مشرقی پاکستان کے پس منظر میں لکھا گیا ناول ”خلیج“ از خالد فتح محمد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” تمام بڑی کتابیں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں اس لئے کہ یہ کتابیں جو کچھ حقیقت میں پیش آیا ہوتا ہے ان سے کہیں زیادہ سچی ہوتی ہیں اور جب ایسی ہی کوئی کتاب آپ پڑھ لیتے ہیں تو آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ آپ پر ہی بیتا ہے۔ “ یہ کہنا ہے ہیمنگ وے ؔ کا۔

ایسے مواقع بھی آ جاتے ہیں کہ جب لکھاری جنگ میں شامل ہو جائیں یا پھر جنگجو لکھاری بن جائیں۔ جارج اورویل ؔ سپین کی خانہ جنگی میں خود ایک رضاکار سپاہی کے طور پر موجود تھا اور کہا جاتاہے کہ اس جنگ پر جارج اورویل کی کتاب، ”قشتالیہ کی مدح میں *“ سے بہتر کوئی اور کتاب نہیں۔ 1936 ء میں سپین میں شروع ہونے والی خانہ جنگی بالاخر دوسری جنگ عظیم پر منتج ہوئی۔ اسی طرح 1971 کی مشرقی پاکستان میں برپا خانہ جنگی کے نتیجے میں بنگلا دیش وجود پزیر ہوا۔

خالد فتح محمد کا ناول ”خلیج“ ایسی ہی ایک دستاویز ہے اگرچہ یہ کوئی سیاسی دستاویز نہیں ہے او رنہ ہی اس میں سیاسی معاملات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ یہ سراسر ایک جنگ نامہ ہے جسے ایک فوجی کی نظر نے جیسے دیکھا ویسے ہی اس کا اظہار کر دیا۔ خالد فتح محمد اس جنگ میں بطورفوجی خود شریک رہے۔ یہ کسی حد تک ان کا سوانحی ناول ہو سکتا ہے کہ بہرحال بڑے ناولوں میں موجود لکھاری کے اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدات ہی اسے ایک بڑا ناول بناتے ہیں۔

ایسے ناول اگرچہ سیاسیات کے بہت سے دوسرے پہلوؤں کو اجاگر نہیں کرتے لیکن ایسے ناول جنگی حالات کو ضرور واضح کرتے ہیں۔ خلیج ایک جنگی ناول تو ہے لیکن یہ سیاسی ناول نہیں ہے۔ یہ ایک سیدھا سا ناول ہے جس میں زندگی کا فلسفہ تو موجود ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ فلاسفروں کا فلسفہ موجود نہیں ہے۔ انسانی باطن میں چھپے رازوں کو اشکار کرنا ہی دانائی ہے اور یہی ایک لکھاری کا کام۔ وہ خود نہیں جانتا ہوتا جب وہ لکھ رہا ہوتا ہے کہ وہ کتنا گہرائی میں چلا گیا ہے اور انسانی باطن کی تہوں سے کیا کیا کھوج کر باہر لے آیا ہے۔

ایک جنوئن لکھاری یقینا کہانی کے بہاؤ او ربیانئے سے ہی اپنی دھاک بٹھاتا ہے بلکہ دھاک بھی شاید مناسب لفط نہ ہو اس احساس کو کچھ اور نام دینا چاہیے۔ خالد فتح محمد کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جتنا بھی جنگ کے بارے میں ادب لکھا گیا وہ جذبات اور نفرت پر مبنی تھا۔ صحیح ادب وہی ہوتا ہے جو وقوعے کے چالیس پچاس سال بعد لکھا جائے یہ بات کسی حد تک شاید درست بھی ہو کہ بعد میں لکھے جانے والے ادب کو بھی یہی ادب بہرحال بنیادیں مہیا کرتا ہے۔ ایسا ہی مشرقی پاکستان کے المیے کے متعلق کہا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ناول 2008 ء میں لکھا گیا جب کہ اس وقوعے کو بیتے 37 برس بیت چکے تھے۔

1936 ء میں سپین کی خانہ جنگی کی رپورٹنگ کے لئے ہمینگ وے ؔ بھی اس جنگ میں جنگی رپورٹر کے طور پر شریک ہوا تھا اور سپین کی اس خانہ جنگی کے مشاہدت کی بنیاد پر ہی ہیمنگ وے ؔنے ”فار ہوم دی بیل ٹولز“ لکھا تھا۔ بالکل اسی طرح خالد فتح محمد بھی مشرقی پاکستان کی جنگ میں ایک فوجی کے طور پر شامل رہے اور ان کا ناول ”خلیج“ ان کے ذاتی تجربات اور مشاہدات پر مبنی ایک ایسی تحریرہے جسے ایک ناول کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔

جیسا کہ اوپر کہا گیا یہ ایک سادہ سا ناول ہے جس میں کوئی پچیدگی نہیں ہے نہ ہی اس ناول میں کوئی زیادہ کشمکش ہے۔ ایک فوجی کی سادہ سی روداد ہے جس میں اس کے فرائض کی بجا آواری کے دن رات ہیں جو بیان ہوئے ہیں۔ کب یہ ناول ایک محبت کے ناول میں تبدیل ہو گیا پتا ہی نہیں چلتا۔ خالد فتح محمد بیانئے کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ جذبات تعمیر کرنے کی بجائے ایسی شچوائشن بنانے کی کوشش کرتے ہیں جس میں جذبات ہوں۔ یہ ایک ایسا جنگی ناول ہے جس میں جا بجا جنگی اصطلاحات کا استعمال کر کے ناول نگار نے اپنی علم دانی کی دھاک بٹھانے کی کوشش نہیں کی۔

اس ناول میں کردار محدود ہیں ان کی کشمکش بھی محدود ہے۔ ساری کہانی ایک کردار افضل کے گرد گھومتی ہے۔ سیدھی سیدھی ایک کہانی ہے اس میں جنگ کی تباہ کاریوں کا ذکر نہیں ہے۔ حقیقت کے قریب بیانیہ ہے چیزوں کو نہ تو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے نہ ہی بلا وجہ مختلف جنگی معاملات کو اس ناول میں گھسیٹا گیا ہے۔ ناول کے اختتام تک پہنچے پہنچتے ایک کشمکش کا آغاز ہو جاتا ہے اور اس طرح یہ ناول ہیمنگ وے ؔکے ناول وداع جنگ کے قریب چلا جاتا ہے کہ وہاں بھی ایک کشمکش موجود ہے۔

بنارس کی صبح، اودھ کی شام اور بنگال کا جادو ؛کہاوتوں کی حد تک سنا تھا پھر پتا چلا کہ صبح بنارس اس لئے خوب صورت ہوتی ہے کہ صبح کے وقت بنارس میں دریائے گنگا کہ کنارے عورتیں اشنان کرتی ہیں اور اس سے خوب صورت کوئی او رمنظر نہیں ہوتا۔ شام اودھ میں موسیقی کا جادو ہے کہ شام ہوئی نہیں اور موسیقی کی مترنم تانیں ہر سوبکھرنا شروع ہو گئیں۔ اب پتا چلا کہ بنگال کے جادو کا مطلب کیا ہے۔ بنگال کا جادو دراصل وہاں کی عورت میں پنہاں ہے۔

وہ اپنے شکار کے گرد اپنی زلف گرہ گیر اور جسم کا ایسا جالا بنتی ہیں کہ وہ ان کے اشاروں پر رقص کرنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ اپنی آنکھوں سے شکار کرنا شروع کر تی ہیں، اپنے ہونٹوں سے شکار کو جکڑتی ہیں اور پھر جسم سے بے بس کر دیتی ہیں۔ یہ ان کی تہزیب کا حصہ ہے انہیں اس سارے عمل کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس طرح جادو سے مراد ٹونا نہیں ہے یہ ایک پریکٹیکل صورت حال ہے جس کا سامنا بنگال میں موجود ہر نووارد کرتا ہے۔ ایسی ہی صورت حال کا شکار ”خلیج“ کا ہیرو افضل بھی ہوتا ہے اور ناول کا کلائیمکس یہی کشمکش ہے۔

”خلیج“ میں تاریخی واقعات بھی درست ہیں اور بنگالیوں کے سائیکو انیلیسز بھی بہت خوب ہیں اور یہی اس ناول کو ایک بڑا ناول بناتے ہیں۔ کہانی میں ایک حقیقت کا گماں گزرتا ہے۔ بظاہر یہ ایک ذاتی روداد ہے جسے ادبی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے پس منظر میں لکھا گیا یہ اہم ناول ہے کہ یہی ہماری تاریخ ہے ہم نے 16 دسمبر 1971 ء کو مشرقی پاکستان کھو دیا تھا جس کا مداوہ ہم آج تک نہیں کر سکے۔ ویسی ہی سازشیں آج بھی اپنے عروج پر ہیں۔

*Homage to Catalonia

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •