پاکستانی دار لامان یا جنسی ٹارچر سیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاد رکھیں جو جتنا آگاہ ہے وہ اتنا ہی ذمہ دار ہے۔ ہم سب نے مل کر بہت سی حقیقتوں سے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ اس ملک میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس ملک میں کچھ عناصر کی طرف سے مسلسل ظلم کی انتہا کی جا رہی ہے۔ زور ہمارے ماووں اور بہنوں کی عزتیں تار تار کی جا رہی ہیں۔ مگر ہم نے اجتماعی طور پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ہم اس ملک میں جاری اس ظلم عظیم پر ٹس سے مس نہیں کرتے۔

دراصل ہمارے دلوں کی بیماریاں خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔ ہم پر ڈر، خوف، لالچ، طمع، خوشامد اور ذاتی مفادات کے آسیب کا سایہ پڑ چکا ہے۔ ہم بصارت رکھنے کے باوجود اندھے پن کا شکار ہیں۔ ہمارے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے ان بھیانک جرائم پر اپنی آنکھیں کبوتر کی طرح بند کی ہیں۔ اتنی غیرت تو جانوروں میں بھی ہوتی ہے۔ وہ بھی اپنے قبیلے کو دوسرے جانوروں کے ظلم کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔

ہم اپنی خواہشات نفس کے اتنے اسیر ہوچکے ہیں کہ یہ بڑے بڑے بھیانک واقیات بھی ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ اتنے خوفناک مظالم بھی ہمیں جگانے کے لئے ناکافی ہیں۔ شاید ہمارے جسم تو زندہ ہیں مگر ہمارے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں۔ ہم انسانیت جیسے عظیم جذبے کو کہیں کھو چکے ہیں۔ ہم اپنی پر اسرار خاموشی سے اس ملک میں جاری درندگی کا ساتھ دے رہے ہیں۔

جس دھرتی پر ہم فخر کرتے نہیں تھکتے۔ جس دیس کو ہم جان سے پیارا سمجھتے ہیں۔ جس وطن کی خاطر ہم جان تک نچاور کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ جس دیس کے سیکیورٹی اداروں کو ہم ہمیشہ زندہ و تابندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس ملک کے حکمرانوں اور اداروں سے ہر وقت یہ امید وابستہ ہوتی ہے کہ وہ ہماری جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت ضرور کریں گے۔ آج ہم انہی حکمرانوں اور اداروں کے ہاتھوں یرغمال ہوچکے ہیں۔

ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہمارے ملک کی خواتین اور بچیاں دار امان میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ وہاں بھی انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ سرکار کی نگرانی میں بھی اس قسم کی درندگی ہوا کرے گی۔ جب کسی انسان پر زندگی تنگ کر دی جاتی ہے۔ جب کسی انسان کو باہر کی دنیا میں جنسی زیادتی یا موت کا خطرہ ہو تو وہ اپنی جان اور عزت کی امان کے لئے دارالامان میں پناہ لیتا ہے۔ وہ انسان دارالامان میں اپنی جان اور عزت و آبرو کو محفوظ تصور کرتا ہے۔

مگر یہ ہمارے ملک کے حکمرانوں، سیکیورٹی اداروں اور قانون و انصاف کے رکھوالوں کے لئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ آج وہاں پر ہمارے خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آج دارالامان میں ہماری خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ اب پانی سر سے اوپر ہو چکا ہے۔ ہم کس سے انصاف کا تقاضا کرے۔ ہم کس پر اعتماد کرے۔ ہم کس کے آگے اپنا دکھ اور درد بیاں کرے۔ ہم کس کو اپنا محافظ سمجھیں۔

اس گھناؤنے کھیل میں وہ لوگ ملوث ہوسکتے ہیں جن کے ہاتھ بہت لمبے تصور کیے جاتے ہیں۔ وہ ایسے لوگ ہیں جو عدالتوں کے اندر بھی جرائم کی فتح کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عوام کو کیرڑے مکوڑوں سے بھی بدتر سمجھتے ہیں۔ اس ملک میں قانون اور انصاف کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے۔ ہماری عدالتیں صرف مجرموں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کو با عزت بری کرنے میں مگن ہیں۔ ہماری پولیس اور دیگر اداروں کے لوگ با اثر افراد کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ سرکاری ادارے مظلوموں کی داد رسی کرنے کی بجائے مجرموں کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔

دراصل اس جرم میں ہم سب برابر کے شریک ہیں۔ ہمارے ملک کے نوجوان زندہ لاشوں سے کچھ کم نہیں ہیں۔ وہ اپنے اجسام کے تابوتوں میں بند پڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے مدرسے، مساجد، سکول، کالجرز، یونیورسیٹیاں، گلی، کوچے اور بازار تو غیر محفوظ تھے ہی مگر آج دارالامان بھی غیر محفوظ ہوچکے ہیں۔

اس ملک کے نوجوانوں نے آج تک اس ملک کو ظلم و زیادتی سے آزاد کرانے کی کوئی منظم تحریک شروع نہیں کی۔ جب تک ایسے جرائم میں ملوث با اثر افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کسی منظم تحریک کا آغاز نہیں کیا جاتا یہ سفاکیت اور حیوانیت جاری رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •