سر طارق احمد، میرے استاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تقریبا پندرہ سال قبل اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں ایم اے انگریزی کرنے گئے تو پہلے تین ماہ پتہ ہی نہ چلا کہ ہم کیا پڑھ رہے اور استاد کیا پڑھا رہے۔ کچھ بھی پلے نہ پڑا۔ ایک تو ہم پینڈو تھے دوسرے بی کام کر کے انگریزی ادب پڑھنے گئے۔ اللہ قسم حواس باختہ ہو گئے کہ یا رب یہ ہم کہاں پھنس گئے۔ سب طلبا مایوس تھے۔ ناکامی دانت نکوسے سامنے کھڑی دکھائی دیتی تھی۔

پھر ہم کرشن نگر طارق احمد صاحب کے گھر پڑھنے جانے لگے۔ گویا گھپ اندھیری رات میں راستہ سجھائی دینے لگا۔ ہماری مایوسی کی شام میں طارق صاحب کی ادبی، تنقیدی، مزاحیہ، علامتی، سادہ اور شگفتہ باتوں کے جگنو ٹمٹمانے لگے۔ ڈرامہ، ناول، شاعری، نثر کی پر پیچ تہیں وہ یوں کھولتے تھے جیسے ایک بنجارا بین بجا رہا ہو اور موسیقی سے سننے والے مسحور ہو کر رہ گئے ہوں۔ جیسے اندھیری گلی میں سرراہ دیا جلا کر کسی نے رکھ دیا ہو اور بھٹکتے راہگیر سنبھل گئے ہوں۔

مشکل بات کو آسان اور عام فہم انداز میں سمجھانا طارق صاحب سے بہتر کسی کو نہ آتا تھا۔ جو لفظ ان کے منہ سے نکلتے وہ ہمارے دل میں اترتے جاتے۔ ہمارے تو گویا بھاگ جاگ گئے تھے۔ انگریزی ادب کے وسیع سمندر سے وہ موتی چنتے اور ہمارے دامن میں انڈیل دیتے۔ علم و آگہی کا ایک فوارہ پھوٹ پڑتا اور ان کے شاگرد سیراب ہوتے جاتے۔ سر طارق کا مشاہدہ بہت حیران کن اور گہرا تھا۔ بدیسی ادب پڑھاتے ہوئے وہ دیسی مثالیں دیتے اور مقامی حالات سے موازنہ یوں کرتے کہ ہم عش عش کر اٹھتے۔

وہ ہمت بندھانا جانتے تھے۔ طالب علموں کو انسپائر کرنا، اچھا پڑھانا، ہر پہلو سمجھانا اور آگے بڑھنے کے لئے کمر تھپکانا ان کا خاصہ تھا۔ ایک استاد کو ایسے ہی ہونا چاہیے۔ کاش میں بھی ان جیسا پڑھا سکتا!

سر طارق احمد کے گھر پڑھنے کا پہلا دن تھا۔ برآمدے کے ایک کونے میں سر طارق سے میں نے مالی دشواری اور فیس کم دینے کی سرگوشی کی تھی۔ وہ ہنس دیے تھے۔ میری کمر تھپکا کر کہا تھا ’فیس کی فکر نہیں کرو بس محنت سے پڑھو‘ ۔ وہ تھپکی اور ان کی حسین مسکراہٹ آج بھی میری یادوں میں پڑی کھلکھلا رہی ہیں۔

وہ دن بھی مجھے یاد ہے جب ہمارا ایم اے انگلش پارٹ ون کا رزلٹ آیا تھا۔ میں تمام پیپرز میں اچھے نمبروں سے پاس ہوا تھا۔ کالج میں اکلوتا کامیاب ہوا تھا۔ جب پڑھنے کے لئے سر طارق احمد کی بیٹھک میں داخل ہوا تو انہوں نے نشست سے کھڑے ہو کر فرط جذبات سے مجھے گلے لگا لیا تھا اور میرا ماتھا چوما تھا۔ وہ بے حد خوش تھے۔ بار بار میری کمر تھپکا رہے تھے۔ ان کی وہ خوشی اور وہ داد میں کیسے بھول سکتا ہوں۔

ہمارے کالج کے حبیبیہ ہال میں ایک تقریب ہو رہی تھی۔ ہماری کلاس اپنے سینیئرز کو الوداعی پارٹی دے رہی تھی۔ سٹیج پہ میں مزاحیہ خبریں پڑھ رہا تھا۔ ہال اساتذہ اور طلبا سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ پورے کالج کی تمام کلاسز سے لڑکے ہال میں امڈ آئے تھے۔ ہال کی دونوں منزلوں میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ ان خبروں میں طارق احمد صاحب کے بارے میں نے یہ سطریں بولیں۔ ”تازہ اطلاع کے مطابق آج صبح کالج لائبریری سے آج کا اخبار چوری ہو گیا تھا۔

