طلبہ یونین کی بحالی کے لئے تحریک
پاکستان میں طلبہ یونین کی بحالی کے لئے حالیہ دنوں میں ایک تحریک اٹھی ہے جس میں بائیں بازو نظریات کے حامل تنظیموں نے حصہ لیا۔ اس سے پہلے بھی یونین کی بحالی کے لئے مختصر اور طویل تحریکیں چلائی گئی ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کا بھی اول دن سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ یونین بحالی ہوں۔ آج کی نشست میں اسلامی جمعیت طلبہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ناظم شکیل احمد کے ساتھ جامعہ پشاور اکیڈمک بلاک میں ہوئی۔
سوال :طلبہ یونین کی باضابطہ بحالی کے لئے طلبہ نکلے تھے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کا اس حوالے سے کیا موقف ہے؟
شکیل احمد: طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کا انعقاد اسلامی جمعیت طلبہ کا روز اول سے مطالبہ رہا ہے۔ جب 1984 میں یونین پر پابندی لگی تو اس کاز کے لئے جدوجہد کرنے والی اور طلبہ کو مجتمع کرکے تحریک چلانے والی صرف اسلامی جمیعت طلبہ ہی تھی۔ اور پھر سپریم کورٹ میں میں رٹ دائر کرانے والی اس کی پیروی اور فیصلہ کرانے والی اسلامی جمیعت طلبہ ہی تھی۔ اور اس کے بعد آج تک ان پنتیس سالوں میں ہر سال اسلامی جمیعت طلبہ نے کسی نہ کسی دائرے میں یونین کے لئے، طلبہ کے مسائل کے لئے آواز اٹھائی اور بڑے و مختصر پیمانے پر تحریک چلائی ہے۔
حالیہ دنوں میں نئے سرے سے ایک تحریک اٹھی ہے جس کو میڈیا نے ہائی لائیٹ کیا ہے۔ طلبہ یونین بحالی کے حوالے سے کوئی تنظیم، سیاسی جماعت یا مکتبہ فکر بات کریں، اسلامی جمعیت طلبہ اس کا خیر مقدم کرتی ہے اور اس کے لئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کرتی ہے کیونکہ طلبہ یونین کی بحالی اسلامی جمعیت طلبہ کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ ایک بار یونین بحال ہوجائیں پھر ہر طلبہ تنظیم طلبہ کے سامنے اپنی نظریات، اپنے افکار، خیالات وخدمات پیش کرے گی اور پھر یہ طلبہ پر منخصر ہے کہ وہ اپنی قیادت کے لئے کس کو چنتے ہیں۔ یونین بحالی کے نعرے پر اسلامی جمعیت طلبہ دوسرے تنظیموں کے ساتھ متفق ہے اور حال ہی میں جنہوں نے طلبہ یونین کی بحالی کے مسئلہ کو اٹھایا ہے وہ قابل تعریف ہے لیکن مارچ کے دوران یونین بحالی کی آڑ میں کچھ دیگر چیزیں ہوئیں وہ قابل مذمت ہے۔
سوال:طلبہ یونین و سیاست تعلیمی اداروں میں بعض اوقات تشددکے فروغ کا بھی باعث بنتی ہے، اس تشددکی روک تھام کے لئے جمعیت کے پاس لائحہ عمل ہے؟
شکیل احمد: یہ دلیل بہت مضبوطی کے ساتھ دی جارہی ہے کہ طلبہ تنظیمیں یا طلبہ یونین تعلیمی اداروں میں تشدد کے کلچر کو پروان چڑھاتی ہے۔ میری اس سلسلے میں یہ دلیل ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں ہماری سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندے جھگڑے کرتے ہیں۔
معاشرے میں جھگڑے ہوتے ہیں لیکن اس دلیل کی بنیاد پر نہ سیاسی جماعتیں بین ہوئیں اورنہ الیکشن پر پابندی عائد ہوئی۔ تشدد سے انکار بھی نہیں کیونکہ یونین دور میں کسی نہ کسی دائرے میں یہ غلطیاں ہوتی تھی۔ یہ تو مقتدر طبقات، ایڈمنسٹریشن کا کام ہوتا ہے کہ وہ ان کا تدراک کیسے کرتے ہیں۔ لیکن اگر اعداد و شمار نکال کر دیکھا جائے تو یونین دور کی نسبت لڑائی جھگڑوں، فساد میں یونین پر پابندی کے بعد کے دور میں اضافہ ہوا ہے۔ طلبہ کے جائز پلیٹ فارم پر پابندی کے نتیجے میں تشدد میں اضافہ ہوا لہذا یہ ایک کمزور دلیل ہے کہ طلبہ یونین تعلیمی اداروں میں تشدد کو فروغ دیتی ہے۔
سوال:حالیہ تحریک کے باوجود مستقبل قریب میں اگر طلبہ یونین بحال نہ ہوں تو اسلامی جمعیت طلبہ یونین انتخابات کے لئے کورٹ جانے کا ارادہ رکھتی ہے؟
شکیل احمد: اسلامی جمعیت طلبہ کے پٹیشن پر چیف جسٹس افضل ظل اللہ کا فیصلہ محفوظ ہے اور فیصلہ کے الفاظ یہ ہے کہ ایک جمہوری ملک کے اندر، آئین کی موجودگی میں طلبہ یونین پر پابندی نامناسب اقدام ہے۔ اس لئے یہ حکومتوں کا فرض ہے کہ یونین کے انتخابات منعقد کرائیں لیکن بدقسمتی سے حکومتیں اس میں سنجیدہ نہیں۔ حکومت یونین کے حق میں بیانات دے رہی ہے لیکن۔ باضابطہ بحالی میں سنجیدہ نہیں۔ لیکن یونین کے انتخابات طلبہ کے حالیہ تحریک کے باوجود منعقد نہیں ہوتے تو اسلامی جمعیت طلبہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
1984 سے لے کر آج تک اسلامی جمعیت طلبہ پہلے کی نسبت زیادہ مضبوطی سے، زیادہ قوت سے اور زیادہ اچھے اور بہتر مارڈرن انداز میں طلبہ کی، تعلیم کی خدمت کر رہی ہے۔ اور اچھے انداز میں ہر کالج اور یونیورسٹی کے اندر موجود ہے لیکن یونین بحالی کے لئے اسلامی جمعیت طلبہ کی ہدوجہد میں کوئی فرق نہیں آئے گا، یونین طلبہ کا ایک جمہوری حق ہے اور اسلامی کی جدوجہد اس بارے میں جاری رہیگی۔


