینے کی فکر سکینڈے نیویا اور سنگاپور جیسے ممالک کو کرنی چاہیے پاک سر زمین میں گندم سے چاول تک اور دالوں سے مسالا جات تک ہر چیز پیدا ہوتی ہے، اگر کل کو عالمی تجارت نہ بھی شروع ہوئی تو کم از کم ہم بھوکے نہیں مرتے مگر پھر ٹڈی دل کے پے درپے حملوں کے باعث فصلوں کی پیداوار امید سے بہت کم ہونے کا مژدہ بھی سنا دیا گیا، اب اگرچہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے نام پر کاروبار کی بھرپور اجازت دیدی گئی ہے مگر پھر بھی ہر کوئی معاش کی فکر میں مبتلا ہے۔

Read more

اسٹاک ایکسچینج کے ”4 مسنگ پرسنز“ اور اصل مسئلہ

”حامد میر کے چار مسنگ پرسنز اسٹاک ایکسچینج سے برآمد“ یہ وہ طنز ہے جو بی ایل اے کے اسٹاک ایکسچینج حملے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سندھ کے انچارج راجہ عمر خطاب نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے کی مماثلت کسی حد تک 2018 ء میں چینی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے سے ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے میں ملوث تینوں دہشت گرد بلوچستان کے مسنگ پرسنز کی لسٹ میں شامل تھے۔ یہ بات قومی میڈیا پر دفاعی امور کے تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) امجد شعیب نے بھی کی تھی جبکہ اس کی تصدیق کراچی میں ”ڈی ڈبلیو“ کے نمائندے نے بھی کی تھی۔

Read more

رویت ہلال اور مفتی منیب الرحمٰن پر اعتراضات کا جواب

ویسے تو اس بار چاند کے معاملہ پر مفتی منیب بمقابلہ فواد چودھری کا ”ٹرینڈ“ زیر گردش رہا مگر معاملہ فواد چودھری تک محدود نہیں ہے۔ مفتی منیب الرحمٰن کا نجانے اس معاملے پر کس کس سے مقابلہ ہوتا ہے۔ کبھی یہ ٹرینڈ مفتی منیب بمقابلہ مفتی پوپلزئی ہو جاتا ہے، کبھی مفتی منیب بمقابلہ سلیم صافی، کبھی مفتی منیب بمقابلہ سوشل میڈیا، کبھی مفتی منیب بمقابلہ سائنس اور جانے کیا کیا۔

اگر بات مفتی منیب الرحمٰن سے شروع کی جائے تو مفتی منیب الرحمٰن کی ذات نہ صرف مسلکی، علاقائی و گروہی عصبیتوں سے پاک نظر آتی ہے بلکہ بارہا ایسے مواقع آئے جب تمام مسالک کی قیادت نے مفتی منیب الرحمٰن پر نہ صرف مکمل اعتماد کا اظہار کیا بلکہ ان کی تقرری بطور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کو بھی جاری رکھنے پر اصرار کیا۔ اگر کوئی محض تعصب کا شکار ہو کر مفتی صاحب کی ذات پر کیچڑ اچھالے تو یہ اس کی تربیت کا شاخسانہ ہو سکتا ہے، اس سے آگے کچھ نہیں۔ اگر دین و شریعت اور رویت ہلال سے متعلق چند بنیادی اصولوں کا سرسری سے بھی مطالعہ کر لیا جائے تو علم ہو جاتا ہے کہ اس ساری لڑائی میں کون درست ہے اور کون غلط، کون شرعی اصولوں کی پاسداری کو مقدم رکھ رہا ہے اور کون اپنی خواہش نفس اور انا کی تسکین کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔

Read more

کورونا وائرس، سازشی تھیوریاں اور ہمارے ایمان پر حملہ

جب سے کورونا وائرس دنیا پر حملہ آور ہوا ہے، اس سے متعلقہ سازشی تھیوریاں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہا گیا کہ یہ وائرس ووہان شہر میں انسٹیٹیوٹ آف وائرالوجی میں تیار کیا گیا ہے۔ جیسے جیسے اس حوالے سے مزید حقائق سامنے آتے جا رہے ہیں ویسے ویسے اس مفروضے کی نفی ہوتی جا رہی ہے۔ فرانس میں پائے جانے والے وائرس کے بارے میں یہاں تک تسلیم کر لیا گیا ہے کہ فرانس میں موجود کورونا وائرس باہر کہیں سے نہیں آیا، یہ مقامی طور پر پیدا ہوا بلکہ اب تو یہ بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید کورونا کی ابتدا فرانس میں ہی ہوئی ہو۔

Read more

موت سے نہیں، کورونا کی موت سے ڈر لگتا ہے!

ہر پل، ہر ثانیے نیوز چینلز پر کورونا کی خبریں سن کر اور اس کی کوریج دیکھ کر بے شمار لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ کورونا وائرس کو اتنا بڑھا چڑھا کر کیوں پیش کیا جا رہا ہے، کیا دنیا میں اس کے علاوہ کوئی ضروری خبر باقی نہیں رہی کہ دنیا بھر کا میڈیا محض کورونا وائرس کو ہی اپنا فوکس بنائے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ بھی اعتراض ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں، کروڑوں

Read more

مولانا طارق جمیل نے کیا غلط کہا؟

کوئی آٹھ نو ماہ یا شاید کچھ زیادہ پرانی بات ہے، مولانا طارق جمیل نے حضرت یوسفؑ کے حوالے سے ایک بیان میں فرما دیا کہ ’جیل بھیجنے سے قبل ان کا منہ کالا کیا گیا، انہیں گدھے پر بٹھا کر شہر میں پھرایا گیا‘ ، (نقل کفر کفر نباشد) اس پر ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں تھا، ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے بھی ایک بار قرآن کی تفسیر بیان کرتے ہوئے جب اس آیت

Read more

الخدمت کی خدمت اور سیاسی المیہ

نوول کورونا کووڈ 19 کی عالمی وبا 210 ملکوں، ریاستوں اور علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لینے، اکیس لاکھ لوگوں کو اپنا اسیر بنانے کے بعد سوا لاکھ قیمتی زندگیوں کے خون سے اشنان کر چکی ہے مگر اس کی ہوسِ خون ہے کہ مٹنے تو دور، تھمنے میں بھی نہیں آ رہی۔ کوئی دن نہیں گزرتا کہ جب بری سے بری خبر سننے کو نہ ملے۔ کئی ممالک نے تنگ آ کر اب لاک ڈاؤن کی کیفیت کو گھٹانا

Read more

وبائی امراض، کورونا اور تعلیماتِ شریعت

کورونا وائرس کی عالمی وبا نے جہاں معاشی پہیہ جام کر رکھا ہے، وہیں اس سے روزمرہ کی زندگی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ اکثر ملکوں میں لاک ڈاؤن کی کیفیت ہے، سعودی عرب، بھارت، عراق سمیت دنیا کے کئی ممالک اور شہروں میں کرفیو نافذ ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں گھر پہ رہنے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور تاحال علم نہیں کہ یہ صورتحال کب تک برقرار رہے گی۔ اگرچہ ہمارے ہاں کورونا کے حوالے سے بہت

Read more

حکومت کرنے کا طریقہ دو خلفا کی زبانی

تحریک انصاف کی حکومت ڈیڑھ سال میں بھی اپنی سَمت واضح نہیں کر سکی ہے۔ کہنے کو تو وزیراعظم عمران خان ریاستِ مدینہ کی گردان سے اپنے موقف کا بار بار اعادہ کرتے ہیں مگر شاید وہ سیرت کی کتب میں فتح مکہ کا باب پڑھنا بھول گئے ہیں۔ حاکم کبھی بغض و عناد کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا اور جہاں انصاف نہ ہو وہاں صرف ویرانی ہوتی ہے۔ اگر عمران خان اروند کیجریوال کی حلف برداری کے بعد

Read more

شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

فیس بک نے اکاؤنٹ بلاک کیا تو ٹویٹر کا خیال آیا، اگرچہ چند سال سے ٹویٹر اکاؤنٹ ایکٹیو ہے لیکن سماجی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اب فیس بک اکاؤنٹ بلاک ہوا تو ساری توجہ اسی پر مرکوز ہو گئی لیکن چند ہی ہفتوں میں میری بس ہو گئی۔ خیال تھا کہ ٹویٹر فیس بک کی نسبت قدرے میچور ہے لیکن گزشتہ ایک ہفتے ٹویٹر کے ٹاپ ٹرینڈز دیکھ کر تسلی ہو گئی یا پنجابی مقولے کے مطابق ٹھنڈ

Read more

کرتارپور: ایک قدیم مذموم منصوبہ اور شورش کاشمیری کی پیش گوئی

جب سے کرتارپور راہداری کا افتتاح ہوا ہے، اس حوالے سے پھیلائے جانے والی ”مصدقہ“ افواہوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ پہلے یہ تاثر عام کیا گیا کہ یہ راہداری قادیانیوں کے لیے بنائی جا رہی ہے۔ پھر چند ایک علمائے دین کے بیانات اور پھر شورش کاشمیری کی ”پیش گوئی“ کا سلسلہ شروع ہو گیا، اب چند روز قبل ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک سکھ کرتارپور منصوبے کو ”آشکار“ کر رہا ہے۔ اس سے قبل

Read more

سلسلۂ خواب: قائد اعظم سے مولانا فضل الرحمٰن تک

مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا پلان بی کی جانب مڑ گیا ہے مگر پلان اے کی آلائشیں اب تک سمیٹے نہیں سمٹ رہیں۔ یہ غالباً نہ صرف ملکی تاریخ بلکہ دنیائے عالم کا پہلا دھرنا تھا جس میں دھرنے سے اٹھ کر جانے والوں کو ”گناہِ کبیرہ“ کا مرتکب ٹھہرایا گیا۔ دھرنا ختم کرنے کے اعلان سے ایک روز قبل جب قائد جمعیت کی تقریر سے کارکنوں میں مایوسی و بددلی پھیلی اور وہ اُٹھ کر جانے لگے تو اسٹیج

Read more