بوجھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حبیب الوہاب الخیری بہت زبردست اور قابل وکیل تھے آئینی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لئے عدالتوں میں درخواستیں دائر کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا مگر عدالتیں ان کی درخواستوں پر سماعت بوقت ضرورت کیا کرتی تھیں۔ وہاب الخیری نے مفادِ عامہ کی پٹیشنیں دائر کرنے کے لئے ”الجہاد ٹرسٹ“ رجسٹرڈ کروایا ہوا تھا اور وہ خود کو رئیس الاحرار بھی قرار دیتے تھے۔ ابتدائی طور پر ان کی درخواستوں کو عدالتیں مفادِ عامہ کی بجائے ”فسادِ عامہ“ کی نظر سے دیکھا کرتی تھیں اور ضرورت پڑنے پر ان درخواستوں کومفادِ عامہ کے غلاف میں لپیٹ کر سنا جاتا تھا۔ موجودہ حالات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو حبیب الوہاب الخیری کی طرف سے سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری اور سنیارٹی بارے دائر درخواست قوم پر بڑا احسان ہے۔

اگرچہ حبیب الوہاب الخیری نے جب یہ درخواست دائر کی تھی تو اس وقت عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ اور دیگر ججوں نے اسے ’دیوانے کا خواب‘ قرار دے کر دیگر درخواستوں کے انبار تلے دفن کر دیا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان ججوں کی تقرری پر تنازعہ پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے سید سجاد علی شاہ کو سینئر ججوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اس اعلیٰ ترین منصب پر بٹھایا تھا اور اس کمال مہربانی کی ایک وجہ یہ تھی کہ سید سجاد علی شاہ کا تعلق سندھ سے تھا اور دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے میاں نواز شریف بحالی کیس میں دلیرانہ اختلافی نوٹ لکھا تھا کہ یہ انصاف نہیں کہ سندھ کا وزیراعظم پھانسی چڑھ جائے اور پنجاب کا وزیراعظم بحال ہو جائے۔

سید سجاد علی شاہ کے اس اختلافی نوٹ نے ان کے لئے محترمہ بے نظیر بھٹو کے دل میں جگہ بنا ڈالی لیکن پھر سجاد علی شاہ اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے فاروق بھائی متحد ہو کر محترمہ کی حکومت کے پیچھے پڑ گئے۔ پھر جو ہوا وہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے لیکن اس لڑائی میں پاکستان کے حصے میں یہ آیا کہ چیف جسٹس تقرری کامسئلہ ہمیشہ کے لئے طے ہو گیا۔ اب چیف جسٹس کی مدت ریٹائرمنٹ ختم ہونے سے پہلے ہی سرکاری سطح پر آئندہ چیف جسٹس کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔

رواں ماہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ ریٹائر ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ چیف جسٹس گلزار کا نوٹیفکیشن ہو چکا ہے۔ وگرنہ اگر الجہاد ٹرسٹ کی درخواست پر یہ اصول طے نہ ہوتا تو آج ملک میں ایک نہیں بلکہ دو چیف صاحبان کی تقرری کے لئے حکومت سر پکڑ کر بیٹھی ہوتی۔ اس وقت حکومت کو فوری طور پر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کامسئلہ درپیش ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک میں پارلیمانی نظام حکومت رائج ہے لیکن پارلیمنٹ فیصلے کرنے کی بجائے عدالت عظمیٰ پر اپنا بوجھ منتقل کر دیتی ہے۔

قومی اسمبلی اور سینٹ میں تقریباً ساڑھے چار سو ممبران عدالت عظمیٰ کے 17 ججوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اصولی طور پر پارلیمنٹ کو آج سے کئی سال پہلے ازخود چیف جسٹس آف پاکستان، چیف الیکشن کمشنر اور چیئرمین نیب جیسے عہدوں کے لئے ایسا نظام وضع کر دینا چاہیے تھے کہ ہر تقرری ”آٹو“ پر لگ جاتی لیکن ہمارے ہاں ان اہم ترین عہدوں پر تعیناتیاں کرتے وقت ”آٹومیٹک“ تنازعات جنم لیتے ہیں اور پورا نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر تقرری کامعاملہ سپریم کورٹ کو بھیجے جانے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے لیکن تقرری پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا جو کہ باعث شرم بھی ہے اور پارلیمنٹ کے لئے سبکی کا باعث بھی۔ جمہوریت پسند لوگ آمروں پر یہ الزام لگاتے نہیں تھکتے کہ انہوں نے پارلیمنٹ کی عزت و آبرو کو پامال کیا حالانکہ اگر باریکی سے دیکھا جائے تو پارلیمنٹ کی عزت تار تار کرنے میں ہمارے ”بلاوجہ“ معزز سیاستدان کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں۔

پارلیمنٹ کے ساڑھے چار سو ممبران سے بہتر تو حبیب الوہاب الخیری تھے جو 90 کی دہائی میں محسوس کر رہے تھے کہ ججوں کی تقرری اور سنیارٹی کا اصول طے ہونا چاہیے وگرنہ اس وقت بھی سیاستدان یا تو باری لے رہے تھے یا اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ حبیب الوہاب الخیری زندہ ہوتے تو آج چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لئے بھی ان کی درخواست کسی نہ کسی عدالت کے کونے کھدرے سے نکل آتی لیکن وہ وفات پا چکے ہیں اس لئے اب حکومت اور اپوزیشن مل کر حبیب الوہاب الخیری کے نفش قدم پر چلتے ہوئے سپریم کورٹ جانے کی نیت باندھ چکی ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر ایک ایسا عہدہ ہے جس پر پورے جمہوری نظام کا انحصار ہے اور یہی وہ ”ایمپائر“ ہے جس کا نیوٹرل ہونا ضروری ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ہمیشہ خواہش نیوٹرل ایمپائر کی رہی ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے معاملے میں یا تو ان کی یہ خواہش دم توڑ چکی ہے اور یا پھر ملک میں ایسی قحط الرجالی کا عالم ہے کہ ہمیں جمہوریت کو مضبوط کرنے والا بنیادی ستون ہی دستیاب نہیں ہے۔

ماضی میں اس عہدے کو سیاسی رشوت کے طور پر بھی استعمال کیاجاتا رہا ہے جیسا کہ جنرل (ر) ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے یہ عہدہ ایسے لوگوں کے لئے مخصوص رکھا جنہوں نے کامیاب ”ریفرنڈم“ بھی کروائے اور ریفرنڈم جیسے ”نتائج“ عام انتخابات میں بھی دیے۔ اب چونکہ معاملہ سپریم کورٹ میں جائے گا لہٰذا چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ممبران کی تقرری کا اصول طے کرتے وقت یہ بھی طے ہو جائے کہ اس عہدے کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال نہ کیا جائے بلکہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ممبران کی تقرری ایک خودکار سسٹم کے تحت ہونی چاہیے۔

اس عہدے کو سیاسی رشوت کے طور پر اس لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ ریٹائرڈ جج صاحبان کے لئے یہ بہت پرکشش سمجھا جاتا ہے اس ”لالچ“ کو ختم کرنے کے لئے حاضر سروس ججوں میں سے ہی چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کا تقرر ہو سکتا ہے۔

جب تک الیکشن کمیشن آف پاکستان آزاد اور خودذمختار نہیں ہو گا اس وقت تک مضبوط جمہوری نظام کا خواب پورا نہیں ہو گا۔ وگرنہ ان اہم ترین تقرریوں پر حکومت اور اپوزیشن کا رقصِ ابلیس جاری رہے گا جس کا نقصان پوری قوم کو اٹھانا پڑتا ہے۔ پاکستان کے نظام پر جب بھی مورخ لکھے گا وہ اس کی یہی تعریف لکھے گا کہ پاکستان دنیا کا وہ ملک ہے جہاں پارلیمانی نظام بذریعہ عدالت چلتا رہا ہے اور وہ بھی سیاستدانوں کی مرضی سے۔ سیاستدان اپنا بوجھ اٹھانے کی بجائے خود ہی نظام کے لئے بوجھ بن رہے ہیں وہ سنہری دن نجانے کب آئیں گے جب سیاستدان اپنا بوجھ خود اٹھائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 65 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat