شیرشاہ سوری یا نادرشاہ؟


جو لوگ فیاض الحسن کی کمی محسوس کررہے تھے، آخر کار ان کا انتظار ختم ہوا۔ اپنے اندازوبیاں سے ٹی وی اسکرینز ہر تھرتھرلی مچانے والے موصوف اپنے منصب پر واپس براجمان ہوگئے۔ ابھی تک کئی لوگوں کے سمجھ میں نہیں آیا کہ ہر ”عام و خاص“ کو زد و پیشمان کرنے کے لئے فردوس عاشق اعوان صاحبہ (جن کا ساتھ فواد چوہدری بخوبی نبھا رہے ہیں ) میں آخر کمی کیا تھی جو فیاض الحسن صاحب کی ضرورت بھی آن پڑی۔ شاید لانے والے کے ذہین میں اچھے نتائج کے لئے فریقین میں مقابلے بازی کی مسابقت قائم کرنا تھی۔ پر بھیجنے والے یہ اصول مدنظر رکھنا بھول گئے ہیں کہ جتنے سپاہیوں کو میدان جنگ میں اتارا جاتا ہے، اتنا ہی نقصان کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔

خیر ہم ذکر کرتے ہیں فیاض الحسن چوہان کی گرماگرم انٹری کا، جس کا اس بار نشانہ بننے والا کوئی ادکارہ یا اقلیتی گروہ نہیں تھا، بلکہ ہمارے خان صاحب کے اپنے چہیتے وسیم اکرم پلس یعنی بزدارصاحب تھے ْ۔ موصوف نے اپنے پریس کانفرس میں بزدار صاحب کو شیرشاہ سوری سے تشبیہ دے دی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس گستاخی پر خان صاحب آگ بگولا ہو جاتے اور چوہان صاحب کو شوکاز نوٹس جارہی کیا جاتا پر لگتا ہے نواز شریف کی لندن رخصتی کے بعد خان صاحب کے برداشت کا مادہ کئی گنا بڑھ گیا ہے (یا کچھ حلقوں کی جانب سے بڑھا دیا گیا ہے ) ۔

ویسے توکئی لوگوں کی نظر میں بزدار صاحب کو وسیم اکرم کہہ کر، خان صاحب وسیم اکرم سے ان گستاخیوں کا بدلہ لے رہے ہیں جو انہوں نے کبھی الھڑپن کے دور خان صاحب کے ساتھ ان کے کپتانی کے دور میں کیں۔ پر اب وقت آگیا ہے کہ اصلی والے وسیم اکرم کی گلو خلاصی کردی جائے انہوں نے دنیا میں ہی بہت کچھ بھگت لیا ہے۔

چلیں اب گفتگو کا رخ اس طرف موڑتے ہیں کہ آخر بزدار صاحب کی تشبیہہ سہولویں صدی کے بادشاہ شیرشاہ سوری سے انتی مضحکہ خیز کیوں ہے۔

اول، تاریخ کی الف ب جاننے والے بھی جانتے ہوں گے کہ شیرشاہ سوری کی پہچان ایک اچھے منظم کی تھی۔ پر کتابوں کو کھنگالہ جائے تو ہرگز مصور کے ہاتھوں سے بنی شیر شاہ سوری کی ایسی تصور کو نہیں ڈھونڈا جاسکے گا جس میں وہ بارش کے پانی سے بچنے کے لئے کسی کو اپنی سواری میں بیٹھنے کی آٖفر کررہے ہوں۔ ایسے میں بزدار صاحب کو ”غیرمصدقہ“ اچھے منظم سے تشبیہ دینا کہاں کا انصاف ہے۔

دوئم، مرحوم شیرشاہ سوری کے اہم کارناموں میں ایک کارنامہ برضعیر میں شاہراہوں کا جال بچھانا تھا۔ جس نے ہندوستان کے بڑے شہروں کلکتہ، بنارس، علی آباد، امرتسر اور لاہور کو آپس میں جوڑا۔ یوں وزیر اطلاعات صاحب نے بزدار صاحب کو شیر شاہ سوری سے مشہابت دے کر بالواسطہ حال کے شیرشاہ سوری یعنی نواز شریف سے مشہابت دی ہے۔ (اگر خان صاحب دور ماضی میں ہوتے تو حال کی طرح انسانی ترقی کو فوقیت کی بنیاد پر مرحوم شیر شاہ سوری کے لتے لے رہے ہوتے ) ۔ تو قارئین اب آپ یی بتائیں ایسا موازنہ کرنا گناہ ہے کہ نہیں۔

تہم، تاریخ میں پڑھنے کو ملتا ہے کہ شیرشاہ سوری کی وجہ شہرت حکمرانی ان کے اردگرد مستند اور قابل ٹٰیم کا ہونا تھا۔ خان صاحب خود اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کے پاس اچھی ٹیم نہیں ہے۔ کیا خان صاحب کا بلڈپریشر بڑھانے کے لئے یہ ہی کافی نہیں کہ بزدار صاحب کو اچھی ٹیم کس نے فراہم کردی۔

ایک اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ شیرشاہ سوری کے ادوار میں ان کے سلطنت میں امن وعامہ کی صورت حال کافی بہتر تھی۔ اس سے تاثر پیدا ہوتا کہ مرحوم کافی سرپھرے تھے اور ہر معاملے میں ٹانگ اڑاتے تھے۔ جبکہ ہمارے بزدار صاحب مسکین مزاج کے حامل، ٹرک کی بتی کے پیچھے چلنے کے قاٗئل ہیں۔

موازنے کے لئے لکھاری کے پاس آگے کو لکھنے کو بہت کچھ ہے پر ”ضمیر“ کی ملامت لکھنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ شاید ملامت اس بات کی لکھاری تعصب کی عینک سے دیکھتے ہوئے صرف شیرشاہ سوری کے ”منفی“ کاموں سے موازنہ کر رہا ہے (شیرشاہ رسوری کی روح سے معزرت کے ساتھ) ۔ اگر تھوڑے سے اختصار کی اجازت دی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے فیآض صاحب کے ”شیرشاہ سوری“ دراصل نادر شاہ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ ان کا ارادہ پنچاب کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اپنی سلطنت اور اثاثوں کو مستحکم کرنا ہے۔ (سلطنت کو پنجاب سمجھنے سے پیشگی جان کی امان مانگی جاتی ہے )

Facebook Comments HS