انصاف کہاں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاقانونیت بہت بڑھ گئی ہے یا پھر ہم سب مادر پدر آزاد ہوگئے ہیں جو چائیں جب چاہیں کرتے رہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، عزتیں لٹنا، عزتیں لوٹنا اتنا عام ہوگیا ہے کہ ایک خبرکے بعد دوسری خبر بھی ہمین چونکاتی نہیں۔ بے حسی سی بے حسی ہے ایک دوسرے پر الزام دھر کر خاموش ہیں۔ مردہ عورت کو قبر سے نکال کر بے عزت کیا جاتا ہے سب خاموش ہیں۔ دار الامان یعنی جہاں امان ملے گی وہاں بے کس، بے سہارا یتیم بچیاں محفوظ نہیں، دستاویزی ثبوت ہیں لیکن انصاف نہیں، کچھ دن پہلے دادو کے نواح میں معصوم بچی کو پتھروں سے مار دیا گیا، کاری کا الزام لگا۔

سب کچھ سامنے کی بات ہے آستین پکار پکار کر جرم کی نشاندہی کررہی ہے لیکن کہتے ہیں شواہد نہیں، اب سن رہے ہیں قبر کشائی کرکے تحقیق کی جائے گی۔ کیا ایسا قانون نہیں بناسکتے کہ بچیاں محفوظ زندگی گزار سکیں ان پر جھوٹے الزامات لگا کر پیوند خاک نہ کیا جائے اور نہ ہی قبر کشائی کے بعد تفتیش سے گزارا جائے۔ اب تک کتنی بچیوں کو انصاف مل سکا ہے کتنی قبروں کے سچ مجرموں کو سزا دلوا سکیں ہیں۔ سب کچھ سامنے کی بات ہوتی ہے لیکن کہتے ہیں شواہد نہیں، مجرم پکڑے جاتے ہیں اور چھوڑ دیے جاتے ہیں کیا اب فرشتے آکر گواہی دیں گے جب انصاف ملے گا۔ آدمی کے جرم کی گواہی آدمی دے گا لیکن حقائق کو ایسے توڑا مڑوڑا جاتا ہے کہ مظلوم پھٹی پھٹی آنکھوں سے انصاف کے ترازو کے پلڑوں کو جھکتا دیکھتا رہتا ہے۔

سماج سارا سو گیا ہے بے حسی کو اوڑھ کر

سپردِ خاک ہوگیا ہے بے حسی کو اوڑھ کر

نقیب اللہ کا قاتل دندناتا پھر رہا ہے اور مظلوم باپ اپنے بیٹے کے ماورائے عدالت قتل کا انصاف مانگتے مانگتے خود اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا، جہاں ہم سب کو جانا ہے چاہے ظالم ہو یا مظلوم یہ ہے انصاف۔ سانحہ ساہیوال میں بھی تمام شواہد ہونے کے باوجود سب ملزمان بری کردیے گئے اور معصوم یتیم بچے پھٹی پھٹی آنکھوں سے انصاف کا جنازہ نکلتے دیکھتے رہے یہ ہے انصاف کیا گارنٹی ہے یہ بچے بڑے ہو کر کارآمد شہری بنیں گے یا پھر قاتل غنڈے۔

کراچی میں راہ چلتے لڑکی کو اغواہ کرلیا گیا اگر یہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ بھی ہو تب بھی معاشرہ پر کیا اثرات پڑیں گے، ایک خوف ودہشت کی فضا جنم لے رہی ہے، بچیاں باہر نکلنے سے گھبرا رہی ہیں۔ کتنی ہی بچیوں سے زیادتی کے مجرم پکڑے گئے اب تو بچے بھی محفوظ نہیں اس بے غیرت زمانے میں، بے شمار اپنوں کی زیادتی کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور قانون وہی شواہد، گواہیاں ڈھونڈنے میں لگے ہیں کسی مجرم کو عبرت کا نشان نہیں بنایا گیا، کسی با اثر کو سزا نہیں دی گئی۔

اس سب کا ایک ہی علاج ہے کسی طرح بھی مجرم کو پکڑ کر عبرت ناک سزا، جب تک فوری سزائیں نہیں دی جائیں گی جرائم کم نہیں ہوں گے اتنی سخت سزائیں کے لوگ جرم کرتے ہوئے سو بار سوچیں۔ انصاف حاصل کرنے کے لیے آسان قوانین بنائے جائیں اور عام آدمی کی سنی جائے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری کارروائی کریں اور عدالتیں ان کیسز میں جلد از جلد فیصلے سنائیں تاکہ جرائم کرنے والوں کی ہمت پست ہو۔ یاد رکھیں اگر اسی طرح جرائم بڑھتے رہے اور مجرموں کی پردہ پوشی ہوتی رہی تو معاشرے میں لاقانونیت پھیل جائے گی ہر شخص اپنا انصاف خود حاصل کرنے کی کوشش کرے گا اس لیے قانون اور عدل کی حکمرانی قائم کیجئے ورنہ آج ہی کی خبر ہے سیالکوٹ میں خاتون نے بیٹے کے قتل کا ملزم سات سال بعد مار ڈالا۔ انصاف کیجئے جس طرح وی آئی پی مجرموں کے لیے چھٹی کے دن بھی عدالتیں لگائی گئیں اسی طرح معصوم مظلوم عوام کو انصاف دینے کے لیے پھرتی اور تیزی دکھائیں اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •