یہ 6 دسمبر 1992ء کا ذکر ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ 6 دسمبر 1992 ء کی ملگجی اور اداس دوپہر تھی۔ اتوار کا دن۔ جب اوچ شریف کے متروک ریلوے لائن کے ساتھ واقع ماسٹر احسان انجم صاحب کے سکول میں دوسری جماعت کا آٹھ سالہ طالب علم نعیم احمد ناز جو اہل و عیال اور ہم جماعت دوستوں میں نومی کی عرفیت سے جانا جاتا تھا، درگاہ حضرت محبوب سبحانی کے کُپ (مقبرہ موسیٰ پاک شہید کے اندر) میں دسمبر ٹیسٹ کے سلسلے میں ماسٹر مرید احمد صاحب کے زیر نگرانی پرچہ دے کر تھکا ہارا گھر واپس آیا تو اس کا واسطہ صحن میں چارپائی پر خنک دھوپ اوڑھے اپنے ابا جی سے پڑا جو ریڈیو پر خبریں سماعت کرتے ہوئے ”کِراڑوں“ کو برا بھلا کہتے ہوئے دو قومی نظریہ کی افادیت اور حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے احسانات کو یاد کر رہے تھے۔

نومی کو دیکھ کر کہنے لگے کہ آج جنونی ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا ہے۔ ادھر دوسری جماعت کا نومی نہ بابری مسجد کے بارے میں کچھ جانتا تھا اور نہ یہ جانتا تھا کہ نظریہ پاکستان کس چڑیا کا نام ہے۔ جو قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی اپنی اردو کی کتاب میں شامل ایک نصابی مضمون کے حوالے سے جانتا تھا۔

وہ میاں محمد نواز شریف کی وزارت اعظمیٰ کا پہلا دور حکومت تھا۔ ہمارے ”محبوب“ جنرل ضیاء الحق کو ”جنت آشیانی“ ہوئے ابھی چار سال ہی گزرے تھے لہذا ملکی جمہویت ابھی ”پالنے“ میں تھی۔ غرضیکہ راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔ دوسرے دن ابو کی زبانی نومی کو ”نوائے وقت“ سے پتہ چلا کہ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں لاکھوں انتہا پسند ہندوؤں نے مغل دور کی یادگار بابری مسجد پر یلغار کر دی۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی انہوں نے مسجد کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا اور اس ملبے پر راتوں رات ایک مندر تعمیر کر لیا۔

بابری مسجد 1527 ء میں پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے تعمیر کروائی تھی۔ کئی صدیوں تک یہ مسجد، مسلمانوں کی عبادت گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی اور اس مسجد کے بارے میں کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوا۔ مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد 1885 ء میں ہندو انتہا پسندوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مسجد جس مقام پر تعمیر کی گئی ہے وہاں رام چندر جی نے جنم لیا تھا لہٰذا اس مسجد کو شہید کر کے یہاں مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے۔

یہ دعویٰ اتنا بے بنیاد تھا کہ جج نے جو خود بھی ہندو تھا، محض پانچ دن کی سماعت کے بعد اس مقدمے کو خارج کر دیا۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد یہ مسئلہ ایک مرتبہ پھر جڑ پکڑ گیا اور ہندوؤں نے اس مسجد کے مقام کو ایک مرتبہ پھر متنازع بنانے کی کوشش کی۔ 22 دسمبر 1949 ء کو کسی نے اس مسجد میں رام اور سیتا کے مجسمے رکھ دیے، اس واقعے کے بعد ہندوؤں اور مسلمانوں میں کشیدگی پیدا ہوئی اور حکومت نے اس مسجد کو مقفل کر دیا۔

اس کے بعد یہ معاملہ کئی دہائیوں تک جوں کا توں رہا تاہم جب 1990 ء میں بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو 6 دسمبر 1992 ء کو یو پی کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ کے ایما پر ہندو انتہا پسندوں نے اس مسجد پر حملہ کر کے اسے شہید کر دیا۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہندوستان بھر میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے جس میں اندازاً 2 ہزار مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

اس سانحے پر پوری پاکستانی قوم بھی سراپا احتجاج بن گئی۔ حکومت پاکستان نے 8 دسمبر 1992 ء بروز منگل کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا، اس روز تمام دفاتر اور کاروباری مراکز بند رہے اور ملک بھر میں احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ اوچ شریف میں بھی چیئرمین ٹاون کمیٹی مخدوم سید غلام اصغر بخاری کے زیر قیادت بلدیاتی نمائندگان اور عوامی و سماجی حلقوں نے میونسپلیٹی آفس سے ”باب رحمت“ تک مشترکہ جلوس نکالا اور نعرے بازی کی۔ اس موقع پر الشمس چوک پر ٹائر جلا کر سڑک بلاک کر دی گئی۔ ملتان میں مشتعل ہجوم نے بابری مسجد کی شہادت کا بدلہ چُکاتے ہوئے قلعہ کہنہ قاسم باغ پر ہزاروں سال سے موجود پرہلاد کے دانش کدہ (جسے طرز تعمیر کی وجہ سے مندر کہا، لکھا اور بولا جاتا تھا) کو مسمار کر دیا۔

10 دسمبر کو وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اس مسئلے پر مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی تمام سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس طلب کر لیا۔ اس اجلاس میں قائد حزب اختلاف محترمہ بے نظیر بھٹو سمیت اپوزیشن کی نمائندہ سیاسی جماعتوں نے تو شرکت نہیں کی تاہم کچھ چھوٹی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس کے اختتام پر اعلان اسلام آباد جاری کیا گیا جس میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بابری مسجد کو فوری طور پر ازسرنو تعمیر کیا جائے، بھارت میں تمام مساجد کو تحفظ فراہم کیا جائے اور مسلمانوں کے جان و مال اور املاک کو جو نقصان پہنچا ہے بھارتی حکومت اس کا معاوضہ ادا کرے۔

ادھر ہندوستان میں یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر عدالت تک جا پہنچا۔ اپریل 2002 ء میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے بابری مسجد اور رام مندر کی جگہ کے مالک کا تعین کرنے کی سماعت شروع کی۔ 30 ستمبر 2010 ء کو الہٰ آباد کورٹ نے فیصلہ سُنایا کہ اِس جگہ کو 3 حصوں میں تقسیم کیا جائے، جس کے بعد ہندو گروپوں اور مسلم گروپوں نے ہائی کورٹ کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ 2011 ء میں سپریم کورٹ نے الہٰ آباد ہائی کورٹ کو کیس کی سماعت روک دی اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو عجیب اور حیران کن قرار دیا۔

رواں سال کے شروع میں بھارت کی سپریم کورٹ میں 5 ججوں کے آئینی بنچ نے 6 اگست سے روزانہ اِس کیس کی سماعت شروع کی اور یہ روزانہ کی سماعت 40 دن کے بعد 16 اکتوبر کو ختم ہو گئی۔ 9 نومبر کو بھارتی سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے بابری مسجد کی اراضی ہندوؤں کو دینے اور مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دینے کا حکم سنایا۔

آج جنونی ہندوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت کو 27 برس مکمل ہو گئے ہیں۔ 27 سال قبل جس آٹھ سالہ بچے نے اس مسجد کی شہادت کو شدت سے محسوس کیا تھا، وہ دکھ، کرب اور شدت آج 35 برس کی عمر میں بھی اس کے ہمرکاب ہے۔ 6 دسمبر 1992 ء کی ملگجی، بے نور اور اداس دوپہر ابھی تک اس کے بوسیدہ وجود میں بے بسی سے دھمالیں ڈالتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •