غم روزگار اور خدا کا وعدہ
کورونا کے وبائی دور میں ہر کوئی اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہے، ہر کسی کو یہی فکر لاحق ہے کہ آگے کھائیں گے کہاں سے، پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک تو ایک طرف ترقی یافتہ ممالک بھی اسی پریشانی میں مبتلا ہیں۔
کل تک کچھ رجائیت پسند یہ امید دلا رہے تھے کہ کھانے پینے کی فکر سکینڈے نیویا اور سنگاپور جیسے ممالک کو کرنی چاہیے پاک سر زمین میں گندم سے چاول تک اور دالوں سے مسالا جات تک ہر چیز پیدا ہوتی ہے، اگر کل کو عالمی تجارت نہ بھی شروع ہوئی تو کم از کم ہم بھوکے نہیں مرتے مگر پھر ٹڈی دل کے پے درپے حملوں کے باعث فصلوں کی پیداوار امید سے بہت کم ہونے کا مژدہ بھی سنا دیا گیا، اب اگرچہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے نام پر کاروبار کی بھرپور اجازت دیدی گئی ہے مگر پھر بھی ہر کوئی معاش کی فکر میں مبتلا ہے۔
Read more
