” دو نہیں ایک پاکستان”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ بخشے اماں محترمہ کو، کہا کرتی تھیں کہ خدا اپنے نیک بندوں کو اک ذرا سی غلطی پر آزمائش میں ڈال دیتا ہے تا کہ وہ توبہ کر کے اِسی دنیا میں اپنے گناہ بخشوا لے۔

میرے کپتان جیسا اللہ کا ولی اِس وقت ارض وطن کیا پوری دنیا میں شاید ہی کوئی دوسرا ہو۔ اس لیے جب جب میرے کپتان کے منہ سے کوئی ایسا جملہ پھسلا جس میں ذرا سا تکبر غرور یا بڑائی کا شاہبہ تک بھی تھا تو مالک نے فوراً انھیں آزمائش میں ڈال کر اُس غلطی کی سزا دنیا میں دے کر آخرت سنوار دی۔

میرے کپتان کی بائیس سالا سیاسی جہدوجہد میں ایسے کئی موڑ آئے جب وہ مشکل سے مشکل آزمائش کے گہرے سمندر سے کسی تیراک کی طرح کامیاب ابھرا اور عوام کی بھلائی کو پہاڑ جیسے دشمنوں سے ٹکرا گیا۔

اللہ بھلے کرے میڈیا کا جس نے میرے کپتان کا ایک ایک جملہ سنہری کتاب میں محفوظ کر رکھا ہے اور ہر پریس کانفرنس، تقریر اور بیان کے بعد پرانی کتاب کھول کر وہ سنہری الفاظ عوام کو سناتا ہے۔ اب وہ سارے الفاظ اس ملک کے بچے بچے کو ازبر ہو چکے ہیں اس لیے میں اُن کی تفصیل میں جائے بنا، آپ کی توجہ اس جانب دلوانا چاہوں گا کہ ابھی چند دن قبل کپتان کے منہ سے انجانے میں نکلا تھا کہ ملک میں امرا اور بڑے لوگوں کے لیے ایک اور غریب غربا کے لیے دوسرا قانون نہیں ہونا چاہیے۔ میرے کپتان نے سپریم کورٹ کے موجودہ اور آنے والے چیف جسٹس سے درخواست کی تھی کہ ایسے کام کریں جس سے عوام میں عدالت کا احترام اور اعتماد بحال ہو سکے۔

پھر اگلے روز ہی معزز سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے دو ایسے کیسس کے خلاف شنوائی شروع کی، جس کا دفاع کرنے اور اپنے قول کی لاج رکھنے کو حکومت نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی کہ حکومت کے لیے امیر اور غریب سب برابر ہیں۔ حکومت اگر ساہیوال میں اور راؤ انواز کے ہاتھوں قتل ہوئے غریبوں کا کیس لڑ سکتی ہے تو بڑوں کا کیوں نہیں لڑ سکتی؟

بس ایسے ہی جب جب کپتان کے منہ سے کچھ نکلتا ہے فورا آزمائش آ جاتی ہے۔ مجھے اِس موقع پر ایک لطیفہ یاد آ رہا ہے ”ایک نیک انسان اس مطلبی دنیا سے تنگ آ کر پہاڑوں پر نکل گیا جب وہاں بھی اُسے لوگوں کے رویے سوچ سوچ کر سکون نہیں ملا تو اُس کے منہ سے نکل گیا“ اس زندگی سے تو موت بہتر ہے ”اچانک کسی نے اُس کے کندھے پر تھپتھپایا، اُس نے مڑ کر دیکھا تو ایک نورانی چہرے والے آدمی کو کھڑے پایا تو پوچھا۔

” آپ کون ہیں اور اِس ویرانے میں کیا کر رہے ہیں؟

جواب ملا کہ میں موت کا فرشتہ ہوں اور آپ نے ابھی ابھی مرنے کی خواہش کی تھی تو آپ کی روح قبض کرنے آیا ہوں۔

” لے دس اُن بندہ گل وی نہ کرے“ وہ آدمی میرے کپتان کی طرح دل آویز انداز میں مسکراتے ہوئے گویا ہوا۔

کپتان کے منہ سے چند دن قبل میانوالی جلسے میں پھر نکلا تھا کہ کسی کرپٹ انسان کو نہیں چھوڑوں گا خواہ وہ کتنا ہی با اثر کیوں نہ ہو۔ بے شک اِس کوشش میں میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ ابھی اِن الفاظ کی گونج باقی تھی کہ اللہ نے کپتان کو پھر آزمائش میں ڈال دیا۔

آپ سب کے شنید میں آیا ہو گا کہ برطانیہ سے پاکستان کو کم و بیش چالیس ارب روپے ملے ہیں۔ کپتان نے کابینہ کے اجلاس میں اپنے تمام وزیروں اور مشیروں کو اُس نیک اور دیالو انسان کا نام لینے سے سختی سے منع کر دیاہے، اس خبر کے آتے ہی ملک کا جاہل طبقہ لگا اچھلنےکہ حکومت اور وزیر اس شخصیت کا نام کیوں نہیں لے رہے؟

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر کپتان کی عقل و دانش بڑے بڑے قانوں دان نہ سمجھ سکے تو وہ کیا سمجھ پائیں گے، جن کے دماغ خوراک کی کمی سے مکمل نشونما ہی نہ پا سکے۔

اللہ بھلا کرے اس عظیم لیڈر کا جس نے مجھ جیسے ادنٰی ورکر کو بھی اتنا شعور دیا ہے کہ وہ اس خاموشی کے پیچھے چھپی انقلابی سوچ کو بھانپ سکا۔ تو میرے دوستو! پریشان بالکل نہیں ہونا اور نہ جاہلوں کے منہ لگ کر اپنے کپتان سے مایوس ہونا کہ اس کی قیادت میں اس ملک میں امیر کے لیے الگ اور غریب کے لیے الگ قانون ہے، بلکہ اِس خاموش حکمت عملی پر فخر کریں جس کی بدولت وہ اُس نیک انسان اور اپنے دوست کو یہ احساس دلا رہا ہے کہ کپتان اُس کے ساتھ ہے، مگر آپ سب جانتے ہیں کہ ہمارے لیڈر نے بائیس سال اپنے رب سے یہی وعدہ کیا تھا کہ وہ کرپٹ لوگوں کو کسی صورت نہیں چھوڑے گا بے شک اس کوشش میں اُس کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ ( اللہ نہ کرے )

دوستو اس خاموشی کے پیچھے یہ حکمت ہے کہ اُس ٹیکس چور اور منی لانڈرنگ کرنے والے نیک انسان کو جیسے ہی یقیں ہوگا کہ اُس کے خلاف نہ کوئی جے آئی ٹی بننے، نہ جائیداد ضبط اور نہ اُس کا نام ای سی ایل میں ڈالا جا رہا ہے، تو وہ لاپرواہ ہو جائے گا اور ملک سے فرار ہونے کا خیال دل سے نکال دے گا پھر میرا کپتان اسے دبوچ لے گا اور جیل میں جب وہ چیخیں مارے گا تو حکومت اُس کی ساری پراپرٹی اور بنک بیلنس اپنے نام لکھوا لے گی اور یوں کروڑوں نوکریوں اور لاکھوں گھروں، سستے ڈالر، ساٹھ روپے پیڑول جیسے انقلابی وعدے دو سال کے اندر اندر پورے ہوجائیں گئے۔

پھر دوست تو دوست دشمن بھی پکار اٹھیں گے کہ دیکھا میرے کپتان نے کرپٹ لوگوں کو پکڑنے کے لیے کیسی فیلڈنگ لگائی اور دنیا کو یقین آ جائے کہ اب ”دو نہیں ایک پاکستان“ وجود میں آ چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •