اماں کہاں ہیں آپ؟
ثناء نے گھر داخل ہوتے ہی ماں کو ڈھونڈنا شروع کر دیا۔
بیٹا میں کچن میں ہوں، سب خیریت تو ہے نا؟ ماں نے مسکرا کے جواب دیا۔
اماں پتہ ہے آج ہماری طلبہ تنظیم نے خواتین کی آزادی اور حقوق کے لیے ریلی کا انعقاد کیا تھا۔ جس میں ایشیا سرخ ہے کے نام سے انقلاب کی بنیاد رکھی گئی۔ اماں یہ انقلاب عورت کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دے گا۔ اب کوئی نہیں کہے گا کے عورت مرد سے کسی درجے کم ہے۔ ثناء سانس لیے بنا بولی چلی جا رہی کہ ماں نے ایک دم اسے روک دیا۔
بیٹا یہ سب چیزیں ایک دن ایک ہفتے ایک مہینے میں نہیں ہو جاتی ضرور اس کے پیچھے کوئی طاقت ہوگی جو طلبہ کو استعمال کر کے اپنے عزائم پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔
اوہو اماں آپ بھی نا پتا نہیں کون سے زمانے میں جی رہی ہیں۔ ثناء کے لہجے میں بے زاری کا عنصر واضح جھلکنے لگا۔
دیکھو ثناء مجھے اس تنظیم کا مقصد پتہ نہیں ہے مگر تم بھی حقائق سے منہ نہ موڑو۔ اس ملک میں خواتین کی آئے دن پامالی ہوتی ہے عصمت دری، غیرت پہ قتل، کاروکاری، تیزاب گردی اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ تب یہ تنظیم ان کے لیے کتنی آواز بلند کرتی ہے۔ کہاں احتجاج ہوتا ہے۔ سول سوسائٹی بھی وہاں موم بتیاں لے کے جاتی ہے جہاں ان کی پبلسٹی ہو۔ ورنہ وہ کیا جانیں کے آٹھویں کلاس کی بچی سنگسار ہوتے ہوئے کس تکلیف میں مبتلا ہو گی۔
پر اماں ہماری تنظیم تو عورت کے روز مرہ کے مسائل پر آواز اٹھا رہی ہے۔ اماں آج تک ہمیں پردہ کروایا جاتا ہے کہ مردوں کی نگاہیں گندی ہیں۔ کھانا گرم کروایا جاتا ہے کہ نواب زادے خود کھانا لے نہیں سکتے۔ کپڑے استری نہیں کر سکتے۔ انہیں صرف عورت کی ذات کو بھنبھوڑنا آتا ہے کیا؟
ماں عورت کی معاشرے میں عزت ہوگی تو تبھی آپ کی بیٹی بھی کسی گھر جا کہ عزت سے جی سکے گی۔ ثناء کا لہجہ بھر آیا۔
ماں نے شفقت سے ثناء کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور اسے لے کے صوفے پہ بیٹھ گئی۔ دیکھو بیٹی، ہر مرد ایک جیسا نہیں ہے ہم بھی تو آپ کے بابا کی سرپرستی میں آزاد ہیں وہ ہم پہ شلٹر کی طرح چھاؤں کیے ہوئے ہیں۔ ہر اچھے برے کی تمیز دیتے ہیں۔ بتاؤ کہاں وہ آپ کا حق سلب ہونے دیتے ہیں۔ آج انہی کی بدولت آپ زمانے کے ساتھ کندھا ملا کے چل رہی ہو۔
اماں ہر کوئی ہمارے بابا جیسا بھی تو نہیں ہے۔ اماں ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں دو دو سال کے بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بعد میں بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے۔ ہماری مسجد مخفوظ نہیں ہے مدرسہ مخفوظ نہیں ہے سکولوں میں ایسے واقعات کی بھرمار ہے۔ اماں اخلاقی گرواٹ کا شکار اس معاشرے کے بھڑیوں کو نکیل نہ ڈالی گئی تو اور پتا نہیں کتنی زینب لٹتی رہیں گی۔ ثناء اپنے موقف پہ ڈٹ گئی۔
اماں کے پاس ان سب باتوں کو جواب نہیں تھا۔ کیونکہ واقعی وہ اسی معاشرے کا حصہ تھی جہاں ریڑھی والے سے لے کے نوے فیصد بڑے بزنس میں سب ہی کسی نہ کسی طرح خواتین کو ہراساں کرتے آئے ہیں۔ مگر اسے ڈر تھا کہ کہیں اس طرح کی تنظیمات آزادی کے نام پہ ان کے بچوں کو گمراہ نہ کر دیں۔ کیونکہ بے راروی کا شکار معاشرہ کسی کو بھی مسیحا مان کے اس کی تقلید شروع کر دیتا ہے۔ اور وہ مسیحا اپنے نظریات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نئی جنریشن کے جوشیلے خون کو ایندھن کی طرح استعمال کرتا ہے۔