دو گھنٹے کی انتھک تلاش کے بعد اخبار سر طارق کی انیس سو پینسٹھ ماڈل کٹھارہ گاڑی سے برآمد کر لیا گیا۔ سب حیراں تھے کہ سر طارق احمد اخبار کیوں کھسکا رہے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ اخبار پر ضرورت رشتہ کے اشتہارات تھے۔ ”یہ سن کر سر طارق سمیت پورا ہال تالیاں بجا رہا تھا۔ جب میں سٹیج سے اترا تو انہوں نے تھپکی دی۔ میں نے پوچھا سر آپ ناراض تو نہیں ہوئے۔ ہنس کر جواب دیا کہ ’نعیم! پورے کالج کے سامنے تو نے میرا نام لیا، ذکر کیا۔ یہ تیری محبت ہے مجھ سے‘ ۔ ایسی داد دینا صرف سر طارق احمد ہی جانتے تھے۔

اسلامیہ کالج کا ایک احسان یہ بھی ہم پر ہے کہ اس نے سر طارق جیسے اساتذہ دیے۔ اپنے شاگردوں کو خواہشات پالنے اور انہیں پانے کی مسلسل سعی کرتے رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ وہ یہ شعر اکثر سناتے تھے

تو ہی ناداں تھا چند کلیوں پہ قناعت کر گیا

ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی تھا

وہ مین آف ایکشن تھے۔ دو ہزار چار کے آخر میں وہ انگلستان چلے گئے تھے۔ بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھا اور پھر اسے پورا کرنے نکل پڑے۔ کالج کی ملازمت چھوڑی، گھر گاڑی سب بیچ دیے۔ گویا سب کشتیاں جلا کر گئے۔ ہمیں وہ کہتے تھے کہ واپس مڑنے کی آس ہوئی تو وہاں کامیابی نہیں ملے گی۔ آج ان کے بچے ماشا اللہ کامیاب اور خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ دن اخبار میں مکتوب برطانیہ کے نام سے کالم باقاعدگی سے چھپتا رہا۔

برطانیہ میں رہتے ہوئے پاکستانی ادیبوں سے رابطے مضبوط رکھے۔ ادبی نشستوں اور مشاعروں کا حصہ بنے رہے۔ مجھے یاد ہے کالج میں انگریزی ڈیپارٹمنٹ کے ایک کونے میں قلم کاغذ لے کر بیٹھ جاتے اور اپنی مخصوص سپائڈری لکھائی میں شاہکار کالم تخلیق کر ڈالتے۔ ان کے الفاظ پر اثر ہوتے تھے۔ پاکستان کی محبت سے لبریز الفاظ جمہوریت کی حمایت کرتے تھے۔ ان کی نثر مختصر، جامع، آسان، پر لطف، مدلل اور بہتے دریا کی سی روانی رکھتی تھی۔ انہوں نے مجھے اپنی کتاب ”طارق الدنیا“ تحفے میں دی تھی۔

ایک ڈائری بھی ہے جس پہ میرے لئے کچھ نصیحتیں اور نیک خواہشات انہوں نے اپنے ہاتھوں سے لکھی تھیں۔ ’پیارے نعیم، خواب دیکھتے رہنا۔ بڑے خواب۔ پھر ان کو حاصل کرنے کی جدوجہد کرتے رہنا۔ یہی زندگی ہے۔ ‘ وہ کتاب اور ڈائری مجھے بے حد عزیز ہیں۔

مجھے اکثر کہتے تھے کہ نعیم تم میرے نقش قدم پہ چل رہے ہو۔ میرے پکے شاگرد ثابت ہوئے ہو۔ میں نے پولیس کی نوکری چھوڑی اور لیکچرر ہوا۔ تم نے بھی ایسا ہی کیا۔ اب میں برطانیہ آ گیا ہوں تم بھی پی ایچ ڈی کرنے آ جاؤ یہاں۔ بہت حوصلہ دیتے تھے کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کا۔ خدا کروٹ کروٹ ان پہ رحمت کرے۔

میں نے سوچ رکھا تھا کہ اب کی بار سر پاکستان آئے تو اپنے شہر آنے کی دعوت دوں گا جو وہ بخوشی قبول کر لیں گے۔ ان کو اپنا گاؤں دکھاوں گا۔ ان کی ہنسی میں گندھی باتیں سنوں گا۔ ان کی تھپکی لوں گا تو جینے کا حوصلہ بڑھ جائے گا۔ مگر میرے گاؤں آنے سے پہلے ہی اجل انہیں نیو کاسل کے ویسٹ روڈ قبرستان میں لے گئی۔ حیراں ہوں کہ سر طارق ایسے زندگی سے بھرپور لوگ بھی شہر خموشاں میں جا بستے ہیں۔ تمنا ہے کہ میں سر طارق احمد ایسا استاد بن سکوں۔ ان کے جیسا لکھنا چاہتا ہوں۔ ان جیسا انسان بننے کی امنگ ہے۔

ان کے انتقال کی خبر سن کر صدمہ پہنچا ہے۔ یوں لگا جیسے شفقت بھرا ہاتھ سر سے سرک گیا ہو۔ جیسے گھپ اندھیرے میں مسافر کا دیا بجھ گیا ہو اور وہ زور زور سے آنکھیں جھپک کر راہ ٹٹول رہا ہو۔ جیسے سر شام ٹمٹماتے جگنو ناپید ہو گئے ہوں۔ جیسے بنجارے کی بین کی مدھر تان ایک دم ٹوٹ گئی ہو۔ جیسے اسلامیہ کالج کے حبیبیہ ہال میں تالیوں کی گونج ٹھہر گئی ہو اور سناٹا چھاگیا ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 49 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti