شادی کا چوتھا جوڑا :گھرانے کیوں بکھرتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سب خاص طور پر سردیوں کے موسم میں کئی شایوں کی تقریبات میں شامل ہوتے ہیں۔ مردوں نے اپنے بہترین سوٹ پہنے ہوتے ہیں اور عورتوں کی توجہ اپنے اُن قیمتی لباسات کی طرف ہوتی ہے جنہیں پہننے کے مواقع کم ہی ملتے ہیں۔ دلہن کا میک اپ، ہال کی سجاوٹیں اور کھانوں کا معیار کئی ہفتے تبصروں کا موضوع بنے رہتے ہیں۔ جب ایک نو بیاہتا جوڑا نئی زندگی کا آغاز کررہا ہوتا ہے تو ہم خوشیوں میں تو بھرپور انداز میں شامل ہوتے ہیں لیکن اگر بد قسمتی سے اسی جوڑے کی شادی ناکام ہو تو اس دکھ کو انہیں اکیلا ہی جھیلنا پڑتا ہے یا زیادہ سے زیادہ ان کے ماں باپ اس تکلیف کو ان کے ساتھ اُٹھاتے ہیں باقی معاشرہ صرف افواہیں اڑانے کا فریضہ ادا کرتا ہے۔

اس دور میں پوری دنیا میں شادیوں کی ناکامی کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ بعض لوگ ہر تکلیف دہ واقعہ میں بھی مزاح کا پہلو ڈھونڈ لیتے ہیں۔ جب بیرون  ملک پاکستانیوں کے شادیوں میں جلد ناکام ہونے کا رحجان بڑھنے لگا تو کسی نے یہ طنز کیا کہ اب شادی کی تقریبات کے لئے دلہن کے چار جوڑے بنانے پڑتے ہیں۔ ایک مہندی کے روز کا، دوسرا شادی کے دن کا، تیسرا دعوت ولیمہ کی تقریب کا اور چوتھا طلاق یا خلع کے دن کا۔

شادی کی ناکامی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اب پاکستان میں بھی اس کی شرح بڑھ رہی ہے۔ ایک تجزیہ کے مطابق 1990 اور 2008 کے درمیان دنیا میں طلاق کی شرح دوگنا ہو گئی ہے۔ عمومی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں، اُن ممالک میں جہاں عورتیں زیادہ گھر سے باہر کام کرتی ہیں، اور جہاں پر عورتوں میں زیادہ تعلیم یافتہ ہونے کا رواج ہے علیحدگی کی شرح زیادہ ہے۔ اوریہ مسئلہ تجزیے اور حل ڈھونڈنے کا تقاضا کرتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ دنیا بھر میں یہ مسئلہ کتنا بڑھ چکا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ بیلجیم میں شادیاں ناکام ہوتی ہیں۔ اس ملک میں 70 فیصد شادیاں علیحدگی پر ختم ہوتی ہیں۔ اس کے بعد پرتگال، چیک ریپبلک، ہنگری اور امریکہ میں 60 فیصد شادیوں کا انجام علیحدگی ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں شادی کا میاب ہو یا ناکام اس کا اثر طلاق خلع کی شرح پر نہیں پڑتا۔ کیونکہ بڑے یہ کہہ کر گھر سے رخصت کرتے تھے کہ آج اُس گھر تمہاری ڈولی جاتی ہے، اب وہاں سے تمہاری ڈولی ہی اُٹھے۔ گویا شادی وہ ریل گاڑی ہے جس کا پہلا سٹیشن ڈولی اور آخری سٹیشن جنازہ ہے۔ بیچ میں کیا بیتی اس کا کوئی ذکر ہی نہیں۔ یہ مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ ساغر صدیقی کا شعر ایک لفظ کی تبدیلی کے ساتھ ایسی شادی کا منظر بیان کرتی ہے

شادی جبر  مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یادنہیں

بہر حال اس وقت صورت حال ہے کہ گذشتہ سال کے سروے کے مطابق پاکستان میں جن عورتوں کی کبھی شادی ہوئی ہے ان میں سے دو فیصد ایسی ہیں جن کی علیحدگی ہوئی ہے۔ ان میں وہ شامل نہیں ہیں جن کی علیحدگی ہو کر دوبارہ شادی ہو چکی ہے۔ جب دنیا میں ایک رو شروع ہو تو یہ خطرہ بہر حال موجود ہوتا ہے کہ جلد یا بدیر ہمارا ملک بھی اس کا شکا رہو جائے گا اور اب بھی یہ رحجان پاکستان میں بڑھ رہا ہے۔ اس کا حل یہ نہیں کہ دنیا کو برا بھلا کہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی جائے بلکہ اس مسئلے کا باقاعدہ تجزیہ کر کے اس کا حل ڈھونڈنا چاہیے۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بناء پر شادیاں ناکام ہوتی ہیں۔

کسی بھی تحقیق کرنے والے کے لئے یہ معلوم کرنا آسان نہیں کہ شادیاں ناکام ہونے کی وجہ کیا تھی۔ بہر حال پاکستان میں بھی بعض تحقیق کرنے والوں نے اس بات کا کھوج لگانے کی کوششیں کی ہیں۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ہونے والی ایک تحقیق نے ایسی 25 وجوہات کا تجزیہ کیا جو کہ شادی کی ناکامی کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق جو وجہ سب سے زیادہ علیحدگی کا سبب بنتی ہے وہ ایک فریق کا ان پڑھ ہونا ہے۔ اس کے بعد بیروزگاری گھر اجاڑنے کا سبب بنتی ہے۔ پھر مالی مشکلات، ایک دوسرے پر اعتماد نہ ہونا، برداشت کی کمی اور مشترکہ گھرانے کا نظام وہ اہم وجوہات جو شادی کو ناکام کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ ایک شادی کی ناکامی کی وجہ ایک سے زیادہ ہو سکتی ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ایک وجہ دوسری وجہ کو جنم دے سکتی ہے۔

اس ساری بحث کا ایک پہلو یہ ہے کہ دنیا کی کئی ممالک میں شادی کا رحجان کم ہو گیا ہے۔ ان ممالک میں خاص طور پر پرتگال، چلی، اٹلی اور سلووینیا، شامل ہیں۔ پرتگال کی مثال لے لیں۔ 1995 میں پرتگال میں ہر سال ایک ہزار کی آبادی میں 6.6 فیصد لوگ شادی کرتے تھے اور 2017 میں یہ شرح آدھی رہ گئی تھی۔ مغربی ممالک میں آئر لینڈ ایسا ملک کے ہے جہاں شادی کا رحجان بڑھا ہے۔ ان ممالک میں بغیر شادی کے ساتھ رہنے کا رحجان بڑھ رہا ہے۔

اور یہ رحجان افریقہ کے ممالک میں بہت زیادہ ہے۔ افریقہ کے کئی ممالک میں یہ بات عام ہے کہ جب شادی ہو تو اس جوڑے کے ایک دو بچے بھی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اکثر ممالک میں یہ رحجان سامنے آ رہا ہے کہ مرد اور عورتیں دونوں تاخیر سے شادی کر رہے ہیں۔ سویڈن میں اوسطاً مرد کی پہلی شادی 36.6 سال کی عمر میں اور عورت کی پہلی شادی اوسطاً 33.8 سال کی عمر میں ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ترکی میں مرد کی شادی اوسطاً 28 سال کی عمر میں اور عورت کی شادی 25 سال کی عمر میں ہوتی ہے۔

پاکستان میں بلوغت سے قبل عورتوں کی شادی کرنے کا رواج ایک زمانے تک بہت زیادہ رہا تھا لیکن اب قانون سازی کر کے اس پر کسی حد تک قا بو پایا گیا ہے۔ لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ دنیا کے بعض ممالک ایسے ہیں جن میں علیحدگی کا رحجان گذشتہ سالوں میں ہلکا سا کم ہوا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جس پر قابو نہ پایا جا سکتے۔ یہ پہلو بھی سامنے رہنا چاہے کہ ماں باپ کی علیحدگی کی صورت میں بچوں میں کم عمری میں ڈیپریشن جیسے نفسیاتی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں ہونے والی ایک تحقیق میں جب علیحدہ ہونے والے ماں باپ کے بچوں سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے کبھی وجہ جاننے کی کوشش کی کہ ان کے ماں باپ کیوں علیحدہ ہوئے تھے تو 66 فیصد نے جواب دیا کہ انہوں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی تھی کہ ان کا گھر کیوں بکھر گیا؟ اس تحقیق کے مطابق 43 فیصد علیحدگیاں تیسرے فریق کی مداخلت کی وجہ سے ہوئیں اور 19 فیصد علیحدگیوں کی وجہ مالی مسائل تھے۔ وٹا سٹا، نشے کی عادت، جنسی ہم آہنگی نہ ہونا، جسمانی اور جذباتی تشددبھی شادیوں کی ناکامی کی اہم وجوہات تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •