بادشاہ آف خوشآمدپور
جوں ہی میں نے خوشآمدپور میں قدم رکھا تو میں پریشان ہو گیا۔ لوگ جوک در جوک اپنے گھروں سے نکل کر شہر کے مشرقی سمت چیونٹیوں کی مانند قطار در قطار جا رہے تھے۔ میں نے کسی سے پوچھا کیا یہ ہجوم پُر بھلا کسی کے جنازے پہ جارہا ہے تو اس کا جواب تھا ”نہیں، یہ بادشاہ کے محل پہ جارہے ہیں کیونکہ آج بادشاہ کا دربار ہے آج بادشاہ درباریوں، مسکینوں اور غریبوں پہ اپنی فیاضی کے جوہر دکھائیں گے۔ راہ گیر کے جواب نے ہمارے بھی اشتیاق میں اضافہ کیا ہمارے بھی دل میں چاہ دید شاہ اٹکھلیاں لینے لگا لیکن مجھے فرض شناسی کے ہاتھوں مجبور ہوکر پہلے تھانے میں رپورٹنگ کرنے جانا پڑا۔
خوشآمدپور تھانے پہنچ کر کیا دیکھا کہ ایک جمِ غفیر یہاں بیٹھا ہوا ہے۔ جو لوگ میں نے باہر دیکھے تھے اس تناسب سے قیدیوں کا یہ تعداد حیران کن تھا لیکن خیر میں سمجھا چوری ڈکیٹی زیادہ ہوئی ہے شاید اسی لئے تھانے میں رونق تھی مگر حیرانگی میں مزید اضافہ ہوا جب قیدیوں کے چہروں سے معصومیت، شاہستگی اور خوش اطواری کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آیا تھا۔ میں نے حوالدار سے پوچھا بھئی جو چور دکھ رہے تھے باہر تھے جو مہذب دکھتے ہیں اندر ہیں، ماجرا کیا ہے تو حوالدار دوکلداروک نے نقلی فیض بننے کی کوشش کی تھی کہ۔
اِنھوں نے کہا تھا
اسی دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا
نتیجتاً، سنگ و خشت مقید ہوگئے اور تمام سگ آزاد اور بھونکنے، ہف ہف کرنے کے لئے محل کی طرف گئے ہیں۔ میں چوں کے شاعری، اشارہ و کنائیہ بازی کو سمجھنے میں تہی دست ہوں میں نے اس تفصیلی جواب کو آسان الفاظ میں مختصر کرنے کا آرڈر دیا۔
دوکلداروک نے کہا صاحب یہ سب بادشاہ کی تعریف میں کنجوسی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یا انھوں نے بادشاہ کے نقص نکالے ہیں۔ جس کا انجام سزائے موت ہے۔ جواب کے ساتھ ہی حوالدار دوکلداروک نے درخوست چھٹی ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا صاحب قبولیت میں دیر نہ کریں نان نفقے کا مسئلہ ہے۔ میں نے کہا آپ ملازم ہو آپ بھی بھیک مانگنے جاؤگے؟
حوالدار نے کہا یہاں جس کا بھی تنخواہ آتا ہے وہ پہلے سے بادشاہ لیتا ہے ہم اس کے رحم و کرم پر جیتے ہیں۔
میں نے ماجرا سمجھ کر دربار میں حاضری دینے کا فیصلہ کیا آنے والے وقت میں میرے بھی نان نفقے کا مسئلہ تھا۔ نظریات نے کس کا پیٹ بھرا ہے۔
جوں ہی میں وہاں پہونچا تو کرسی پر براجمان ایک شخص کو دیکھ کر دعوے سے کہا جاسکتا تھا کہ مہینے کے انتیس کو پیدا ہوا ہے، بال ایسے کے طوفان نوح بھی ہلائے تو تعجب لازمی ہے۔ مکمل واٹر پروف اور آنکھیں ایک اگر مشرق میں تو دوسری مغربی نظارے کا دم بھریں۔ یوں لگا کہ بادشاہ کو بنانے کے وقت فرشتوں میں شدید قسم کی لڑائی ہوئی تھی اور نتیجے میں انسان کی جگہ کوہ قاف کا جن بن گیا۔ اگر میں انٹرانس پہ ویلکم بادشاہ کی طرف سے والی فوٹو میں اسے نا دیکھتا واللہ اس کے بادشاہ ماننے میں تردد سے کام لیتا۔
بادشاہ کے درباری آگے پیچے، دائیں بائیں کسی نے آکر ایک قصیدہ پڑا تو بادشاہ نے ہیروں کی ایک مالا اس کے ہاتھوں رکھ دی، وہ خوش خوش اٹھا اور بادشاہ سلامت زندہ باد کے نعرے لگاتا رہا ادھر بادشاہ کی خوشی کا ٹھکانا نا رہا اس کے خوبصورت دانت جن کی تعریف لازمی ہے، چمک رہے تھے۔
پھر ہجوم میں سے دو آدمی دست گریبان ہوئے، ایک کا ماننا تھا بادشاہ سلمان خان جیسا دیکھتا ہے تو دوسرے کو بادشاہ میں شاہ رخ خان کی شبیہ نظر آرہی تھی۔ دریں اثناء موقع کا فائدہ اٹھاتے کسی نے کہا کہاں ہمارا بادشاہ کہا آپ کے بوڑھے شاہ رخ خان اور سلمان خان ہمارے بادشاہ تو ہریتک روشن ہیں۔ بادشاہ نے انصاف کا بول بالا کرتے ہوئے تینوں کو نوٹوں کی گھٹڑیوں سے نوازا۔
بادشاہ کی فیاضی جاری تھی کبھی کسی کو کچھ تو دوسرے کو اور کچھ اسی دوران ایک جہاز نچلی پرواز کرتا ہوا دربار کے اوپر سے گزرا بادشاہ نے کچھ دیر توقف کے بعد فرمائش کی کہ اب گاڑیوں کی سواری بس۔ اب بادشاہ کو ایک جہاز کی ضرورت ہے۔ اب جہاز پھر اس کا پائلٹ۔
خیر بادشاہ کی فرمائش پوری کی گئی اور ایک پائلٹ لایا گیا لیکن بادشاہ بضد رہا کہ گاڑی میں چلاتا ہو اب جہاز بھی میں ہی چلاؤں گا۔ کسی میں نہ کرنے کی جرت نہیں ہوئی نتیجہ خوشآمدپور جیل تھی۔ سب مردِ شکم سب پیٹ کے مجاہدین، جنہوں نے فقط خوش آمد ہی سیکھا تھا۔
جب بادشاہ جہاز میں بیٹھا سارے حواری بہانے بہانے سے غائب ہوتے گئے۔ آخر میں وزیر نے بھی یہ کہہ کر معذرت کرلی کے مجھے سانس کی بیماری ہے جہاز میں دم گھٹتا ہے۔ بادشاہ کو غصہ آگیا اس نے اسی غصے میں جہاز کو اسٹارٹ کیا اور اڑالی لیکن چنتھا کا ویشے یہ ہے کہ بادشاہ آف خوشآمدپور اسی دن سے لاپتہ ہیں۔ کسی کو ملے تو خوشامدپور کے تھانے میں پھونچادے ایسی زیرک نظر بادشاہ نایاب ہیں۔
نوٹ : 1 غصہ عقل کو کھا جاتا ہے اور لیکن خوشامد ہر شے کو۔
نوٹ : 2 یہ مضمون بڑی عید کے دوسرے دن لکھا گیا تھا۔ اس لیے مماثلت سے اپنے اپنے بادشاہ ڈھونڈئے۔


