میں پنجاب یونیورسٹی میں کسی ناانصافی کے خلاف آواز کیوں نہ اٹھا سکا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تعلیمی اداروں میں حصولِ علم کے لئے آنے والے طلباء کی طرح مجھے بھی اپنی یونیورسٹی سے والہانہ محبت اور دلی لگاؤ ہے میرا پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔ اس کے درو دیوار، گراؤنڈز، ہاسٹل، کلاس رومز، ہاسٹل کے کمرے، مسجد اور میس ہال سے میرا ایک روحانی رشتہ قائم ہے۔ اس جامعہ میں ملازمت کرنے والے اساتذہ، کلرک، خاکروب، مالی، سیکیورٹی گارڈز اور کینٹینوں پر کام کرنے والے محنت کشوں سب کے ساتھ ایک خوبصورت اور خاندانی رشتوں سا رشتہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس جامعہ میں تقریباً سات سال گزارنے کے باوجود میرا کسی سے بھی لڑائی، جھگڑا حتیٰ کہ تلخ کلامی تک نا ہوئی۔ شاید میرا جرم یہ تھا کہ میں ہر اس نا انصافی پر آواز اٹھانے کی کوشش کی جس کا سامنا اس جامعہ میں پڑھنے اور رہنے والے ہر عام انسان کو کرنا پڑتا ہے اور آواز اٹھانے کے اس عمل کو سیاست قرار دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کی حالیہ مثال مجھے میری اس جامعہ سے نکالا جانا ہے۔ اور جس جرم کی پاداش میں مجھے ایک ناپسندیدہ طالب علم قرار دیا گیا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے اور میرے جیسے چند سر پھروں نے یونیورسٹی میں بسوں کی کمی کے خلاف احتجاج کیا، جسے یونیورسٹی کو بدنام کرنے اور سیاسی سرگرمی میں ملوث پائے جانے پر موردِ الزام ٹھہرا تے ہوئے میرے یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔

میں نے اس جامعہ میں تقریبًا سات سال گزارے جس دوران تین ڈگریاں کرنے کی کوشش کی۔ سب سے پہلے سیاسیات میں پوزیشن کے ساتھ ایم اے، بعد میں ایم ایس سی سوشیالوجی، اور پھر ایم فل پاکستان سٹڈی میں داخلہ لیا۔ کچھ معاشی حالات کی وجہ سے فیس ادا نہ کر سکا، جس کی بنا پر میری ایم فل کی ڈگری لیٹ ہوتی گئی۔ تدریسی عمل کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی بھر پور حصہ لیتا رہا اسی لئے کہا جاسکتا ہے کہ مجھے تین شعبوں، ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افئیرز اور ہاسٹل کی سیاست کا بغور مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔

جن میں اساتذہ کی آپسی سیاست، آسا کے الیکشن میں جوڑ توڑ، ایک طلبہ تنظیم کی اجارہ داری، کونسلز، انتظامیہ اور جمیعت کے جھگڑے، انتظامیہ کا اپنے مفادات کے لئے طلبہ کا استعمال، معصوم طلبہ پر انتظامیہ کا ذہنی اور ایک تنظیم کا جسمانی تشدد بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ مگر میں صرف دیکھتا رہا کیونکہ ان تمام پر سوال کرنا جامعہ میں سیاست کرنے کے مترادف تھا اور چونکہ ہمیں ایک غیر قانونی ایفی ڈیوٹ کے ذریعے سیاست سے دور رہنے کا حلف نامہ لیا جاتا تھا۔ اور ان تمام پر سوال اٹھانا جامعہ کو بدنام کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن جب میری جامعہ کی ایک لڑکی بس میں جگہ نا ہونے کے باعث اس پر چڑھتے اس کے نیچے آ کر مرگئی۔ مگر میں اس کی موت کا ذمہ دار اس نظام کو نا ٹھہرا سکا کیونکہ ایسا کرنا سیاست ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن جب میں اپنی بہن کے ساتھ یونیورسٹی گراؤنڈ میں بیٹھا تھا تو ایک تنظیم کے نوجوانوں نے آکر ہمیں دھمکیاں دیں، اور ہمیں انہیں بہن بھائی ثابت کرنے کے لئے اپنے شناختی کارڈز دکھانے پڑے۔ اس شرمندگی کا ذمہ دار میں اس نظام کو نا ٹھہرا سکا کیونکہ ایسا کرنا سیاست ہے۔

مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن جب اے پی ایس واقعے کے بعد میرے سمیت بہت سے طلبہ کو ہاسٹلز سے نکال دیا گیا، اور میں نے رشتہ داروں کے گھروں رہ کر اپنی سردیاں گزاریں، فاٹا، بلوچستان، سندھ اور دور دراز سے آئے طلبہ نے سڑکوں پر راتیں گزاریں، مگر میں اس کا ذمہ دار اس نظام کو نا ٹھہرا سکا کیونکہ ایسا کرنا سیاست ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن جب میں اپنی بہن کے ساتھ ایڈمن بلاک جارہا تھا تو اسی دن پشتون کلچرل ڈے پر حملہ کیا گیا۔

گروپوں کے تصادم میں پولیس کی آنسو گیس نے میری بہن کی آنکھوں کو تکلیف پہنچائی مگر میں اس کا ذمہ ذار کسی کو قرار نا دے سکا، کیونکہ ایسا کرنا سیاست ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن جب سوشیالوجی کی کلاس میں فیس جمع نہ کروانے پر مجھے بھرے کمرہ امتحان سے نکال دیا گیا، اس سلوک پر میں سوال نا اٹھا سکا، کیونکہ ایسا کرنا سیاست ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن جب میرے استاد عمارعلی جان یونیورسٹی کلاس پڑھانے آئے تو اِنھیں معلوم ہوا کہ انھیں نکال دیا گیا ہے۔

میں اپنے استاد کی ایسی بے عزتی پر سوال نہ اٹھا سکا کیونکہ ایسا کرنا سیاست ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن جب میری کلاس فیلو نے مجھے خود کے ساتھ ہونے والی جنسی ہراسانی کی دکھ بھری کہانی سنائی، مگر میں اس کی مدد نہ کر سکا کیونکہ ایسا کرنا سیاست ہے۔

مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن جب میری بہن کو ہاسٹل لیٹ آنے پر اس کی وارڈن نے وہ جملے کہے جو شاید ایک بھائی نہ سن پائے مگر میں اسے کچھ نہ کہہ سکا کیونکہ ایسا کرنا سیاست ہے۔

مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن میرے انتہائی شفیق استاد ڈاکٹر اقدس علی کاظمی کو چھے ماہ کی تنخواہ دیے بغیر ایک نوٹس کے ذریعے گھر بھیج دیا گیا۔ میں اپنے استاد کے اُس دکھ کا ازالہ نا کر سکا کیونکہ ایسا کرنا سیاست ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن جب میں نوکری کا انٹرویو دے کر ہاسٹل واپس آرہا تھا تو روڈ پر پولیس کی گاڑیاں کھڑی دیکھ کر پتہ چلا کہ ہاسٹل میں ایک لڑکی نے خود کشی کر لی مگر بے بس ہو کر میں نے اپنی موٹر سائیکل آگے نکال لی، میں اس خود کشی کا ذمہ دار اس نظام کو نا ٹھہرا سکا کیونکہ ایسا کر سیاست ہے۔

مجھے آج بھی یاد ہے وہ دل دہلا دینے والی رات جب میں اور میرا دوست عظمت برکت مارکیٹ سے واپس آرہے تھے تو یونیورسٹی کے ہاسٹل روڈ پر ہاسٹل نمبر ایک کے درزی کی خون سے لتھڑی لاش پڑی تھی۔ مگر کوئی سی سی ٹی کیمرہ آج تک اُس محنت کش نوجوان کے قاتل کا سراغ نہ لگا سکا۔ میں ایسی سیکیورٹی پر سوال نا اٹھا سکا کیونکہ ایسا کرنا سیاست ہے۔

یہ وہ یادداشت ہے جو شاید اس یونیورسٹی کے تمام طلباء کی ہے۔ مگر چونکہ من حیث القوم بھلکڑ ہیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ پچھلے مسئلے کو بھلانے کے لئے نیا مسئلہ کھڑا کر دیا جاتا ہے اور ہر دفعہ اپنی غلطیاں تسلیم کرنے کی بجائے سارا ملبہ ان پر پھینک دیا جاتا ہے جنہیں سیاست کرنے کی اجازت نہیں۔

یہ وہ نظام ہے جہاں وی سی آفس سے لے کر خاکروب کے سٹور روم تک میں سیاست ہوتی ہے، مگر جن کی بنا پر ہورہی ہے ان کی سیاست ممنوع ہے۔ اس تاریخی اور خوبصورت جامعہ کو کارخانہ بنا دیا گیا ہے جہاں سے نیو لبرل اکانومی کو چلانے کے لئے روبورٹس اور مشینیں تیار کی جاتی ہیں۔ تنقیدی، تعمیری اور تخلیقی سوچ کو دبایا جاتا ہے۔ اور کھلی فضا کے ماحول کو گُھٹن زدہ کال کوٹھڑی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

شاید میں نے اس جامعہ سے وہ سیکھا جو کوئی نا سیکھ سکا۔ مجھے یہ تمام سوالات اٹھانا میری اسی جامعہ نے سکھایا ہے، اس ظلم کے خلاف بولنا بھی اسی جامعہ نے سکھایا ہے۔ ظلم و بربریت کے اس نظام کے خلاف بغاوت بھی اسی جامعہ نے سکھائی۔ اس نظام کو بدلنے کا عزم ہمت اور حوصلہ بھی اسی جامعہ نے دیا کیونکہ میری یہ جامعہ مجھے صرف پڑھنا نہیں سوچنا سکھاتی ہے۔ مجھے سکھاتی ہے کہ اپنے حقوق کے لئے سیاست کرنا از حدضروری ہے۔

تا کہ یہ جامعہ تنقیدی اور تخلیقی سوچ پیدا کر سکے۔ جہاں سب کو مفت اور معیاری تعلیم مل سکے۔ جہاں کوئی خود کشی نا کرے۔ جہاں سب کو ہاسٹل مل سکیں، جہاں سوال کرنے کی آزادی ہو، جہاں اساتذہ کو عزت دی جائے، جہاں تمام بہنیں جنسی ہراسانی سے محفوظ رہیں، جہاں نئے ادیب، شاعر، سیاستدان، انجئییرز، اور سائنسندان پیدا ہو سکیں۔ جہاں مباحثے ہوں، جہاں امن ہو، جہاں کسی بھی جنسی، مذہبی اور علاقائی شناختوں کی تفریق کے بغیر محبت پروان چڑھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •