ڈرائیو تھرو شادی اور رشتوں کی معیشت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شادی کو سماجی و معاشرتی زندگی میں ایک اہم اور یادگار ترین تقریب تصور کیا جاتا ہے۔ شادی کی تیاریاں کئی کئی دنوں اور مہینوں تک محیط ہوتی ہیں اور اگر اس میں منگنی اور اس سے متعلقہ لوازمات شامل کر لئے جائیں تو یہ عرصہ بسا اوقت مہینوں سے بڑھ کر سالوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر خاندان کی خواتین زیادہ با ذوق ہوں تو یہ مدت صبر آزما حد تک طویل ہوتی چلی جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں متاثرہ فریق دبے چھپے انفاط میں احتجاج بھی نوٹ کروانے کی کوشش کرتا ہے اور عموما اس احتجاج کو متعلقہ فریقین تک پہچانے کے لئے کسی قابل اعتبار کزن یا دوست کا سہارا لیا جاتا ہے۔

کیونکہ براہ راست احتجاج کی صورت خاندانی استعماری طاقتوں کی طرف سے نقص امن کا شدید احتمال ہوتا ہے۔ اگر یہ مرحلہ کسی طور مکمل ہو جائے تو اس کے بعد شادی کو عملی شکل دینے کی تیاریاں شروع کر دی جاتی ہیں اور ہر خاندان میں ایک عدد مرد و خاتون ضرور پائی اور پائے جاتے ہیں جو ان تمام معاملات کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور پھر شاپنگ سے لے کر شادی ہال کی بکنگ اور مہمانوں کے انتحابات تک کی تمام ذمہ داریاں ان کے فرائض منصبی میں شامل ہو جاتی ہیں۔ اور کسی معاملے میں ان کی رائے سے اختلاف کرنا ان کی بے لوث اور ولولہ انگیز خدمات پر براہ راست شک کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے جس کے نتائج متوقع شادی شدہ جوڑے کی آنے والی زندگی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی شادی کا ایک اور روایتی، اخلاقی اور لازمی جزو رشتہ داروں کی ناراضی ہے جو عین شادی کے موقع پر تاریخی تنازعات کی روشنی میں بڑے ہی مدلل انداز میں اعداؤ و شمار سے ثابت کر دیتے ہیں کہ ہمارا اس شادی میں شامل ہونا اپنے بزرگوں کی طے شدہ روایات سے بغاوت اور ہماری آنے والی نسلوں کے لئے باعث شرم ہو گا۔ لہذا ہم کسی طور اس شادی خانہ آبادی کی تقریب میں شمولیت کی دعوت قبول نہیں کریں گے۔ اور اس احتجاج کو معقول وقت کا تعین کرتے ہوئے یعنی شادی سے پہلے ہی متعقلہ فریقین تک پہنچا دیا جاتا ہے۔

جس کے بعد خاندان کے برزگ اقوام متحدہ کا خود ساختہ کردار ادا کرتے ہوئے تمام تصفیہ جات کو باہمی مذاکرات سے حل کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور عموما یہ کوشش تقریبا سو فیصد کامیاب ہوتی ہے اور فریقین کے درمیان پرانی رنجشوں کو بلا کر نیا عمرانی معاہدہ عمل میں لایا جاتا ہے۔ جو ہمارے معاشرتی رویوں کی خوبصورتی اور رشتوں کے باہمی احترام کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ کیونکہ شادی کے موقع پر ناراضی کا اظہار کرنا اور دوسرے فریق کا اس ناراضی کو کسی بھی قیمت پر دور کرنا بلاشبہ ہماری معاشرتی اقدار کی پائیداری اور اپنائیت کا مظہر ہے۔

بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ جہاں ہمارے رہن سہن اورطرز زندگی میں تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ وہی اس نے شادی جیسی روایتی اور منفرد تقریب کو بھی کافی حد تک متاثر کیا ہے۔ شادی کی تقریب جو کہ چند سال پہلے تک کئی کئی دنوں پر محیط ہوتی تھی اور تمام رشتہ دار و عزیزو اقارب ہفتوں بطور مہمان شادی والے گھر میں بمع اہل و عیال پناہ گزیں ہو جاتے تھے۔ اب یہ ملاقات و مہمان نوازی صرف شادی ہالز تک محدود رہ گئی ہے۔ کیونکہ معشیت کی تیز رفتاری اور مقابلے کی اس فضا میں وقت کی اہمیت کو رشتوں کی بجائے کچھ اور پیمانوں میں ناپا جانا شروع کر دیا گیا ہے۔

اور جس تیزی سے ہمارے جذبات و احساسات کو معاشی و مالیاتی فکر نے متاثر کرنا شروع کیا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں جہاں بہت سی سماجی و معاشرتی تبدیلیاں رونما ہونے جارہی ہیں وہی شادی سے منسلک حسین ترین رسوم و رواج بھی شدید خطرے میں ہیں (نوٹ: یہاں صرف شادی سے متعلقہ رسوم و رواج کے حسین ترین ہونے کا کہا گیا ہے اور شادی کے بعد پیش آنے والے واقعات و حادثات زیر بحث نہ ہیں ) ۔ سو بدلتی ہوئی معاشرتی ترتیب میں شادی جیسا معاشرتی ادارہ بھی تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے۔ جس کی ایک ممکنہ جھلک ڈرائیو تھرو شادی ہے۔

امریکی ریاست نیواڈا کا شہر لاس ویگا س آبادی کے لحاظ سے اٹھائیسواں بڑا شہر ہے۔ لاس ویگاس کی وجہ شہرت جابجا پھیلے ہوئے جوا خانے یا کسینو اور امریکی فلم انڈسٹری کا گھر ”ہالی وڈ“ قریب ہونے کی وجہ سے ہالی وڈ کے ستاروں کی پسندیدہ جگہ ہونا ہے۔ کسینو سے متعلقہ ڈکیتی کے حوالے سے مشہور فلم ”اؤ شین الیون“ جس میں مرکزی کردار جارج کلونی اور جولیا رابرٹس نے ادا کیے لاس ویگاس میں ہی فلمائی گئی تھی۔ لیکن ہمارا موضوع چونکہ شادی اور اس سے متعلقہ معاشرتی اور سماجی اقدار ہیں لہذا ہم لاس ویگاس میں ہونے والی منفرد اور عجیب و غریب ”ڈرائیو تھرو شادی“ کا تذکرہ کریں گے۔ میں نے پہلی بار ”ڈرائیو تھرو شادی“ کا ذکر اپنے امریکی دوست اور کلاس فیلو سید شاہد حسین سے سنا اور یہ میرے لئے حیران کن حد تک ایک نئی اصطلاح تھی۔ کیونکہ ڈرائیو تھرو فوڈ چینز کا تو سنا اور دیکھا تھا لیکن شادی بھی ڈرائیو تھرو ہو سکتی ہے؟

لاس ویگاس میں ڈرائیوتھرو شادی کا تصور یہاں کی مصروف ترین زندگی، مہنگائی اور امریکی معاشرت میں مرد و عورت کے باہمی تعلقات کی نوعیت کا مرہون منت ہے۔ لاس ویگاس میں مختلف کاروباری کمپنیاں لوگوں کو ڈرائیو تھرو شادی کے پیکج مہیا کرتی ہیں۔ جس کے اخراجات پچاس امریکی ڈالر سے لے کر ہزاروں ڈالرز تک ہو سکتے ہیں۔ لاس ویگاس کے مشہور لٹل وائٹ ویڈنگ چیپل کی وجہ شہرت اس کی ڈرائیو تھرو ٹنل ہے۔ اس کو 1951 یا 1955 میں تعمیر کیا گیا اور اب تک تقریبا آٹھ لاکھ جوڑے اس ٹنل میں عہد و پیماں کے مراحل سے گزر چکے ہیں۔ جن میں ہالی ود کے مشہور ستارے جیسے کہ برٹنی سپیرز، بروس ولس، ما ئیکل جورڈن اور ڈیمی مور شامل ہیں۔

ڈرائیو تھرو شادی کا طریقہ کار بہت سادہ اور آسان ہے۔ بلکہ یہ ایسا ہی ہے جیسا آپ نے برگر یا کافی لینی ہے۔ شادی کا خواہش مند جوڑا، ڈرائیو تھرو شادی کی آن لائن بکنگ کرواتا ہے اور اپنے لئے وقت اور متعلقہ پیکج کا انتخاب کرتا ہے۔ متعین کردہ وقت پر شادی کا خواہیش مند جوڑا منتخت شدہ کمپنی کے آفس پہچتا ہے اور گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ادھر موجود گرجا گھرکی میرج منسٹر ونڈو کے سامنے رک کرپادری یا سرکاری عہدیدار جس کو میرج منسٹر بھی کہا جاتا ہے کے سامنے باہمی عہد و پیماں کرتے ہیں۔

جس کے بعد میرج منسٹر اپنی دعاؤں کے ساتھ ساتھ شادی کا سرٹیفکیٹ جوڑے کے حوالے کرتا ہے اور اس طرح تقریبا پندرہ سے بیس منٹ میں شادی سر انجام پا جاتی ہے۔ اگرچہ شادی کا یہ تصور روایتی طریقہ کار سے بہت مختلف اور جداگانہ ہے لیکن تیزی سے رونما ہوتی تبدیلیوں کے زیر اثر یہ امریکہ معاشرے میں مقبول ہوتا جا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •